تیسرا سبق: تقویٰ

147

مرتب: عتیق الرحمن
مطالعہ قرآن
’’اے ایمان والو! دل میں اللہ کا ویسا ہی خوف رکھو جیسا خوف رکھنا اس کا حق ہے، اور خبردار! تمہیںکسی اور حالت میں موت نہ آئے بلکہ اسی حالت میںآئے کہ تم مسلمان ہو‘‘۔ (آل عمران)
عربی زبان میں وقیٰ یَقِی کے معنیٰ ہیں کسی شے کی ضرر سے اپنے آپ کو بچانا اسی سے اِتقَاء ہے جو قرآن میں کئی معنوں کے لیے استعمال ہوا ہے، مثلاً
(1) جس چیز سے نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو اس سے محفوظ رہنا۔ (2) کسی آفت سے ڈرنا (3) اللہ کے حضور خشیت یعنی ڈرنا جیسا کہ ’’اگر تم اللہ سے ڈرتے رہو گے تو وہ تمہارے لیے فرقان نمایاں کردے گا‘‘ (الانفال 29)
(4) اللہ کی حدود کو توڑنے، اس کی امانتوں میں خیانت کرنے، اور اس سے کیے گئے عہد کی بے حرمتی کرنے اور اس کے نتائج سے اللّہ کے غضب کی بناء پر بچنا۔
قرآن میں مفعول کے بغیر جب بھی یہ لفظ آیا عموماً اس سے آخری معنی مراد ہیں اور اسی کے دوسرا معنیٰ ’’تقویٰ‘‘ ہے۔
قرآن میں ’’تقویٰ‘‘ کے استعال کا خلاصہ یہ ہے کہ: اول تقویٰ ہر شے کی زندگی اور اس کی ترقی کا محافظ ہے دوم تقویٰ زندگی کی اصل شاہراہ ہے ہرہر مرحلہ میں زندگی کے ہم رکاب ہے جو انسان کو غلط روی اور خطرات راہ سے بچا کر منزل مقصود تک پہنچاتا ہے سوم زندگی کی مادی و اخلاقی کسی بھی ترقی میں رکاوٹ نہیں ہے بلکہ یہ اس کی مادی یا روحانی ترقی درہم برہم کرنے کی چیزوں سے حفاظت کا ذریعہ ہے۔ چہارم: اس کے لیے کوئی ہیئت یا صورت نہیں سوائے اس کے زندگی کی فطرت میں جو حدودو قیود مقرر کردیے گئے ان کی پاسداری کی جائے۔ اصطلاح شریعت میں اللہ تعالیٰ نے جس چیز کا حکم دیا اس کو کرنے اور جس چیز سے منع کیا اس کو ترک کردینے کا نام تقویٰ ہے۔
تقویٰ کی حد رسول اللہؐ کے اس فرمان ہوتی ہے جس میں آپؐ نے فرمایا کی حلال و حرام واضح طور پر معلوم ہیں تو ان کو حلال و حرام سمجھا جائے لیکن ان دو کے درمیان کچھ چیزوں کے بارے میں قطعیت کے ساتھ نہیں کہا جاسکتا کہ حلال ہیں یا حرام ایسی صورت میں جو احتیاط کا پہلو اختیار کرکے مشتبہ چیزوں میں نہ پڑے وہ متقی مسلمان ہے اس لیے جو لوگ اونٹ نگلنے کے بعد مچھر چھان کر تقویٰ کی نمائش کرتے ہیں ان کا تقویٰ محض فریب ہے۔ پس تقویٰ زندگی میں کسی بھی نوعیت کے مطالبات اور ضروریات میں عدم توازن کا نام نہیں اسی طرح مباحات اور رخصتوں سے فائدہ اٹھانا تقویٰ کے منافی نہیں۔ کثرت سے نوافل یا عبادات ہی کو اصلی تقویٰ کا کام سمجھنا اور اقامت دین کی جدوجہد کو دین نہ سمجھنا بھی حماقت ہے تقویٰ کی ظاہری علامات ہی کو تقویٰ سمجھنا بھی ایک غلط روش ہے۔
سیدنا عمرؓ نے ابی بن کعب ؓ سے تقویٰ کے متعلق پوچھا تو جواب دیا ’’کیا کسی خاردار راستے پر پیدل چلے ہو؟ تو سیدنا عمر نے جواب دیا: ہاں تو اْبَی بن کعب نے فرمایا کہ ’’اس موقع پر کیا حکمت عملی اختیار کی؟ جواب دیا: اس کے لیے اہتمام کے ساتھ بڑی احتیاط سے کپڑے سمیٹ کر ڈرڈر کر چلتے ہوئے راستہ طے کیا تو سیدنا ابی ابی بن کعب نے فرمایا: یہی تقویٰ ہے۔
تقویٰ اور علم کا چولی دامن کا ساتھ ہے اس لیے کہ پہلے جاننا ضروری ہے کہ تقویٰ کسے کہتے ہیں پھر اسے اختیار کرنا۔
مطالعہ حدیث:
٭ سیدنا ابو ہریرہؓ کی روایت میں ارشاد نبوی ہے کہ رسول اللہ ؐ سے پوچھا گیا۔ کون سا عمل سب سے زیادہ لوگوںکو جنت میں داخل کرائے گا۔ جواب میں آپؐ نے فرمایا۔ تقویٰ اور حسن اخلاق۔ (ابن ماجہ)
٭ سیدنا عمر فاروقؓ نے سیدنا ابی بن کعبؓ سے تقویٰ کے بارے میں سوال کیا تو آپؐ نے جواب دیا کہ آپؐ کبھی کانٹوں والے راستے پر نہیں چلے۔ سیدنا عمر فاروقؓ نے جواب دیا کیوں نہیں۔ سیدنا ابی بن کعبؓ نے پوچھا۔ اس وقت تمہارا عمل کیا ہوتا ہے۔ تو سیدنا عمرؓ نے فرمایا کہ میں اپنے کپڑے سمیٹ لیتا ہوں اور کوشش کرتا ہوںکہ میرا دامن کانٹوں میں نہ الجھ جائے۔ آپؓ نے فرمایا۔ بس یہی تقویٰ ہے۔ (ابن کثیر)
٭ سیدنا انسؓ فرماتے ہیں کہ تم ایسے عمل کرتے ہو جو تمہاری نظر بال سے زیادہ باریک ہیں (یعنی بہت معمولی) لیکن ہم ان کاموں کو رسول اللہؐ کے زمانے میں ہلاک کر دینے والے کاموں میں شمار کرتے تھے۔ (بخاری)
سیرت صحابہ
ایک عبرت آموز واقعہ:اس سلسلہ میں علامہ عبد الرحمٰن صفویؒ نے اپنی کتاب ’’نزۃالمجالس‘‘ میں اور ابن کثیر نے تفسیر ابن کثیر میں ایک عبرت آموز واقعہ بیان فرمایا ہے کہ سیدنا فاروقِ اعظمؓ کے زمانے میں ایک شخص نوجوان، عبادت گزار اور پرہیزگار تھا، ایک عورت اس پر فریفتہ تھی، وہ اس کو مسلسل اپنی طرف مائل کرتی رہتی تھی، حتی کہ وہ نوجوان ایک دن اس کے گھر آ ہی گیا، لیکن اللہ تعالیٰ کی شان! اسی وقت اسے یاد آیا قرآن! جس میں فرمایا: ’’جو لوگ متقی ہیں، جب انہیں شیطان کی طرف سے کوئی خطرہ (گناہ کا) لاحق ہو جاتا ہے، تو وہ فوراً اللہ تعالیٰ کی یاد میں لگ جاتے ہیں‘‘۔ (الاعراف) یکایک اس کی حقیقی ایمانی آنکھ کھلی، خوابِ غفلت سے بیدار ہو گیا اور ارادئہ معصیت ترک کر دیا، اور اتنا ہی نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے خوف و خشیت کا اس قدر غلبہ اس پر ہوا کہ وہ بے ہوش ہو گیا، جب ہوش میں آیا تو پھر یہی آیت بار بار پڑھنے لگا، حتیٰ کہ پڑھتے پڑھتے جاں بحق ہو گیا۔
سیدنا عمرؓ کو اس واقعہ کا پتا چلا تو اس کی قبر پر تشریف لے گئے اور دعائے مغفرت کے بعد اس کی قبر سے مخاطب ہو کر فرمایا: ’’اے نوجوان! وَلِمَن خَافَ مَقَامَ رَبِّہ جَنَّتٰنِ (الرحمٰن: ۶۴)
جو اللہ سے ڈر گیا اس کے لیے اللہ کی طرف سے دو جنتیں ہیں۔ کہتے ہیں کہ اس آیتِ کریمہ کو سن کر قبر کے اندر سے آواز آئی: اے عمر! اللہ تعالیٰ نے مجھے دونوں جنتیں بخشی ہیں۔ سبحان اللہ! سچ ہی کہا ہے: ہر کہ دارد خوفِ حق