سیاسی مجبوری؟

140

محکمہ شماریات والے ہر ہفتے ایک رپورٹ پیش کرتے ہیں اور حکومت کو یہ باور کرانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اس ہفتے کتنی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور کتنی اشیاء کی قیمتوں میں کمی آئی۔ اگر حکمران باقاعدگی اور غور سے اس رپورٹ کا جائزہ لیں تو انہیں علم ہوگا کہ سبزیاں ابتداء میں ڈیڑھ دو سو روپے فی کلو فروخت ہوتی ہیں۔ ڈیڑھ دو ماہ بعد بیس تیس روپے فی کلو فروخت ہونے لگتی ہیں۔ بارہا ایسا بھی ہوتا ہے کہ جس چیز کی قیمت حکومت کی جانب سے مقرر کی جاتی ہے وہ بازار میں کم قیمت میں دستیاب ہوتی ہے۔ اگر حکومت گنے اور گندم کے نرخ مقرر نہ کرے تو آہستہ آہستہ ان کی قیمتوںمیں بھی کمی ہوتی رہے گی۔ بالفرض حکومت کے لیے یہ ممکن نہیں تو پھر گنے اور گندم کے کارخانوں کو قومی ملکیت قرار دیا جائے۔ اور اس کی لاگت پر پانچ یا دس فی صد منافع کا ہد ف مقرر کیا جائے تو مہنگائی کا عفریت عوام کی جان چھوڑ دے گا۔ مگر ایسا کون کرے گا کیونکہ چینی اور آٹے کے ملز مالکان تو وزیر اعظم کی بغل میں بیٹھے ہوئے ہیں بغل میں کوئی بھی بیٹھا ہو بغل بچہ ہی کہلاتا ہے۔ جنرل ایوب خان کے دور حکومت میں ڈپو سسٹم تھا آٹا اور چینی بازار سے کم قیمت پر دستیاب ہوتا تھا جس کے باعث مہنگائی کا عفریت عوام کو نگلنے کے لیے منہ نہیں کھولتا تھا اب یہ حال ہے کہ وزیر اعظم اور ان کی کابینہ کا منہ بند ہی نہیں ہوتا۔ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا آغاز جنرل ایوب خا ن نے کردیا تھا جو پاکستان دشمن قوتوں کو منظور نہ تھا۔ سو اپنے تنخواہ داروں کو ان کے خلاف تحریک چلانے کا کام سونپا گیا۔ جس کی وجہ سے ایوب خان کی حکومت ختم ہوگئی۔ یوں کالا باغ ڈیم خواب بن کر رہ گیا تحریک انصاف بھی کالا باغ ڈیم نہیں بنا سکتی مگر ڈپو سسٹم میں کیا قباحت ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ وزیر اعظم عمران خان کے وزیروں اور مشیروں کے لیے یہ خسارے کا سودا ہے۔ جن کے دماغوں میں ہوس زر کا سودا سمایا ہو وہ خسارہ برداشت نہیں کرسکتے۔ وزیر اعظم عمران اور ان کے سیاسی بغل بچے یہ کہتے کبھی ندامت محسوس نہیں کرتے کہ قومی معاملات اور عوامی بھلائی کے لیے ہر بات ماننے کے لیے تیار ہیں مگر وہ آر این او کے سوا کسی مسئلے پر بات نہیں کرنا چاہتے۔ موصوف کا یہی بیانیہ مذاکرات نہ ہونے کی وجہ ہے کیونکہ خان صاحب کی سوچ ضدی بچے کی طرح ہے اپنی بات منوانے کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں اور اپوزیشن ان کی بات ماننے پر آمادہ نہیں ہوسکتی نتیجہ یہ ہوگا کہ مذاکرات کی ناکامی کا ملبہ این آر او پر ڈال دیا جائے گا۔ حالانکہ خان صاحب نے این آر او کا جمعہ بازار لگایا ہوا ہے۔ جہاں اندھے کی ریورٹیوں کے سوا دیگر اشیاء پر پابندی لگی ہوئی ہے۔ اس کے باوجود خان صاحب قوم کو یہ باور کرانے کی سعی نامشکور کرتے رہتے ہیں کہ فوج ان کے پیج پر آگئی ہے۔ مگر قوم یہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ فوج ان کے دائو پیج پر آگئی ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو فوج کی طرح جمعے کو یوم صفائی منایاجائے تو گندے انڈے حکومتی مرغیوں کے نیچے سے نکال کر پھینک دیے جاتے۔
چودھری شجاعت حسین خان صاحب کے اتحادی ہیں مگر ان کی بات پر بھی توجہ نہیں دی جاتی۔ دیکھیے کیا دانش مندانہ مشورہ دیا گیا ہے کہ چودھری صاحب کہتے ہیں کہ اختلافات بھلا کر عوام کے مسائل پر توجہ دی جائے۔ وزیر اعظم اور قومی اسمبلی کے اسپیکر کی قیادت میں قائم کمیٹی کو عوام کے بنیادی مسائل حل کرنے کی ہدایت کریں۔ ورنہ یہ کمیٹی کارپوریشن کمیٹی بن کر رہ جائے گی موصوف نے سیاسی دانش وروں سے کہا ہے کہ مارشل لا سے اختلافات تو ہوسکتے ہیں مگر جب پچھلے چار مارشل لائوں پر غور کیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ فوجی حکومتوں نے پندرہ دنوں میں بے روزگاری، مہنگائی اور صفائی کے لیے جو اقدامات کیے تھے عوام کو آج بھی یاد ہیں۔ مقام شکر ہے کہ چودھری صاحب نے سیاست دان ہوتے ہوئے بھی مارشل لا کے احسن اقدامات کا اعتراف کیا ہے۔ ورنہ فوجی حکمرانوں پر تبرا کرنا ہی سیاسی منشور اور سیاسی مجبوری رہی ہے۔