تحریک لبیک: حکومت کا بلا جواز اقدام

233

حکومت نے اپنے انتہا پسندانہ فیصلے پر عمل درآمد کرتے ہوئے انتہائی قدم اٹھا لیا ہے اور وفاقی وزارت داخلہ نے وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد، انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997ء کے تحت تحریک لبیک پاکستان کو کالعدم قرار دیدیا ہے، وزارت داخلہ سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق وفاقی حکومت کے پاس یہ ماننے کے لیے مناسب وجہ موجود ہے کہ تحریک لبیک پاکستان دہشت گردی میں ملوث ہے اور انہوں نے ایسے کام انجام دیے جن سے ملک کے امن اور سیکورٹی کو خطرات لاحق ہوگئے، انہوں نے عوام کو اشتعال دلاتے ہوئے ملک میں انارکی کی صورتحال پیدا کی جس کے نتیجے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو نقصان پہنچا اور کچھ کی اموات واقع ہوئیں، مشتعل افراد نے معصوم عوام کو بھی نقصان پہنچایا، بڑے پیمانے پر رکاوٹیں کھڑی کیں، دھمکی آمیز رویہ اپنایا اور نفرت کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ گاڑیوں سمیت سرکاری اور عوامی املاک کو نقصان پہنچایا۔ وزارت داخلہ کے مطابق مشتعل افراد نے اسپتال کو ضروری اشیاء کی ترسیل بھی روک دی، عوام اور حکومت کو دھمکیاں دیں جس سے معاشرے میں خوف و ہراس اور عدم استحکام کی فضا پیدا ہو گئی، ان سرگرمیوں کے نتیجے میں حکومت پاکستان اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997ء کی دفعہ 11 بی (1) کے تحت تحریک لبیک پاکستان کو کالعدم تنظیموں کی فہرست میں شامل کر رہی ہے۔ دوسری طرف وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم تحریک لبیک پاکستان کو ختم کرنے جا رہے ہیں اور کل اس حوالے سے عدالت عظمیٰ میں ریفرنس داخل کرنے کے لیے کابینہ کو دوبارہ بھیجیں گے، ان کا کہنا تھا کہ ہم نے پوری کوشش کی کہ بات چیت سے معاملات طے ہوں لیکن ان کے ارادے بڑے خوفناک تھے اور وہ کسی صورت میں 20 تاریخ کو اپنے ایجنڈے سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہتے تھے اس لیے ہم نے ملک میں امن و امان کے لیے تحریک لبیک پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس ضمن میں وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خاں نے کہا کہ کسی کو بھی امن و امان کی صورت حال خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور ریاستی رٹ ہر صورت برقرار رکھی جائے گی۔ اصولی طور پر دیکھا جائے تو اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ امن و امان اور ریاستی رٹ کو برقرار رکھنا حکومت کی اہم ترین ذمے داری ہے اور اس کے لیے موثر اقدامات کرنا بھی حکومت کے فرائض میں شامل ہے تاہم اس معاملہ کے عملی پہلوئوں کا جائزہ لیا جائے تو جن دلائل اور جواز کی بنیاد پر یہ انتہائی اقدام حکومت کی جانب سے کیا گیا ہے، انہی وجوہ اور دلائل کل بناء پر سب سے پہلے خود وزیر اعظم عمران خان اور ان کی تحریک انصاف اور وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد اور ان کی عوامی مسلم لیگ پر وہ تمام پابندیاں لگنا چاہئیں جو تحریک لبیک اور اس کی قیادت پر لگائی گئی ہیں یہ کوئی زیادہ پرانی بات نہیں جب خود وزیر اعظم کی قیادت میں تحریک انصاف نے ملک کی تاریخ کا طویل ترین 126 روزہ دھرنا وفاقی دارالحکومت کے حساس ترین علاقے میں دیا اس دوران جناب عمران خاں نے پوری قوم کو حکومت کے خلاف سول نافرمانی کی تحریک کا پیغام دیا، اس دھرنے میں وہ کون سا غیر قانونی اقدام تھا جو دھرنا دینے والوں کی طرف سے نہیں کیا گیا، ملک کے اعلیٰ ترین آئینی اداروں سے متعلق جو رویہ اس دھرنے میں اپنایا گیا جس طرح قومی اسمبلی اور پاکستان ٹیلی ویژن کی عمارتوں کے گیٹ توڑ کر ان پر قبضہ کرنے کی کوششیں کی گئیں ملک کی عدالت عظمیٰ کی جس طرح تضحیک کی گئی اور ملک کے باوقار عہدوں پر موجود شخصیات پر جس طرح دشنام طرازی عمران خاں نے اپنی تقاریر میں کی، پولیس اہلکاروں کے ساتھ جو سلوک اس دھرنے میں کیا گیا اور سب سے بڑھ کر موجودہ وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے احتجاج کے دوران اپنی تقاریر میں جس طرح کھلے الفاظ میں جلائو، گھیرائو، مرجائو، مار دو، کے انتہائی اشتعال انگیز الفاظ استعمال کیے، کیا اس کا عشر عشیر بھی تحریک لبیک کے موجودہ تین روزہ احتجاج کے دوران دیکھنے میں آیا؟ حالانکہ یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ اس احتجاج کی دعوت بھی خود حکومت نے تحریک لبیک کو اس کے امیر حافظ سعد حسین رضوی کو گرفتار کر کے دی تھی، یہاں بھی پہل حکومت کی جانب سے کی گئی تھی، حافظ سعد رضوی نے اشتعال نہیں پھیلایا تھا وہ تو ایک جنازے میں شرکت کے لیے گھر سے نکلے تھے… پولیس کی مظلومیت کی جو تصویر ذرائع ابلاغ کے ذریعے قوم کے سامنے پیش کی جا رہی ہے، اس پر آخر کون یقین کرے گا، قوم کیا اپنی ’’معصوم‘‘، قانون پسند، امانت اور دیانت دار‘‘ پولیس کے ماضی سے واقف نہیں سرکاری اعلامیے میں پولیس اہلکاروں کی اموات اور زخمی ہونے والوں کی تعداد سے متعلق جو مبالغہ آمیز اعداد و شمار پیش کیے گئے اور جس طرح کی کہانیاں ذرائع ابلاغ کی وساطت سے عوام کو سنائی گئی ہیں ان سے یہ تصویر ابھر کر سامنے آتی ہے کہ پولیس ملازمین نہتے ہاتھ باندھے مظاہرین کے سامنے کھڑے منت سماجت میں مصروف تھے جنہیں مظاہرین نے سفاکانہ طریقے سے تشدد کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں کچھ تو جاں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور باقی شدید زخمی حالت میں اسپتالوں میں پہنچے۔ یہ تسلیم کہ پاکستان کے عوام سادہ ہیں مگر انہیں اس قدر بے وقوف بھی نہیں سمجھا جانا چاہیے کہ وہ حکومت کی پیش کردہ پولیس کی مظلومیت کی تمام داستان کو آنکھیں بند کر کے قبول کر لیں گے… حکومت نے ’’تحریک لبیک‘‘ کو کالعدم قرار دینے سے متعلق فیصلہ جس قدر عجلت میں سنا دیا ہے اس پر عملدرآمد اس قدر آسان نہیں ہو گا۔ تحریک لبیک، الیکشن کمیشن کے پاس رجسٹرڈ سیاسی جماعت ہے جس نے اپنے قیام کے بعد نہایت مختصر عرصہ میں عوام میں اپنی جڑیں مضبوط کی ہیں۔ 2018ء کے عام انتخابات میں تحریک سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والی جماعتوں میں تیسرے یا چوتھے نمبر پر تھی اس کے دو منتخب نمائندے سندھ اسمبلی میں موجود ہیں۔ اس سارے پس منظر میں تحریک کے خلاف اپنی کارروائی کو نہ صرف الیکشن کمیشن کے سامنے درست ثابت کرنا ہو گا بلکہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت عظمیٰ کے سامنے بھی ریفرنس دائر کر کے دلائل اور شواہد کے ساتھ اپنے اقدام کا جواز پیش کرنا ہوگا جو آسان نہیں ہوگا کیونکہ حکومت نے خود ہی پہلے تحریک لبیک کے مطالبات کو جائز تسلیم کرتے ہوئے ان پر عمل درآمد کے لیے تین ماہ کی مہلت طلب کی، تین ماہ کی یہ مہلت ختم ہونے تک سرکاری سطح پر ان مطالبات پر عملدرآمد کی جانب ایک قدم بھی نہیں اٹھایا گیا تاہم جب حکومت نے اس ضمن میں تحریک کی قیادت سے رابطہ کیا تو جواں عمری اور ناتجربہ کاری کے باوجود اس نے کسی ضد یا ہٹ دھرمی کا رویہ نہیں اپنایا بلکہ فریقین میں ایک نیا معاہدہ طے پایا جس کی رو سے حکومت نے دو ماہ کے اندر قومی اسمبلی میں ایک قرار داد پیش کر کے فرانسیسی سفیر کی پاکستان بدری کا وعدہ کیا کیونکہ فرانس میں سرکاری سطح پر رسول کریم سیدنا محمد مصطفیؐ کی گستاخی پر مبنی کارٹون بنوا کر سرکاری عمارتوں پر ان کی تشہیر اور نمائش کا اہتمام کیا گیا۔ ظاہر ہے یہ اقدام کسی بھی مسلمان کے لیے کسی بھی صورت قابل قبول نہیں تھا چنانچہ دنیا بھر میں مسلمانوں نے اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی مگر فرانسیسی حکومت نے معذرت اور معافی کا راستہ اختیار کرنے کے بجائے آزادیٔ اظہار کے گمراہ کن تصور کا سہارا لے کر اپنے گستاخی رسول پر مبنی اقدام پر اصرار کیا۔