عالمی مالیاتی اداروں کی ڈکٹیشن ملک کی خود مختاری پر سوالیہ نشان ہے،سراج الحق

139

لاہور(نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کی شرائط پر آنکھیں بند کر کے عمل کیا جا رہا ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے کی ڈکٹیشنزملک کی خودمختاری پر سوالیہ نشان ہیں۔ ادارے نے آکاس بیل کی طرح ملکی وسائل کو جکڑا ہوا ہے۔ خوشحالی کا درخت نہ پھل پھول سکتا ہے نہ اس سے عوام کوئی فائدہ لے سکتے ہیں۔ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں مزید اضافہ منظور نہیں۔ ٹیکسز کا ہدف بڑھانے سے مڈل کلاس سفید پوش طبقے کی مشکلات بڑھیں گی۔ معیشت میں بہتری لانی ہے تو سودی نظام سے جان چھڑانا ہو گی۔ دولت کا ارتکاز چند ہاتھوں میں ہے جس کی وجہ سے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کے پاس وقت ختم ہو گیا، ان لوگوں نے عوامی توقعات کا خون کیا۔ نوجوان سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ کورونا کی وجہ سے ایجوکیشن سیکٹر میں مزید ابتری آئی ہے۔ انٹرنیٹ سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے ملک کے بیشتر علاقوں کے ہزاروں طلبہ آن لائن کلاسز سے محروم ہیں۔ مدارس بھی مشکلات سے دوچار ہیں۔ حکومت ایجوکیشن اور ہیلتھ سیکٹرز میں اصلاحات نہ لا سکی۔ ملک میں غربت اور بے روزگاری کے مسائل میں آئے روز اضافہ ہو رہا ہے۔ روزی کمانے کے ذرائع کم پڑ رہے ہیں۔ کسانوں کی زمین تقسیم در تقسیم کے مراحل سے گزر کر ختم ہو رہی ہے۔ حکومت چھوٹے کاشتکاروں اور تنخواہ دار طبقے کے لیے مراعات کا اعلان کرے۔ حالات میں بہتری کے لیے قوم کو مل کر جدوجہد کرنا پڑے گی۔ جماعت اسلامی ہی موجودہ حالات میں امید کی کرن ہے۔ ہمارا مقصد محض اقتدار کا حصول نہیں بلکہ انسانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں تبدیلی لاناہے۔ جماعت اسلامی معاشرے میں نبی رحمتؐ کی تعلیمات کو عام کر رہی ہے۔ ہمارے دروازے ہر اس شخص کے لیے کھلے ہیں جو پاکستان کو اسلامی فلاحی مملکت بنانا چاہتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے منصورہ میں ملاقات کے لیے آنے والے مختلف افراد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔سراج الحق کا کہنا تھا کہ ملک قرضوں کی دلدل میں بری طرح دھنس چکا ہے۔ پی ٹی آئی حکومت معیشت کوپٹڑی پر ڈالنے کے لیے کوئی مؤثر حکمت عملی تشکیل نہیں دے سکی۔ وزیراعظم کی طرف سے کابینہ میں مزید تبدیلیوں کا اعلان کیا گیا ہے۔ کورونا اور احتجاجوں کی وجہ سے ملک بند پڑا ہے۔ لوگوں کے پاس سحری و افطاری کے لیے راشن نہیں۔ اسپتالوں میں مریض لاچار پڑے ہیں۔ وزیراعظم کے نزدیک اس صورت حا ل کا حل کبھی کابینہ اور کبھی بیوروکریسی میں تبدیلی ہے۔ بیڈگورننس کا یہی حال رہا تو ملک مزید پیچھے چلا جائے گا۔ وزیراعظم کے وعدوں اور دعوئوں کے باوجود ملک میں کرپشن کا دور دورہ ہے۔ حکومت احتساب کا مؤثر نظام متعارف کرانے میں مکمل ناکام ہو چکی ہے۔ پی ٹی آئی حکومت نے گزشتہ ڈھائی 3 برس میں پارلیمنٹ کو مکمل طور پر نظرانداز کیا اور اداروں کو مزید کمزور کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ لاکھوں نوجوان روزگار کی تلاش میں مار ے مارے پھر رہے ہیں۔ مزدوروں اور غریبوں کے لیے اپنے بچوں کو اسکول بھیجنا تو درکنار ان کا پیٹ پالنا بھی ناممکن ہو گیا ہے۔زراعت، صنعت میں کوئی بہتری نہیں آئی۔ پی ٹی آئی کی حکومت ماحولیات کی چیمپئن ہونے کے دعوے کرتی ہے ، مگر اس کے دور حکومت میں کراچی کے ساتھ ساتھ لاہور بھی کچراکنڈی میں تبدیل ہو گیا ۔ لوگوں کے لیے ان شہروں کی فضا میں سانس لینا مشکل ہو چکا ہے۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ قوم نظام میں تبدیلی کے لیے آگے بڑھے۔ حضور اکرمؐ کی امت ہونے کے ناطے ہمارا فرض ہے کہ قولی اور عملی شہادت کے ذریعے حق و صداقت کا علم بلند کریں۔ کرپٹ سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ نظام سے جان چھڑانا ہو گی۔ پاکستان کو امت کی رہنمائی کرنی ہے۔ عنان اقتدار انہی لوگوں کے ہاتھ رہا جو 73برسوں سے قوم پر مسلط ہیں، تو خدانخواستہ بزرگوں کی قربانیاں رائیگاں جائیں گی اور قائداور اقبال کا خواب کبھی پورا نہیں ہو سکے گا۔ لوگ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں نفس کی طہارت پر زور دیں۔ قرآن و سیرت کا زیادہ سے زیادہ مطالعہ کریں اور دین کا آفاقی پیغام گھر گھر پہنچائیں۔