سعد رضوی کی گرفتاری

286

غازی ممتاز قادری کی پھانسی کے بعد تحریک لبیک پاکستان نے ناموس رسالت کے تحفظ کے لیے جو آواز اٹھائی اسے ملک بھر میں بھرپور تائید اور پزیرائی حاصل ہوئی۔ علامہ خادم حسین رضوی نے ممتاز قادری شہید کے لاشے اور ان کے قدموں پر اپنی پگڑی رکھ کر اپنی بے بسی کا اظہار کیا تھا۔ لیکن ان کی شہادت کے بعد علامہ خادم حسین رضوی ایک دن بھی چین سے نہیں بیٹھے۔ انہوں نے ممتاز قادری کی پھانسی پر نواز شریف حکومت پر جس قہر کے نازل ہونے کا عندیہ دیا تھا آسمان فلک نے اپنی آنکھوں سے نواز شریف حکومت کو تلپٹ ہوتے دیکھا۔ تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی نے اپنی ولولہ انگیز قیادت اور شعلہ بیانی کے ذریعے عوام الناس کے دلوں میں رج بس گئے۔ فرانس کی حکومت کی جانب سے گستاخ رسول کو تحفظ فراہم کرنے اور اس سلسلے میں قانون سازی کے خلاف تحریک لبیک نے پورے ملک میں احتجاجی مہم چلائی اور فیض آباد پر تاریخی دھرنا بھی دیا گیا۔ تحریک لبیک کے اس دھرنے نے راولپنڈی اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کو مفلوج کر کے رکھ دیا تھا۔ بالآخر 16نومبر 2020 کو حکومت تحریک لبیک پاکستان کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگئی اور تحریک لبیک پاکستان اور حکومت پاکستان کے درمیان معاہدہ طے پایا کہ فورتھ شیڈول میں ڈالے گئے تحریک لبیک کے تمام کارکنان کو رہا کر دیا جائے گا اور حکومت 20اپریل تک پارلیمنٹ میں بل لیکر جائے گی اور پارلیمنٹ اس پر قانون سازی کرے گی اور جو فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی اس پر عمل کیا جائے گا۔ لیکن زندگی نے علامہ خادم حسین رضوی کے ساتھ وفا نہیں کی اور وہ اچانک 19نومبر 2020 کو داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔ علامہ خادم حسین رضوی کی اچانک وفات نے پاکستان کی سیاست میں ایک بھونچال پیدا کردیا۔ انتہائی مختصر عرصے میں خادم حسین رضوی نے اپنی جماعت کو ملک گیر جماعت بنا دیا تھا اور قومی وصوبائی اسمبلی میں بھی ان کے نمائندے منتخب ہوئے تھے۔ اکثر مقامات پر ان کے نمائندوں نے دوسری پوزیشن حاصل کی اور پچاس پچاس ہزار سے زائد ووٹ حاصل کر کے اپنی حیثیت کو منوایا۔
علامہ خادم حسین رضوی کی وفات کے بعد ان کے صاحبزادے حافظ علامہ سعد رضوی کو تحریک لبیک پاکستان کا نیا سربراہ منتخب کر لیا گیا۔ سعد رضوی نے 16فروری کی ڈیڈ لائن دی تھی اور فرانس کے ساتھ تعلقات ختم کرنے اور فرانس کے سفیر کو بے دخل کیے جانے کا مطالبہ کیا۔ حکومت کی یقین دہانی پر ایک بار پھر معاہدہ ہوا اور اس معاہدہ پر وفاقی وزیر مذہبی امور نورالحق قادری اور وزیر داخلہ شیخ رشید اور تحریک لبیک کی شوریٰ کے ذمے داران نے دستخط کیے۔ لیکن حکومت کی جانب سے اس سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں کی جارہی تھی۔ علامہ سعد رضوی نے اعلان کیا کہ 16اپریل سے ہم پھر احتجاج شروع کریں گے اور16اپریل کو رات بارہ بج کر ایک منٹ پر ہم اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کرینگے۔ حکومت پاکستان نے بوکھلاہٹ میں 12اپریل کو علامہ سعد رضوی کو لاہور وحدت روڈ پر جب وہ کسی جنازے سے واپس جا رہے تھے اسکیم موڑ پر ایلیٹ فورس کے دستوں کے ہاتھوں انہیں گرفتار کر لیا۔ علامہ سعد رضوی کی گرفتاری کی خبر ملک بھر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور پورے ملک میں ہنگامے پھوٹ پڑے۔ کراچی، راولپنڈی، اسلام آباد، لاہور، ملتان، مری، سکھر، پشاور دیگر شہروں کی اہم شہروں پر بدترین ٹریفک جام ہوگیا۔ لوگ پورا پورا دن ٹریفک جام پھنسے رہے۔ ملک کے اہم شہروں میں لوگ احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکل آئے اور کئی مقامات پر پولیس نے شیلنگ اور فائرنگ بھی کی جس کے نتیجے میں چھ سے زائد افراد ہلاک ہوگئے، سیکڑوں کی تعداد میںکارکنان زخمی اور سو سے زائد افراد گرفتا ر بھی کیے گئے۔
اس تمام صورتحال سے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کے نااہل مشیر اسے بند گلی کی جانب دکھیل رہے ہیں۔ تحریک لبیک پاکستان کے ترجمان نے حکومت کو متنبہ کیا کہ وہ اوچھے ہتھکنڈوں سے باز آجائے۔ علامہ سعد رضوی کی گرفتاری ہمارے حوصلوں کو پست نہیں کر سکتی۔ حکومت اگر ہزیمت اور عوامی غم وغصے کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تو وہ 20اپریل سے پہلے معاہدہ فیض آباد پر فی الفورعمل درآمد یقینی بنائیں اور فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کیا جائے اور فرانس سے تمام تر تجارتی تعلقات ختم کیے جائیں۔ علامہ سعد رضوی کی گرفتاری اس وقت کی گئی جب ماہ رمضان کی آمد کو ایک دن ہی رہ گیا تھا۔ پورے ملک میں حکومت کے اس اقدام کے خلاف غم وغصہ کی لہر پائی جاتی ہے۔ گزشتہ دنوں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ہمت کر کے فرانس کے خلاف بیان دیا اور کہا کہ فرانس اسلامو فوبیا کی پالیسی سے باز رہے اور مسلمانوں کے خلاف متعصبانہ کاروائیاں اور قانون سازی بند کی جائے۔ اس طرح کے اقدامات کسی بھی ملک کے لیے بہتر نہیں ہیں اور اس طرح کے متعصبانہ اقدامات خود ان کے معاشرے کو تقسیم کر دے گا۔ ڈاکٹر عارف علوی کے اس بیان پر فرانس میں پاکستان کے سفیر کو طلب کر کے سخت باز برس کی گئی اور اسے فرانس کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی قرار دیا گیا اور فرانس کی جانب سے صدر مملکت کے بیان کی سخت مذمت کی گئی۔
نبی اکرمؐ کی شان اور ان کی حرمت پر صدر مملکت کا بیان مثبت اقدام اور امت کی ترجمانی ہے۔ 55سے زائد اسلامی ممالک میں سے 20 ممالک بھی فرانس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں تو فرانس گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوجائے گا۔ ایک زمانہ تھا کہ سلطنت عثمانیہ کے دور میں مسلمانوں کا دنیا بھر میں توتی بولتا تھا لیکن جب ہم نے اپنی اقدار کو چھوڑ دیا تو ذلت اور پستی ہمارا مقدربن گئی ہے۔ اللہ کے رسولؐ کی حرمت پر کٹ مرنا اور ان کی ناموس کی حفاظت کے لیے کھڑے ہوجانا اور ان کی ناموس کی حفاظت کے لیے پہرا دینا یہ ممتاز قادری، علامہ خادم حسین رضوی یا علامہ سعد رضوی ہی کی ذمے داری نہیں ہے بلکہ ہم سب اور پوری امت کی ذمے داری ہے۔ بچہ بچہ اپنے نبی کی شان اور ان کی حرمت پر قربان ہوجائے گا اور کٹ مرے گا۔ دنیا بھر میں دو ارب سے زائد مسلمانوں کی ذمے داری ہے کہ وہ اپنے زندہ ہونے کا عملی ثبوت فراہم کریں۔ امت کو اپنی بیداری کا عملی ثبوت دینا ہوگا۔ اسلام دشمن عناصر دین اسلام کے خلاف مسلسل سازشوں میں مصروف عمل ہیں۔ اسلامو فوبیا نے مغرب کو پاگل کر دیا ہے۔ حکومت پاکستان اور پاکستان کی دینی جماعتوں کی ذمے داری ہے کہ وہ ناموس رسالت پر کسی بھی قسم کی مصلحت سے کام نہ لیں۔ او آئی سی اس سلسلے میں سخت لائحہ عمل کا اعلان کرے۔ پاکستان اسلام کے نام پر قائم ہونے والا ملک ہے اور یہاں کے عوام کسی بھی قیمت پر اپنے رسول کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کریںگے۔ حکومت نے اس سلسلے میں قانون سازی نہیں کی تو پھر ملک میں ممتاز قادری پیدا ہوتے رہیں گے اور دنیا کی کوئی طاقت ہمارے عقیدے اور ایمان کو کمزور نہیں کر سکتی۔ حکومت ہوش مندی سے کام لے اور آگ سے نہ کھیلے۔ معاہدہ فیض آباد پر فوری عمل کیا جائے۔ علامہ سعد حسین رضوی کو رہا کیا جائے۔ ورنہ عمران خان کی لنگڑی لولی حکومت عاشقان رسول کے سیلاب کے سامنے ڈھیر ہوجائے گی۔ ڈی چوک، پارلیمنٹ ہائوس اور بنی گالا پر ہونے والے دھرنوں اور احتجاج سے حکومت کو بھاگنے کا موقع بھی نہیں ملے گا۔