آئی ایم ایف کا دبائو برقرار ہے

121

آئی ایم ایف کی نمائندہ مقیم پاکستان ٹریسا ووہان سانچے نے ایک ویبنار سے خطاب کرتے ہوئے اس بات کی تردید کی ہے کہ ہم نے اسٹیٹ بینک کی خود مختاری پر کوئی ڈکٹیشن دی ہے۔ ڈکٹیشن دینے کی تردید کرنے کے ساتھ یہ کہنا بھی ضروری سمجھا ہے کہ ہماری سفارشات غریب عوام کے فائدے میں ہے۔ انہوں نے اس بات کی پیش بینی تو ضرور کی ہے کہ مہنگائی برقرار رہے گی، لیکن یہ نہیں بتایا کہ مہنگائی بڑھنے کے اسباب میں کلیدی سبب آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن ہے۔ آئی ایم ایف کی نمائندہ کی وضاحت سے اس بات کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ عام آدمی تک یہ پیغام پہنچ رہا ہے کہ بدعنوان، ہوس دولت و اقتدار کے مارے ہوئے پاکستانی حکمراں، آئی ایم ایف اور امریکا کے غلام ہیں اور عوام تک یہ پیغام پہنچ گیا کہ ان کے مصائب کے اصل ذمے دار امریکا اور عالمی سرمایہ دارانہ نظام ہے اور سرمایہ دارانہ نظام کی مزاحمت کے لیے آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن انکار کسی بھی سیاسی تحریک کا بنیادی نکتہ ہونا چاہیے۔ یہ احساس عالمی طاقتوں کو خوف میں مبتلا کرنے کے لیے کافی ہے۔ اس کے باوجود آئی ایم ایف دبائو اور ڈکٹیشن جاری ہے۔ تیکنیکی زبان میں دی گئی آئی ایم ایف کی تمام سفارشات پاکستان دشمن ایجنڈے پر مشتمل ہیں اس لیے سب سے پہلے اسے چیلنج کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ بات ہر شہری تک پہنچنی چاہیے کہ بجلی، گیس، پٹرول اور تمام اشیائے ضرورت کے نرخوں میں اضافے کا سبب آئی ایم ایف کے قرضے ہیں۔ قرضوں کی معیشت کے خاتمے کے بغیر آزادی حاصل نہیں ہوسکتی۔ حقیقی آزادی کے بغیر نہ ہم اپنے دین پر عمل کرسکتے ہیں نہ ہی غربت و افلاس اور مہنگائی سے نجات حاصل کرسکتے ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ سب سے اہم اور کلیدی مسئلہ سیاسی بیانیے کا مرکزی عنوان نہیں بن رہا ہے۔ ایک دوسرے سے متصادم سیاست دان آئی ایم ایف اور امریکا کے قدموں میں ڈھیر ہوجاتے ہیں۔