بغداد میں بم دھماکا ، 24 افراد ہلاک و زخمی

144
عراق: بغداد میں بم دھماکے اور اربیل پر ڈرون حملے کے بعد دھواں اور شعلے بلند ہو رہے ہیں

بغداد (انٹرنیشنل ڈیسک) عراق کے دارالحکومت بغداد ایک بار پھر طاقت ور دھماکے سے گونج اٹھا۔خبررساں اداروں کے مطابق یہ دھماکا جمعرات کے روز شہر کے مشرقی علاقے الصدر سٹی میں حبیبیہ کے مقام پر کیا گیا۔ دھماکے کے لیے بارودی مواد سے بھری گاڑی استعمال کی گئی۔ حملے کے نتیجے میں 4افراد ہلاک اور 20زخمی ہوئے۔ دوسری جانب عراقی کردستان کے دارالحکومت اربیل میں ہوائی اڈے کے قریب واقع امریکی فوجی اڈے کو بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب ڈرون سے نشانہ بنا یا گیا۔ اس حملے میں پہلی بار ڈرون کا استعمال کیا گیا۔ اربیل کے گورنر کا کہنا ہے کہ اس حملے میں کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا ہے۔ حملے میں ایک گودام میں آگ بھڑک اٹھی۔ جس وقت امریکی فوجی اڈے کے قریب راکٹ حملہ ہوا اسی کے آس پاس ترکی کے مشرقی شہر بشیقہ سے تقریباً 50 کلومیٹر دور ایک فوجی اڈے پر بھی راکٹوں سے حملہ کیا گیا، جس میں ایک تُرک فوجی جاں بحق ہوگیا۔ تاہم ان دونوں حملوں کے درمیان کسی طرح کے تعلق کی فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ اربیل میں ہونے والا راکٹ حملہ امریکی فوج کے خلاف ڈرون کے استعمال کا پہلا واقعہ ہے۔ امریکی فوج اور بغداد میں امریکی سفارت خانے پر راکٹ حملے ہوتے رہے ہیں، اور واشنگٹن ان کے لیے ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا کو مورد الزام ٹھہراتا ہے۔ کرد خطے کے وزیر اعظم مسرور برزانی نے تُرک وزیر خارجہ مولو د چاوش اولو کے ساتھ بات چیت کے بعد ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ہم اربیل اور بشیقہ میں دہشت گردانہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہیں۔