تحریک لبیک پر پابندی: جماعت اسلامی کا ردعمل سامنے آگیا

333

لاہور: جماعت اسلامی نے تحریک لبیک پاکستان پر پابندی کے اقدامات کو غیر آئینی و غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تحریری معاہدہ پر عملدرآمد نہ کر کے اور حافظ سعد رضوی کو بلاجواز گرفتار کر کے حکومت نے خود اشتعال پھیلایا۔

نائب امیر جماعت اسلامی، سیکرٹری جنرل ملی یکجہتی کونسل لیاقت بلوچ نے کہا کہ پنجاب اور وفاقی حکومت نے تحریک لبیک پر پابندی کے لیے غیر آئینی ، غیر جمہوری طریقہ اختیار کیا ہے، تحریک انصاف نے خود احتجاج ، دھرنوں میں لاقانونیت کی انتہا کی، قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا، ریاستی عمارتوں پر حملے کیے۔

انہوں نے کہا کہ تحریک لبیک کی قیادت اور کارکنان نے اگر غیر قانونی حرکات کی ہیں تو اسے ڈیل کرنے کے قانونی راستے موجود ہیں، الیکشن کمیشن آف پاکستان سے رجسٹرڈ پارٹی پر پابندی کا معاملہ آئین اور قانون میں طے شدہ ہے، حکومت خود بھی لاقانونیت کی مرتکب ہورہی ہے۔

لیاقت بلوچ نے کہا کہ حکومت نے تحریک لبیک پر پابندی کا اعلان کر کے اپنی مخالف جماعتوں کو پیغام دیا ہے، حکومتی رٹ تحریک لبیک نے نہیں، خود حکومت کی نااہلی، حکومتی اتحادیوں کی بلیک میلنگ اور اقتصادی سیاسی محاذ پر ناکامی کی وجہ سے حکومت کی رٹ پہلے سے ہی موجود نہیں، حکومت مصنوعی سہاروں اور بیساکھیوں پر چل رہی ہے، تحریک لبیک کے ساتھ ریاستی اداروں، حکومتوں نے خود معاہدے کیے، معاہدوں پر عملدرآمد خود حکومت نہیں کر رہی۔

معاہدہ شکن حکومت کے خلاف احتجاج کے سوا کیا راستہ رہ جاتا ہے، حکومت غیر آئینی ، غیر جمہوری پابندی عائد کرنے کی بجائے بات چیت کرے اور اپنے عہد کی پاسداری کرے، سیاسی جمہوری عمل میں حکومت اور تمام سیاسی، دینی، جمہوری قوتوں کو پرامن اور قانون کے دائرے میں رہ کر کام اور احتجاج کا حق حاصل ہے ۔ حکومت اور سیاسی دینی جماعتیں قانون شکنی کا راستہ خود بند کریں۔

نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر فرید احمد پراچہ نے بھی تحریک لبیک پر پابندی کے اقدامات کو غیر آئینی، غیر قانونی قرار دیا اور کہا ہے کہ تحریری معاہدہ پر عملدرآمد نہ کر کے اور حافظ سعد رضوی کو بلاجواز گرفتار کر کے حکومت نے خود اشتعال پھیلایا اور گرفتاری پر ردعمل کا اندازہ لگائے بغیر شہریوں کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جو حکومتی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

انہوں نے کہاکہ حکومت خود تو قانونی راستہ اختیار کرے اور حکومت فرانس تک اسلامیان پاکستان کے جذبات پہنچائے ، سفیر کو حسب معاہدہ ملک بدر کرنے کے بجائے تحریک لبیک پر پابندی کا راستہ اختےار نہ کرے، انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس رجسٹرڈ جماعتوں پر پابندی محض حکومتی آرڈر سے نہیں ہوسکتی اس سلسلہ میں آئینی طریق کار اختیار کرنا پڑتاہے ۔

انہوں نے کہا کہ اعلیٰ سطحی جوڈیشل انکوائری کے ذریعے پولیس فائرنگ جیسے اقدامات اور شرپسند عناصر کی اشتعال انگیزی کی مکمل تحقیق کی جائے ۔