وفاقی کابینہ نے ٹی ایل پی پر پابندی کی منظوری دے دی

215

وفاقی کابینہ نے تحریک لبیک پاکستان پر پابندی لگانے کی منظوری دے دی۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی کابینہ کی جانب سے انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت تحریک لبیک پاکستان پر پابندی کی منظوری دی گئی۔ٹی ایل پی پر پابندی کے لیے وفاقی کابینہ سے منظوری سرکولیشن سمری کے ذریعے لی گئی۔

نجی نیوز ٹی وی کے مطابق منظوری کے بعد تحریک لبیک پاکستان پر پابندی کے ڈیکلیریشن پرکام شروع کردیا گیا۔ حکومت پابندی کا ڈیکلیریشن سپریم کورٹ میں پیش کرے گی، سپریم کورٹ کے فیصلے پر الیکشن کمیشن تحریک لبیک پاکستان کو ڈی نوٹیفائی کرے گا۔

گزشتہ روز وزیر داخلہ شیخ رشید کی زیرِ صدارت امن و امان سے متعلق اجلاس میں ٹی ایل پی پر پابندی کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ سیاسی جماعت پر پابندی کی سمری وزیراعظم کو ارسال کی گئی تھی۔

وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ پابندی لگانے کا فیصلہ انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت کیا گیا اور پنجاب حکومت نے تنظیم پر پابندی لگانے کی سفارش کی۔ تحریک لبیک پر سیاسی حالات کی وجہ سے نہیں بلکہ تنظیم کے کردار کی وجہ سے پابندی لگائی جا رہی ہے۔

وفاقی وزیرداخلہ کے بقول حکومت نے جو معاہدہ کیا تھا وہ اس پر قائم تھی لیکن ہماری ان کو منانے کی کوششیں ناکام ہوئیں،یہ فیض آباد آنا چاہتے تھے، ہم قرارداد اسمبلی میں اتفاق رائے سے پیش کرنا چاہتے تھے، ہماری بڑی کوششیں تھیں لیکن وہ بہر صورت فیض آباد آنا چاہتے تھے، یہ ایسا مسودہ چاہتے تھے کہ یورپ کے سارے لوگ ہی واپس چلے جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات پر آنے سے پہلے یہ لوگ سوشل میڈیا پر پلاننگ کر کے آتے تھے اور قانون سوشل میڈیا پر سڑکیں بند کرنے اور بے امنی کے پیغامات دینے والوں کا پیچھا کر رہا ہے۔

شیخ رشید نے کہا تھا کہ تحریک لبیک کا سوشل میڈیا چلانے والے افراد کو سرینڈر کر دینا چاہیے جبکہ آج ہم نے ان کو عطیات دینے والوں سے بھی باز پرس کی ہے۔