یوکرین روس کا تنازع اور پاکستان و ترکی؟

259

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لیوروف پاکستان اور بھارت کا دورہ مکمل کر کے جیسے ہی اپنے ملک پہنچے تو فوری بعد روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے روسی افواج کو حکم دیا کہ وہ یوکرین کی جانب روانہ ہوجائیں اور ایک دن سے بھی کم وقت میں 35ہزار روسی افواج مشرقی یو کرین کی سرحدوں کی جانب روانہ ہوگئیں۔ یوکرین کے صدر زیلینسکی ترکی کے صدر اردوان سے ملنے 9اپریل 2021ء کو ترکی پہنچ گئے، جہاں انہوں نے ترکی کے صدر سے ڈرون مانگ لیا اور ساتھ ہی ماسکو نے خبردار کیا ہے کہ یوکرین میں اگر علٰیحدگی پسندوں کے خلاف کارروائی کی گئی تو مشرقی یوکرین کے روسی زبان بولنے والے باشندوں کی مدد کے لیے روس مداخلت کر سکتا ہے۔ اس سلسلے میں روس کا موقف یہ ہے کہ یوکرین کے صدر زیلینسکی ہیں اور حالیہ لڑائی کی جڑیں مارچ 2014 میں یوکرین کے خطے کریمیا کے روس کے ساتھ الحاق سے ملتی ہیں۔ اس واقعے کے بعد مغربی قوموں اور روس کے درمیان بڑی خلیج حائل ہو گئی تھی اور یورپی یونین اور امریکا نے روس پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ روس کے نائب وزیر خارجہ الیگزنڈر گروسکو نے کہا تھا کہ ناٹو روس کو مشرق کی جانب سے ایک مستقل خطرے کے طور پر دیکھنے کی عادت سے جان نہیں چھڑا سکی۔ ایک ماہ بعد ہی روسی حمایت یافتہ باغیوں نے جن میں اکثریت روسی زبان بولنے والے دونباس کی ہے دونتسک اور لوہاسنک کے علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ مغربی ممالک اور ناٹو روس پر یوکرین میں اپنی فوج بھیجے جانے کا الزام عائد کرتے ہیں تاہم روس کا کہنا ہے کہ ’وہاں اگر کوئی روسی جنگجو ہے بھی تو وہ رضا کار ہے‘۔ یوکرین کے صدر زیلینسکی قیام امن کے وعدے کے ساتھ اقتدار میں آئے اور گزشتہ برس جولائی میں جنگ بندی پر دستخط ہوئے۔ تب سے اب تک فریقین ایک دوسرے پر خلاف ورزی کے الزمات عائد کرتے ہیں۔ روسی حمایت یافتہ باغیوں اور یوکرینی فوج کے درمیان ملک کے مشرقی حصے میں جھڑپیں جاری ہیں۔ ایک اعلیٰ روسی اہلکار دمتری کوزک کا کہنا ہے کہ روس کو ’گولی ٹانگ پر نہیں چہرے پر ماری جائے گی‘۔
عالمی اخبارات کے مطابق وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری جین پساکی کا کہنا تھا 2014 میں یوکرین کے تنازع کے آغاز کے بعد سے روسی سرحد پر فی الوقت فوجیوں کی سب سے زیادہ تعداد تعینات ہے۔ انہوں نے صورتحال کو بہت تشویشناک قرار دیا ہے۔ روس نے سرحد پر تعینات اپنے فوجیوں کی تفصیلات نہیں بتائی ہیں تاہم یوکرین کی فوج کے اندازے کے مطابق مارچ تک وہاں 20 ہزار روسی فوجی موجود تھے۔ لیکن عالمی اخبارات کا کہنا ہے کہ یہ تعداد 35ہزار کے لگ بھک ہے روسی افواج کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری ہونے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک ٹرین میں بھاری اسلحہ اس علاقے میں پہنچایا جا رہا ہے۔ 8اپریل کو ہلاک ہونے والے یوکرینی فوجی کے بعد سے اب تک ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 25 ہو گئی ہے۔ گزشتہ برس 50 یوکرینی فوجی ہلاک ہو ئے تھے بی بی سی کو باغیوں نے بتایا کہ ان دونیستک شہر کے نواح میں ایک گاؤں پر یوکرینی فوجیوں کی جانب سے داغے گئے 14 مارٹر گولوں کے باعث ان کا ایک جنگجو ہلاک ہوا۔
علاقے میں حالات کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے 10اپریل کو علاقے کا دورہ کیا اور لڑائی کی شدت کا اندازہ لگانے کے ساتھ ساتھ انہوں نے دونباس میں مشکل وقت کے دوران فوجیوں کے ساتھ ہونے کا یقین دلایا۔ جس کے فوری بعد بلیک سی میں درجنوں امریکی جہازوں کو روانہ کر دیا گیا اور امریکا نے یورپی یونین سے بھی یوکرین کے دفاع میں اپنی افواج بلیک سی روانہ کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
جرمن دفتر خارجہ اور فرانسیسی وزارت خارجہ نے کہا، ’’ہم اس صورتحال خصوصاً روسی فوج کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں، اور تمام فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور کشیدگی کے فوری خاتمے کے لیے کام کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں‘‘۔ برلن اور پیرس نے یوکرین کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی حمایت کی تصدیق کی، جب کہ روس پر مشترکہ سرحدوں کے ساتھ ساتھ جزیرہ نما کریمین پر بھی ہزاروں فوجیوں کی موجودگی کا الزام لگایا۔
یورپی اخبارات کے مطابق روس ناٹو پر جارحانہ اور تصادم کا راستہ اختیار کرنے کا الزام عائد کیا ہے لیکن 11 اپریل کو اپنے لڑاکا طیاروں کی پروازوں کے بارے میں کوئی بات نہیں کی ہے۔ ناٹو کے سیکرٹری جنرل نے ماسکو پر زور دیا ہے کہ وہ مذاکرات کے سلسلے کو بحال کریں۔ ناٹو کے سیکرٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ نے 12اپریل کو اس سلسلے میں امریکا کے وزیر خارجہ اینتھونی بیلکن کے ناٹو کے ہیڈکواٹر کے دورے کے دوران کہا تھا کہ روس کے ساتھ ایسے تعلقات ہوں جن میں استحکام ہو اور غیر متوقع اتار چڑھاؤ کا شکار نہ ہوں۔ ناٹو کے مطابق روس کے لڑاکا فضائی طیاروں نے کسی بھی موقع پر ناٹو ممالک کے فضائی حدود کی خلاف ورزی نہیں کی ناٹو حکام کا کہنا ہے کہ ان کے طیاروں نے 12 جگہوں پر روس کے طیاروں کو آگے آنے سے روکا۔ ناروے کے ایف سولہ طیاروں نے روس کے دو ٹی یو 95 بئیرز کو ناروے کے ساحلوں کے قریب روک لیا تھا۔ روس کے طیاروں نے اس کے بعد شمالی سمندر میں جنوب کی جانب پرواز کی جس پر برطانوی اور بلجیم کی فضائیہ کے طیاروں کو حرکت میں آنا پڑا۔ بعد ازاں روسی فضائیہ کے دو ٹی یو 160 بلیک جیک بمبار طیارے کو ناروے کی فضائیہ نے پیچھے جانے پر مجبور کیا۔ اتحادی فضائیہ کے جہاز بحیرہ اسود پر بھی روسی طیاروں کے راستے میں آئے۔ ادھر اطالوی فضائیہ نے بالٹک میں کالنانگرڈ کے قریب سمندروں کی نگرانی کرنے والے ایک روسی جہاز کو اپنا رخ موڑنے پر مجبور کیا۔ روس اور ناٹو ممالک کے تعلقات میں 2014 کے بعد سے کشیدگی کم نہیں ہوئی ہے جب روس نے کرایمیا اور روس کے حمایت یافتہ باغیوں نے مشرقی یوکرین پر قبضہ کر لیا تھا۔
روس سے جرمنی تک بچھائی جانے والے گیس پائپ لائن ’نارڈ اسٹریم ٹو‘ کی امریکا کی طرف سے شدید مخالفت کے باعث یہ تعلقات مزید کشیدگی کا شکار ہو گئے تھے۔ امریکا کے وزیر خارجہ انتھونی بیلکن نے کہا تھا جو کمپنیاں اس منصوبے میں حصہ دار بنیں گی ان پر امریکا کی طرف سے پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔ ناٹوکے سیکرٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ نے کہا گزشتہ ہفتے روس کو ناٹو اور روسی کونسل کی سطح پر مذاکرات بحال کرنے کی پیشکش کی تھی جس کا اجلاس 2019 سے نہیں ہو سکا۔ روس، یوکرین کے درمیان جاری تنازع کے دوران ہی روس نے پاکستان کو ہر طرح کی دفاعی مدد کا وعدہ کیا ہے اور اس کے بر عکس بھارت نے اس سلسلے میں روس کو یکسر انکا رکر دیا۔ بھارت کے دورے کے دوران روسی وزیر خارجہ سرگئی لیوروف سے بھارتی وزیرِاعظم مودی نے ملنے سے انکار کر دیا تھا اور امریکا کے کہنے پر بھارت F4 دفاعی میزائل کی خریداری کا پانچ ارب 50 کروڑ ڈالرز کا سودہ بھی منسوخ کر دیا ہے اب یہی F4 دفاعی میزائل پاکستان خرید رہا ہے اور روس نے اس کی قیمت بھی کم کر دی ہے۔ اس کے علاوہ بھی روسی اسلحہ کی خریداری کے معاہدے بھی ہو چکے ہیں اور اس میں اضافے کا امکان بھی ہے اُدھر دوسری جانب ترکی یورپی یونین اور امریکا یوکرین میں روس کے خلاف صف بندیاں کر رہے ہیں۔ کیا روس کی دوستی میں پاکستان اور ترکی کے درمیان خلیج کا خدشہ ہے۔ یوکرین اور روس کی لڑائی میں پاکستان کو ایک متوازن خارجہ پالیسی کی ضرورت ہے۔