دوستی کی متبادل دشمنی

222

مہنگائی اور وزیراعظم عمران خان اس طرح باہم ہوئے ہیں کہ پہچان کے لیے اس وضاحت کی بھی ضرورت نہیں رہی۔ ایک سردار نے ماں کو گدھے پر سوار اپنی تصویر بھیجتے ہوئے جسے ضروری سمجھا تھا ’’امی اُتّے میں واں (امی اوپر والا میں ہوں)‘‘۔ عمران خان جب سے برسر اقتدار آئے ہیں لگتا ہے کسی سردار کی حکومت آگئی ہے۔ ’’درخت رات کو آکسیجن دیتے ہیں۔ چین میں روشنی کی رفتار سے تیز ٹرین چلتی ہے۔ جاپان اور جرمنی ہمسایہ ممالک ہیں۔ سیدنا عیسیٰؑ کا تو تاریخ میں ذکر ہی نہیں ملتا۔ کٹے، انڈے، مرغیاں بیچنے سے معیشت چلتی ہے۔ بجلی ملائیشیا سے درآمد پام آئل سے بنتی ہے۔ پاکستان میں سال میں بارہ موسم ہوتے ہیں‘‘۔ مہنگائی کے معاملے میں عمران خان کا ریکارڈ یہ ہے کہ جب بھی انہوں نے مہنگائی کا نوٹس لیا مہنگائی مزید بڑھ گئی۔ کئی دن پہلے ان کا بیان آیا کہ ’’رمضان میں مہنگائی کی نگرانی میں خود کروں گا‘‘۔ لوگوں کی چیخیں نکل گئیں ’’الٰہی خیر ہو اب میرے آشیانے کی‘‘۔ شرطیں لگ گئیں ’’اب مہنگائی مزید بڑھے ہی بڑھے‘‘۔
وزیراعظم عمران خان پیار کے ناموں اور پیار کے بہائو پر یقین نہیں رکھتے۔ جو ان کے قریب آتا ہے بالآخر وہ اس کے دشمن ہوجاتے ہیں۔ عمران خان وہ شخص ہیں پاکستان کے عوام نے جنہیں ٹوٹ کر چاہا تھا۔ یہ بہت نایاب کامیابی تھی۔ لیکن اقتدار میں آنے کے بعد انہوں نے عوام کی پیٹھ پر ہی سب سے زیادہ تازیانے برسائے۔ پہلے تجاوزات کے نام پر لوگوں کے جمے جمائے کاروبار، ٹھیوں اور گھروں کو مسمار کیا۔ اس کے بعد مہنگائی اور بے روزگاری کے طوفانوں کا وہ تسلسل، بے ترتیبی اور بد انتظامی کہ اللہ کی پناہ۔ انتہا یہ کہ اب انہوں نے پاکستان کے عوام کو آئی ایم ایف کے سپرد کردیا ہے۔
عمران خان کی سیاسی جدوجہد میں پاکستانی میڈیا نے انہیں بے پناہ پزیرائی اور کوریج دی، ہر خوشگوار بات ان سے منسوب کی، موسم کی تمام تر سختیوں کے باوجود انہیں اسکرین اور اخبار کے صفحات پر جگہ دی، ان کی ڈینگوں کو بھی حقیقت بناکر پیش کیا لیکن اقتدار میں آتے ہی عمران خان نے اس طبقے کو گزند پہنچانے اور نفرت کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ کئی اخبارات بند ہوگئے، بیش تر اخبارات اور میڈیا گروپ ملازموں کو بروقت تنخواہیں دینے سے قاصر رہے، صحافیوں کی ایک بڑی تعداد بے روزگار ہوگئی۔ اسی طرح وہ لوگ جنہوں نے سیاسی جدوجہد میں اپنی زندگی عمران خان کے لیے وقف کی، تن من دھن سے ان کا ساتھ دیا، اقتدار میں آنے کے بعد اچھا سلوک تو درکنار عمران خان نے انہیں پہچاننے کے لیے بھی تیار نہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ تحریک انصاف میں عمران خان نے جو کاٹھ کباڑ جمع کیا ہے جہانگیرترین ان میں بہترین ہیں۔ جہانگیر ترین ایک متنازع لیکن تحریک انصاف کے موورز اینڈ شیکرز تھے۔ انہیں عمران خان کی اے ٹی ایم مشین کہا جاتا تھا۔ تحریک انصاف کی کامیابیوں میں اس کی تعمیر میں ان کے کردار کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ جہانگیر ترین لوگوں کو دوست بناتے، دوست رکھتے اور ان کے باطن میں اُترتے ہیں۔ جب کہ عمران خان ایک متکبر شخص ہیں اس حدتک کہ لوگوں سے ہاتھ ملانا بھی پسند نہیں کرتے۔ ہاتھ ملاتے بھی ہیں تو ادھورا۔ ترین کے طور طریق کامیابی کی طرف لے جاتے ہیں۔ وہ ایک ترقی پسند شخص ہیں۔ زراعت اور کاروبار میں انہوں نے کامیاب تجربات کیے ہیں۔ شوگر انڈسٹری میں تن تنہا وہ بیس فی صد کے مالک ہیں۔ وہ ایک کامیاب منصوبہ بندی کرنے والے ہیں لیکن اس سب کے ساتھ ساتھ وہ ایک کرپٹ شخص ہے۔ اس سسٹم میں کرپشن کے بغیر ترقی ممکن بھی نہیں ہے۔ کیا ترین سے عمران خان کی دوری کی یہ واحد وجہ ہے۔ کیا تحریک انصاف میں جہانگیر ترین واحد کرپٹ ہیں۔ پیپلز پارٹی، ن لیگ اور تحریک انصاف محض سیاسی جماعتیں نہیں ہیں کرپٹ بزنس امپائر ہیں۔ جب عدالت عظمیٰ نے جہانگیر ترین کو کرپشن میں ملوث قرار دیا تھا۔ عمران خان نے عدالت عظمیٰ کے فیصلے کو گھاس کی پتی کے برابر وقعت نہیں دی تھی۔ اب جو عمران خان نے جہانگیر ترین کے خلاف محاذ کھولا ہے اس کی وجہ کرپشن نہیں، دوستوں سے دشمنی کرنے کی ان کی افتاد طبع ہے۔
امریکا، چین اور سعودی عرب پاکستان کے دیرینہ دوست رہے ہیں۔ یہ عمران خان کی متحرک اور فعال خارجہ پالیسی کا اعجاز ہے کہ آج یہ سب پا کستان سے دور ہیں۔ پرنس محمد بن سلمان ابتدا میں عمران خان پر جی جان سے فدا تھے یہاں تک کہ اپنا ذاتی طیارہ بھی سفر کے لیے ان کے سپرد کردیا۔ وزیراعظم کے اندر کا شیخ چلی خارجہ امور میں رونق افروز ہوا تو وہ ترکی، ملائیشیا اور پا کستان پر مشتمل ایک بلاک بنانے پرتل گئے۔ وہ ترکی اور ملائیشیا جس سے پاکستان کے مفادات بہت محدود ہیں۔ خارجہ امور کی نزاکتوں کی فہم سے عاری وہ سمجھ ہی نہیں سکے کہ یہ سعودی قیادت میں قائم او آئی سی کے مقابل بلاک تشکیل دینے کے مترادف ہے۔ یہی کیا کم تھا انہوں نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان ثالثی کے لیے بھی خود کو پیش کردیا جس کا کسی بھی طرف سے مطا لبہ نہیں کیا گیا تھا۔ سعودی قیادت نے ہر آڑے وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا۔ برسوں پاکستان کو مفت برابر آسان شرائط پر تیل مہیا کیا۔ اسٹیٹ بینک کو سہارا دینے کے لیے ڈالرز مہیا کیے، لیکن خان صاحب نے اپنی طبیعت کی ٹیڑھ سے اس دوست کو ناراض اور اتنا ناراض کردیا کہ پاکستان کو چین سے قرضہ لے کر سعودی عرب کے ڈالرز واپس کرنا پڑے۔ شہزادہ محمد بن سلمان نے ازخود پا کستان میں بھاری سرمایہ کاری کا عندیہ دیا تھا لیکن اب وہ پا کستان میں
ایک ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے میں بھی دلچسپی نہیں رکھتے۔
چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کبھی شہد سے زیادہ میٹھے اور سمندروں سے زیادہ گہرے تھے۔ سی پیک اس دوستی کی اعلیٰ مثال تھی۔ نوازشریف کی سی پیک میں دلچسپی کا اندازہ اس امرسے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے تمام کنٹریکٹرز کو ہدایت کررکھی تھی کہ وہ ماہانہ بنیادوں پر وڈیو بناکر سی پیک کی پیش رفت سے انہیں آگاہ کریں مگر دوسال سے سی پیک پر کام معطل ہے۔ اقتصادی زونز جن کا بڑا شہرہ تھا۔ چین کے بڑے بڑے سرمایہ کار جن میں دلچسپی لے رہے تھے آج کسی کو ان کے بارے میں کچھ نہیں پتا۔ صورتحال یہ ہے کہ سی پیک کے جن منصوبوں پر کام روک دیا گیا تھا ان کی پیداواری لاگت میں کئی گنا اضافہ ہوچکا ہے۔ چین اور پاکستان کے تعلقات سرد مہری کا شکار ہیں۔ پاکستان جو چین کی ترجیحات میں کہیں بہت اوپر ہوتا تھا آج کسی شمار قطار میں نہیں۔ سعودی عرب کو مودی نے پاکستان سے چھین لیا اور چین کو ایران نے۔ خان صاحب نے اس گیم ہی کا خاتمہ کردیا جسے گیم چینجر کہا جاتا تھا۔
امریکا کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ اب سعودی عرب اور چین کی طرح امریکا سے بھی ہم کوئی مفاد کشید کرنے سے قاصر ہیں۔ امریکا کے ساتھ تعلقات وہ معاملہ ہیں جنہیں اسٹیبلشمنٹ اپنے ہاتھ میں رکھتی ہے۔ اس باب میں وہ سویلینز کی دخل اندازی پسند نہیں کرتی۔ پاکستان اور امریکا کے تعلقات کا محور اور مرکز افغانستان میں امریکی مفاد ہیں۔ پاکستان جنہیں بجا لانے کا محض ایک آلہ ہے ورنہ غنی حکومت ہو یا امریکا وہ افغانستان میں بھارت کو موثر دیکھنا چاہتے ہیں۔ امریکا نے ایف اے ٹی ایف کی تلوار پاکستان پر لٹکارکھی ہے۔ آئی ایم ایف کو پاکستان پر مسلط کر رکھا ہے۔ تاہم یہ معاملات سویلین قیادتوں کی حدود سے باہر ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کے چہیتے عمران خان کی حدود سے بھی باہر۔ ویسے بھی عمران خان کی دوستی کا میدان نریندر مودی ہیں۔ جس سے وہ کپاس اور چینی درآمد کرنا چاہتے تھے۔ کشمیری مسلمانوں کے خون کی قیمت پر۔