پہلا سبق: مطالعہ قرآن

213

اسلامک ریسرچ اکیڈمی
’’اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم پرہیز گار بنو‘‘۔ (البقرۃ:۳۸۱)
لفظ لَعَلَّکْم تَتَّقْونَ سے روزے کی اصل غایت بیان کی گئی ہے کہ تمام شریعت کی بنیاد تقویٰ پر ہے۔ تقویٰ جذبات وخواہشات پر قابو پانے کی قوت و صلاحیت کا نام ہے اور ا س صلاحیت کی سب سے بہتر تربیت رمضان المبارک میں روزیکے ذریعے ہوتی ہے۔
اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ روزہ آدمی میں تقویٰ کے جذبات کو ابھارتا ہے اور پیدا کرتا ہے۔ اس لیے اطلاع دی گئی کہ رمضان ہی کے مہینے میں چوں کہ قرآن کے نزول کی ابتدا ہوئی- اس لیے مسلمانو کو چاہیے کہ اس مہینے کو روزے کے ساتھ گزاریں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ تقویٰ کا مطلب کیا ہے؟ روزے سے اس کا کیا تعلق ہے؟ اور تقویٰ کے جن جذبات کو روزہ ابھارتا اور جگاتا ہے انسانی فطرت کے ان جذبات سے قرآن کا کیا تعلق ہے؟ اس کو سمجھنے کے لیے ایک مثال ہے کہ روشنی سے وہی مستفید ہوسکتا ہے جس کی بینائی کی قوت آلائشوں سے پاک و صاف ہو۔
اس مثال کے پیش نظر غور کیجیے کہ قرآن کیا ہے۔ آدمی کی آئینی زندگی کے قدرتی دستور و عمل ہی کا نام قرآن ہے- اسی طرح تقویٰ جس کا ترجمہ عموماً پرہیز/ڈر وغیرہ کے الفاظ سے کردیا جاتا ہے۔ فطرت انسانی کے اس خاص رجحان کی تعبیر ہے جس نے آدمی کو آئین پسند بنایا ہے۔ مطلب یہ کہ جب تک جنون سے کسی کا دماغ مائوف نہ ہو ہر شخص یہ محسوس کرتا ہے کہ اعمال و افعال میں ہم مطلق العنان بنا کر نہیں پیدا کیے گئے کہ جو جی میں آئے اسے کر گزریں جسے چاہیں مار بیٹھیں، قتل کردیں جس کا مال چاہیں اڑا لیں یا اسی قسم کے بہت سے کام کرنے پر ہم آمادہ ہوجائیں۔ یہ کام ہم کر تو سکتے ہیں لیکن اندر کی آواز ہمیں ٹوکتی ہے اور حدود میں رہنے کا تقاضا کرتی ہے۔ اور ہم سے تقاضا کرتی ہے کچھ کام ایسے ہیں جو کیے جائیں اور کچھ ایسے بھی ہیں جو نہ کیے جائیں۔ یہ تقسیم ہمارے اعمال و افعال کی سچ پوچھیے تو تقویٰ ہی کے فطری جذبے کی پیداوار ہے۔
ماہ رمضان کی آمد پر جذبات کو تحریک نہ ملے، خیر و برکت کے حصول کی خواہش نہ ابھرے، مغفرت کی تڑپ پیدا نہ ہو تو ایمان کی خیر منانی چاہیے۔
حقیقت یہ ہے کہ ایمان اگرچہ تھوڑا کیوں نہ ہو رمضان کی آمد پر تمام مسلمانوں کے جذبات میں ہل چل مچ جاتی ہے۔ نزولِ قرآن کے اس ماہ مبارک میں مغفرت، رحمت، برکت کے حصول کے جذبات عروج پر ہوتے ہیں اور کیوں نہ ہوں رب کے انعامات کی بارش جو ہورہی ہوتی ہے۔
مطالعہ حدیث
سیدنا ابو ہریرہ ؓ نبی کریم ؐ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے رمضان کے روزے ایمان و احتساب کی نیت سے رکھے، اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کردیے گئے۔ (بخاری)
اس حدیث میں رمضان میں روزہ رکھنے اور رات میں قیام کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ اس حدیث کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں ایمان کے ساتھ احتساب کی شرط بھی لگائی گئی ہے جب کہ یہ شرط عموماً دوسری عبادات اور نیک اعمال میں نہیں پائی جاتی۔اس حدیث کے ساتھ ساتھ احتساب کی شرط قیام اللیل اور شبِ قدر کی عبادت کے لیے بھی احادیث میں بیان ہوئی ہے۔ جہاں تک کسی عمل کے مقبول ہونے کے لیے ایمان کی شرط کا تعلق ہے تو یہ ایک بنیادی اصول ہے کہ جس کا ذکر قرآن و حدیث میں بار بار آیا ہے کہ ایمان کے بغیر عمل صالح قبول نہیں۔ وہ عمل، عمل صالح ہو ہی نہیں سکتا جو ایمان کے بغیر ہو۔ عمل تو دراصل ایمان کے وجود کا ثبوت ہے،مگر احتساب کی شرط احادیث میں شاذ و نادر ملتی ہے۔
احتساب کے عمومی معنی جائزہ لینا اور احتساب کرنا ہے، لیکن اس حدیث میں یہ لفظ اس معنی میں استعمال نہیں ہوا۔ اس موقع پر اس لفظ کے خاص مفہوم کو نہ جاننے کی وجہ سے اکثر لوگ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ یہاں مراد اپنے اعمال کا جائزہ لینا ہے۔یعنی ایمان کے ساتھ انسان اپنے اعمال کا جائزہ لیتا رہے تاکہ عمل کے معیار کو بہتر بنایا جاسکے۔ یعنی رات سوتے وقت دن بھر کے اعمال کا جائزہ لے کہ کیا غلطیاں اور کوتاہیاں سرزد ہوئیں تاکہ آئندہ ان سے بچا جائے مگر یہاںیہ معنی مراد نہیں۔اس حدیث اور اس جیسی دیگر احادیث میں احتساب کا مفہوم “اللہ سے اجر و ثواب کی طلب اور امید کے ساتھ عمل کرنا ہے” اسے ہم پرامید ہونا سے بھی تعبیر کرسکتے ہیں۔
اسلام میں عمل صالح کے لیے دو کیفیات کا ہونا ضروری ہے۔ ایک خوف دوسری رِجا۔ خوف یہ کہ عمل درست نہ ہوا تو کہیں رب کی ناراضی و پکڑ کا موجب نہ بنے۔ رِجا یہ کہ ٹوٹا پھوٹا معمولی عمل بھی اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے قبول کرے گا۔ قرآن و حدیث میں خوف کے لیے خشیت کی اصطلاح اور امید و رِجا کے لیے “احسان” کا لفظ استعمال ہوا ہے۔احسان یہ ہے کہ بندہ اللہ کے بے پناہ احسانات کے اعتراف میں شکر کے جذبے سے عبادت کرے۔
اس حدیث میں احتساب کا لفظ دراصل احسان کی کیفیت کا نام ہے۔ یعنی پوری امید کے ساتھ ایمان و اخلاص کے جذبے سے کیے گئے عمل سے اللہ تعالیٰ تمام گناہ معاف کردے گا۔
سیرت النبیؐ
رمضان المبارک میں نبی کریمؐ کے معمولات
ام المؤمنین سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رمضان اور غیر رمضان میں نبی کریمؐکے معمولات میں تین باتوں کا فرق ہوتا تھا۔پہلا فرق تو روزے کا ہی تھا کہ باقی سال کسی مہینے میں نبی کریمؐپورا مہینہ روزے نہیں رکھتے تھے۔ پیر و جمعرات یا پھر قمری مہینے کے درمیان کے تین روزے رکھتے تھے۔ آپؐ شعبان میں کثرت سے روزے رکھتے تھے اور پھر رمضان کے مکمل روزے رکھتے تھے۔ رمضان کے مکمل روزے ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہیں، بلا مجبوری اس کا ترک کبیرہ گناہ ہے۔دوسرا فرق سیدہ عائشہؓ یہ بتلاتی ہیں کہ رمضان میں نبی کریمؐ کی قرآن مجید کی تلاوت باقی سال سے دگنی ہو جاتی تھی۔ باقی سارا سال بھی نبی کریمؐکا معمول یہ ہوتا تھا کہ قرآن مجید کی تلاوت کثرت سے کرتے تھے۔ آپؐ خود تلاوت کرتے تھے اور دوسروں سے سنتے بھی تھے۔ قرآن مجید کی تلاوت کرنا بھی عبادت ہے اور اہتمام کے ساتھ قرآن مجید سننا بھی عبادت ہے۔ دونوں پر نبی کریمؐ نے یکساں ثواب بتلایا ہے۔ فرمایا کہ قرآن مجید کی تلاوت ہو رہی ہو تو پڑھنے والے کو بھی ہر
حرف پر دس نیکیاں ملتی ہیں اور سننے والے کو بھی۔ لیکن شرط یہ ہے کہ باقاعدہ نیت کے ساتھ سنا جائے، سننے کا خاص اہتمام ہو اور آداب کے ساتھ سنا جائے۔قرآن مجید سننے کے آداب کیا ہیں، اس کا دو باتوں سے اندازہ کر لیجیے۔ ایک تو حکم ہے کہ جب قرآن پڑھا جائے تو توجہ کے ساتھ سنا کرو اور خاموش رہا کرو تاکہ تم پر (اللہ کی) رحمت ہو۔ یعنی کان متوجہ ہوں جبکہ زبان بے حرکت ہو، یہ تلاوتِ قرآن مجید سننے کے آداب میں سے ہے۔ سیدنا عائشہؓ فرماتی ہیں کہ نبی کریمؐ کا تیسرا معمول یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک میں عام دنوں سے زیادہ سخی ہو جاتے تھے۔ نبی کریمؐ سارا سال تو سخی ہوتے ہی تھے لیکن رمضان میں سخاوت کی حد ہو جاتی تھی۔ تمام سال نبی کریمؐکا معمول یہ ہوتا تھا کہ آپؐ کے دروازے سے کوئی سائل خالی ہاتھ واپس نہیں جاتا تھا۔ جس سوالی یا ضرورتمند کی ضرورت آپؐ اپنے پاس سے پوری کر سکتے تھے، سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ نبی کریمؐ کے در سے کوئی خالی ہاتھ نہیں جاتا تھا اور رمضان میں تو نبی کریمؐ اتنے سخی ہوتے تھے ’’کالریح المرسلؐ‘‘ کہ گرم موسم میں چلنے والی ٹھنڈی ہوا کی طرح نبی کریمؐکی سخاوت ہوتی تھی۔سخت حبس کے موسم اور شدید گرمی کے عالم میں جب ٹھنڈی ہوا چلتی ہے تو کیا مزے کا وقت ہوتا ہے۔ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رمضان میں تو کوئی بھی نبی کریمؐ کے فیض سے محروم نہیں رہتا تھا۔