ایم کیوایم نے عارضی مفادات کیلئے عوامی مسائل حل کرنے کا ہر موقع گنوایا

297

 رپورٹ:قاضی جاوید

ایم کیو ایم نے عارضی مفادات کے لیے عوامی مسائل حل کرنے کا ہر موقع گنوا یا‘ تشدد اور سیاست ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے‘ بس الطاف، الطاف کہنے سے مسائل حل نہیں ہو تے‘ جماعت اسلامی نے کراچی کے بنیادی مسائل کو بہت اُجاگر کیا‘ مارشل لا دور میں پروان چڑھی‘ اردو بولنے والوں کا سفربے نتیجہ ہوگیا‘ ہر حکومت میںکردار نئی نویلی دلہن کا سا رہا۔ ان خیالات کا اظہار ایم کیو ایم کے سینئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار، پی پی پی کے رہنما این ڈی خان اور معروف صحافی اوریا مقبول جان نے جسارت کے اس سوال کے جواب میں کیا کہ ’’ایم کیو ایم کی 30 سالہ سیاست نے مہاجروں کو کیا دیا ؟۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ایم کیو ایم کو 30 برس میں جب موقع ملا اس نے عارضی مفادات کو حاصل کرنے میں اس موقع کو گنوا دیا اور کراچی کے بڑ ے مسائل پر کبھی توجہ نہیں دی جس میں مردم شماری بھی شامل ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ‘ ایم کیو ایم کا ووٹ بینک ختم ہو گیا ہے تاہممسائل کے حل میں ایم کیو ایم کامیاب نہیں ہو ئی جبکہ اس کی جگہ کو کسی دوسری جماعت نے ابھی تک پُر نہیں کیا ہے‘ 2018ء کے الیکشن میں کامیاب ہو نے والی پی ٹی آئی نے بھی شہر کو کچھ نہیںدیا ‘جماعت اسلامی نے کراچی کے بنیادی مسائل کو بہت اُجاگر کیا اور حل کے لیے کو شش بھی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مارشل لا دور میں ایم کیو ایم پروان چڑھی‘ ایم کیو ایم، جماعتِ اسلامی، پی پی پی اور پی ٹی آئی کو مل کر کراچی کے لیے ایک منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے‘کوئی بھی اکیلا یہ کام نہیں کر سکتا‘ اس سلسلے میں 25 رکنی کمیٹی بنائی جائے۔ این ڈی خان نے کہا ہے کہ پاکستان مخالف، فوج کے خلاف بولنے والی لسانیت کے لبادے میں لپٹی تنظیم عوام کی کبھی خدمت نہیں کر سکتی ہے‘ جرائم اور سیاست کو ایک ساتھ چلانا ممکن نہیں ہے‘ اسی لیے آج ایم کیو ایم مختلف دھڑوں میں بکھر چکی ہے ‘ کراچی کو ایک خاص نقطہ نظر سے دیکھنا چھوڑیں یہ سندھ کا دارالحکومت بھی اور پاکستان کا معاشی حب بھی‘حقیقت یہ کہ آپ کا اصل امتحان ہوتا ہی اس وقت ہے جب آپ کے پاس اقتدار اور اختیارات ہوں‘ ان کو مواقع ملے مگر یہ لوگ چمک کا شکار ہوگئے ‘ کسی اور جانب نکل گئے‘ تشدد اور سیاست، جرائم اور جمہوریت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے‘ یہ استعمال ہونے والوں کو بھی سوچنا ہے اور استعمال کرنے والوں کو بھی اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے‘ 30 برس میں عوام کے لیے کچھ نہیں کیا‘ بس الطاف، الطاف سے مسائل حل نہیں ہو تے ہیں ‘ لسانیت کے لبادے سے باہر آنے کی ضرورت ہو تی ہے۔ اوریا مقبول جان نے کہا کہ ایم کیو ایم ہر حکومت کا حصہ رہی ہے اور اکثر اپنے ذاتی مفادات کے لیے وہ ایک نئی نویلی دلہن کی طر ح روٹھتی رہتی تھی اور جب اس کے مطالبے پورے وہ جاتے تھے وہ پھر مان جاتی تھی‘ یہ وہ صورتحال نہیں ہو تی جس میں کوئی عوامی کام کیا جائے‘ ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ اقتدار میں سندھی زبان کے بل اور اس پر لسانی فسادات کو پروان چڑھایا گیا‘ سندھ کے شہریوں کے لیے کوٹا سسٹم، تعلیمی اداروں میں داخلے کے لییدشواریاں، نوکریوں میں کراچی، حیدرآباد، سکھر کے لوگوں پر پابندی کے حوالے سے بھٹو اور اردو بولنے والے دانشوروں کے درمیان مذاکرات ہوئے اور معاملہ 60 فیصد دیہی اور40 فیصد شہری کوٹا پر حل ہوا‘ بدقسمتی سے یہ فارمولہ سیاست کی نذر ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہمتحدہ کا مرکزی دفتر سیل ہوا بلکہ اس کے اطراف تمام سیاسی سرگرمیوں پر بھی مکمل پابندی لگائی گئی لیکن اس کے خلا ف ایم کیو ایم کبھی عدالت میں نہیں گئی‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے خلاف ریاست کے پا س بہت ثبوت ہیں‘ کچھ رہنمائوں نے پارٹی کو بچانے کی کوشش کی اور شاید آج بھی کر رہے ہیں مگر اب یہ اندر کی لڑائی زیادہ نظر آتی ہے‘ متحدہ قومی موومنٹ کے 4 دھڑے بن چکے اور ہر ایک کے پیچھے مہاجر نعرہ ہے اوران میں کو ئی بھی اکیلا کامیاب نہیں ہو سکتا ہے‘ انہوں نے کراچی میں اردو بولنے والوں کے سفر کو بے نتیجہ بنا دیا ہے‘ آج بھی کراچی والوں کا مطالبات وہی ہیں نوکریاں، داخلے نہیں تو الگ صوبہ دو۔