آئی سی سی رینکنگ: بابراعظم نمبر ون بیٹسمین بن گئے

166

کراچی (سید وزیر علی قادری) بابراعظم ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ کے نمبر ون بیٹسمین بن گئے۔ قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابراعظم نے آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈکپ سپر لیگ میں شامل جنوبی افریقا کے خلاف ون ڈے انٹرنیشنل سیریز کا اختتام دنیائے کرکٹ کے نمبر ون بیٹسمین کی حیثیت سے کیا۔

جنوبی افریقا کے خلاف ایک روزہ سیریز کے 3 میچوں میں 228 رنز بنانے والے بابراعظم نےسیریز کے دوران مجموعی طور پر 28 ریٹنگ پوائنٹس حاصل کیے۔ سیریز کے آغاز سے قبل انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی درجہ بندی میں بھارت کے ویرات کوہلی اور پاکستان کے بابراعظم کے درمیان 20 ریٹنگ پوائنٹس کا فاصلہ تھا۔

میزبان ٹیم کے خلاف پہلےایک روزہ میچ میں 103 رنز کی عمدہ اننگز کھیلنے پر بابراعظم آئی سی سی ون ڈے انٹرنیشنل پلیئرز رینکنگ میں پہلے نمبر پر پہنچ گئے تھے تاہم سیریز کے دوسرے میچ میں 31 رنز بناکر آؤٹ ہونے کے باعث وہ 5  پوائنٹس گنوانے کی وجہ سے دوبارہ دوسری پوزیشن پر پہنچ گئے۔

البتہ بابراعظم نے سیریز کے تیسرے اور فیصلہ کن میچ میں ایک مرتبہ  پھر شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کیا اور 94 رنز بناکر مین آف دی میچ قرار پائے۔ میزبان ٹیم کے خلاف اس اننگز کی بدولت وہ ایک مرتبہ پھر ون ڈے انٹرنیشنل پلیئرز رینکنگ میں پہلی پوزیشن پر پہنچ گئے ہیں۔

بابراعظم سے قبل بھارت کے کپتان ویرات کوہلی عالمی درجہ بندی میں نمبر ون بیٹسمین تھے۔ وہ اکتوبر 2017 سے اسی رینک پر موجود تھے۔  ون ڈے انٹرنیشنل رینکنگ میں پہلی پوزیشن پر براجمان بابراعظم کا ٹی ٹونٹی کی عالمی رینکنگ میں تیسرا اور ٹیسٹ میں چھٹا نمبر ہے۔ ان کے علاوہ صرف ویرات کوہلی دنیا کے وہ واحد بیٹسمین ہیں جو فی  الحال ان تینوں فارمیٹ کی عالمی درجہ بندی کے مطابق ابتدائی چھ بلے بازوں کی فہرست میں شامل ہیں۔

ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ کی تاریخ میں بابراعظم وہ چوتھے پاکستانی ہیں جنہوں نے یہ اعزاز حاصل کیا ہے۔اس سے قبل ظہیر عباس نے ورلڈکپ 1983 میں نیوزی لینڈ کے خلاف میچ میں 103 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلنے پر عالمی درجہ بندی میں پہلی پوزیشن حاصل کی تھی، پھر جاوید میانداد نے ورلڈکپ 1987 میں سری لنکا کے خلاف 103 رنز بناکر یہ اعزاز حاصل کیا تھا۔ 18 سال قبل محمد یوسف نے جنوبی افریقا کے خلاف ہوم سیریز میں 60 رنز بناکر آئی سی سی ون ڈے انٹرنیشنل رینکنگ میں پہلی پوزیشن حاصل کی تھی۔

کپتان پاکستان کرکٹ ٹیم بابراعظم کا کہنا ہے کہ وہ ظہیر عباس، جاوید میانداد اور محمد یوسف جیسے مایہ ناز کھلاڑیوں کی فہرست میں شامل ہونے پر بہت فخر محسوس کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ تینوں کرکٹرز ہمیشہ پاکستان کی کرکٹ کے روشن ستارے رہیں گے۔

بابراعظم کا کہنا ہے کہ اب ان کا اگلا ہدف اس درجہ بندی کو برقرار رکھنا ہوگا، کوشش کریں گے کہ وہ سخت محنت اور یکسوئی کا مظاہرہ کریں۔ سر ویو رچرڈز نے جنوری1984 سے اکتوبر1988 تک جبکہ ویرات کوہلی نے 1258 روز تک یہ پوزیشن اپنے پاس رکھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس سے قبل ٹی ٹونٹی کی عالمی پلیئرز رینکنگ میں بھی نمبر ون بن چکے ہیں مگر ان کا اصل ہدف ٹیسٹ کرکٹ کا نمبر ون بیٹسمین بننا ہے کیونکہ کسی بھی کرکٹر کی صلاحیتوں کا اصل امتحان تو ٹیسٹ کرکٹ ہی ہے۔

بابراعظم کا کہنا ہے کہ وہ اس مقام کے  حصول کے لیے سخت محنت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور کوشش ہوگی کہ عمدہ کارکردگی کا تسلسل برقرار رہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ فی الحال ان لمحات سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں کیونکہ پاکستان کرکٹ ٹیم کی قیادت سنبھالنے کے 18 ماہ بعدپاکستان ایشیاء کا وہ واحد ملک بن گیا ہے کہ جس نے جنوبی افریقہ کو اس کی اپنی سرزمین پر دوسری مرتبہ ون ڈے انٹرنیشنل سیریز میں شکست دی ہے۔

اس کے علاوہ اوپنر فخر زمان نےجنوبی افریقہ کے خلاف تین میچوں میں 302 رنزبناکر نہ صرف مین آف دی سیریزکا اعزاز حاصل کیا بلکہ وہ آئی سی سی ون ڈے انٹرنیشنل پلیئرز رینکنگ میں بھی پہلے دس بہترین بلے بازوں میں شامل ہوگئے ہیں۔ سیریز میں 8، 193 اور 101 رنز بنانے کی بدولت وہ عالمی درجہ بندی میں انیسویں سے ساتویں پوزیشن پر پہنچ گئے ہیں۔

دوسری طرف قومی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ باؤلر شاہین شاہ آفریدی نے بھی ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ میں اپنی بہترین پوزیشن حاصل کرلی ہے۔ جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز کے آخری ون ڈے میچ میں 3 وکٹیں حاصل کرنے والے نوجوان فاسٹ باؤلر نے تازہ ترین عالمی رینکنگ میں 11ویں پوزیشن حاصل کرلی ہے۔