بے حسی کی انتہا

211

بادشاہ کا بس نہیں چلتا تھا کہ اپنے عوام پر ظلم کا پورا پہاڑ ہی توڑ کر رکھ دے۔ اس وقت تو اس کے جلال کی انتہا ہی نہیں رہی جب عوام نے باوجود ظلم و ستم اس کے پاس فریاد کے لیے آنا ہی چھوڑ دیا۔ بادشاہ کو شک گزرا کہ کہیں اس کے اہل کاروں نے عوام پر ظلم کرنا تو ترک نہیں کر دیا۔ سب کو حاضر کیا اور حقیقت ِ حال دریافت کی تو سب نے یہی عرض کیا کہ عالی جاہ ہم تو آپ کے حکم کے مطابق کوئی دن ایسا نہیں جانے دیتے جب کوئی نہ کوئی اذیت عوام کو نہ پہنچاتے ہوں لیکن شاید اب رعایا ظلم سہنے کی اتنی عادی ہو چکی ہے کہ اس نے خاموشی اختیار کر لی ہے۔ باد شاہ جواب سے مطمئن نہ ہوا تو دربار کے بڑے شیطان نے کہا کہ باد شاہ سلامت آپ حکم جاری کریں کہ تمام لوگ ہر صبح کسی بھی کام کے آغاز سے قبل یہاں حاضر ہوا کریں اور جب تک ہم ان سب کو دس دس جوتے نہ مار لیا کریں وہ کسی بھی کام کو ہاتھ نہ لگایا کریں۔ تجویز سن کر بادشاہ بہت خوش ہوا اور پورے ملک میں تازہ ترین احکام کو سنادیا گیا۔ اب ہر صبح پورا ملک شاہی محل کے پاس جمع ہوتا، جوتے کھاتا جاتا اور اپنے اپنے کاموں کی انجام دہی کے لیے روانہ ہوتا جاتا۔ کئی دن گزر گئے لیکن پھر بھی کوئی فریادی دربار میں نہیں آیا تو باد شاہ کی بیقراری میں اضافہ ہونے لگا۔ حکم کیا گیا کہ جوتوں کی تعداد دو گنا کردی جائے چنانچہ حکم پر عمل کیا گیا۔ دو تین دن کے اندر بادشاہ کو اطلاع دی گئی کہ کچھ فریادی حاضر ہوئے ہیں تو بادشاہ خوشی کے مارے پاگل ہو گیا۔ حکم دیا کہ فریادیوں کو فوراً دربار میں حاضر کیا جائے۔ فریادیوں کی تباہ حالی دیکھ کر بادشاہ کی اذیت پسندی کو بڑی تسکین ہوئی۔ کہا کیسے آنا ہوا تو فریادیوں نے کہا کہ ہم آپ کے حکم کے مطابق کوئی بھی کام شروع کرنے سے پہلے آپ کے محل کے آس پاس جمع ہوجاتے ہیں، جوتے کھاتے ہیں تب کہیں کام پر جاتے ہیں۔ جوتے کھاتے کھاتے صبح سے شام ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے ہم اپنے اپنے کام انجام نہیں دے پاتے۔ فریاد سننے کے بعد نہایت پْر غرور انداز میں ان سے کہا کہ پھر تم سب لوگوں کی کیا صلاح ہے، سب نے بیک زبان کہا، عالی جاہ بے شک آپ اس نیک عمل کو جاری رکھیں لیکن اتنی مہربانی کریں کہ جوتے مارنے والوں کی تعداد میں اضافہ کردیں۔
ڈسکہ کا الیکشن مسلم لیگ ن کی امید وار سیدہ نوشین نے جیت لیا اور ان کا مقابلہ کرنے والے پی ٹی آئی کے اسجد ملہی ہار گئے۔ مسلم لیگ کا اس حلقے سے جیت جانا کوئی ایسی بات نہیں تھی جس پر حیرت کا اظہار کیا جائے اس لیے کہ یہ حلقہ ایک طویل عرصے سے ن ہی کے پاس رہا ہے۔ بات جیت کی نہیں، ہار جیت کے اس بہت قلیل فرق کی ہے جو دونوں امیدواروں کے درمیان ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عام طور پر ضمنی الیکشن حکمران جماعت ہی جیتا کرتی ہے۔ عام لوگ بھی زیادہ تر یہی سوچتے ہیں کہ حکمران جماعت کا ساتھ دینے میں زیادہ فائدے کا امکان ہے۔ اس نقطہ نظر کو سامنے رکھا جائے تو مسلم لیگ ن کا یہاں سے الیکشن جیت جانا بہت خوش کن لگتا ہے لیکن اس پہلو کو بھی مد نظر رکھنا ضروری ہے کہ موجودہ حکومت کے تمام تر عوام دشمنی جیسے اقدامات کے باوجود لوگوں کا ایک بہت بڑی تعداد میں حکومتی امیدوار کے حق میں ووٹ ڈالنا اس بات کی جانب واضح اشارہ ہے کہ آپ بے شک روزانہ جوتے پر جوتے مارے جائیں پر اتنی مہربانی کر دیں کہ جوتے مارنے والوں کی تعداد میں اضافہ کر دیں۔
الیکشن میں ووٹوں کی لمبی لمبی قطاروں میں کھڑے ہونے والے اور گولیاں کھا کھا کر جان دینے والے غریب غربا ہی ہوتے ہیں۔ کیا وہ غریب جنہوں نے پی ٹی آئی کے حق میں ووٹ دیا وہ بجلی و گیس کے بل ادا نہیں کرتے، کیا وہ دالیں، چاول، آٹا، گھی اور چینی نہیں کھاتے،
کیا پہننے کے لیے انہیں کپڑوں کی ضرورت نہیں پڑتی، کیا وہ گوشت، سبزیاں اور پھل نہیں خریدا کرتے۔ کیا ان کو تین سال قبل کی مہنگائی اور موجودہ مہنگائی میں ذرہ برابر بھی فرق دکھائی نہیں دیتا اور کیا بے روزگاری کا بڑھ جانا ان کے لیے کسی بھی قسم کی خوفزدگی کا باعث نہیں۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں پی ٹی آئی کو ووٹ ڈالے گئے۔ یہ بے حسی کی وہ انتہا ہے جہاں فریادی جوتے مارنے کی سزا میں نرمی کروانے نہیں جوتے مارنے والوں کی تعداد میں اضافے کا مطالبہ لیکر آئے ہیں۔ اگر قوم کی سوچوں کا یہی عالم ہے تو پھر آنے والے دنوں میں یہ سوچ لینا کہ ملک کسی دن صومالیہ سے بھی بد تر حالات کا شکار ہو سکتا ہے، بعید از قیاس نہیں۔