مردم شماری متنازع بھی اور منظور بھی؟

126

وفاقی حکومت نے متنازع مردم شماری کے نتائج کی منظوری دے دی ہے اور ساتھ ہی نئی مردم شماری جلد کرانے کا بھی اعلان کیا ہے جس کے تحت اکتوبر سے نئی مردم شماری شروع کی جائے گی جو مارچ 2023ء تک مکمل ہوگی اور عام انتخابات اور بلدیاتی انتخابات اسی کی بنیاد پر ہوں گے۔ وفاقی وزیر اسد عمر نے پریس کانفرنس میں فیصلوں کا اعلان کیا اور کہا کہ متنازع مردم شماری ملکی یکجہتی کے لیے اچھی نہیں ہوتی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ تمام شراکت داروں کو ساتھ لے کر چلیں گے۔ لیکن یہ عجیب و غریب دو رنگی ہے ایک جانب مردم شماری کو متنازع بھی تسلیم کیا جا رہا ہے اور ساتھ ہی ساتھ اس متنازع مردم شماری کے نتائج کو منظور بھی کر لیا گیا۔ اسد عمر صاحب کو اس بات کا علم ہوگا کہ اگر متنازع مردم شماری ملکی یکجہتی کے لیے اچھی چیز نہیں تو اس کی منظوری کیونکر دی جائے گی لیکن کوئی ایک کام ہو جو ملک کے لیے اچھا نہیں اور حکومت اسے نہ کر رہی ہو۔ آئی ایم ایف کے پاس جانا خودکشی قرار دیتے تھے پہلے ہی سال چلے گئے۔ سرکاری اداروں کی نجکاری کو غداری قرار دیتے تھے اس کام پر بھی لگ گئے۔ جہاں تک تمام شراکت داروں کو ساتھ لے کر چلنے کی بات ہے تو دو اہم صوبوں نے متنازع مردم شماری کو تسلیم نہیں کیا سندھ نے اختلافی نوٹ لکھا اور بلوچستان نے مشاورت کے لیے مہلت مانگی لیکن سب کو ساتھ لے کر چلنے کا اعلان کرنے والے دو صوبوں کو چھوڑ کر آگے چلے گئے۔ اسد عمر صاحب کی شخصیت کا جو ہیولا پی ٹی آئی والے بناتے رہے ہیں وہ انہوں نے خود ایک ہی پریس کانفرنس میں توڑ پھوڑ کر رکھ دیا۔ فرماتے ہیں کہ 2017ء کی مردم شماری کو نہیں مانتے تو 1998ء پر چلے جائیں اس سے زیادہ بچکانہ بیان شاید عمران خان کی کابینہ میں صرف فواد چودھری ہی دے سکتے ہیں۔ سارے لوگ اعتراض کر رہے ہیں کہ مردم شماری میں کروڑوں لوگوں کو گنا ہی نہیں گیا ہے۔ کراچی کی آبادی سے آدھے لوگ غائب کر دیے گئے ہیں جب اعتراض یہ ہے تو وہ 1998ء پر کیوں جانے کی بات کر رہے ہیں جس تناسب سے آبادی بڑھ رہی ہے اسی تناسب سے کسی اضافے کی بات کر لیتے تو بھی کچھ عقل کے قریب بات لگتی لیکن اسد عمر صاحب نے تو عقل سے بعید بات کر ڈالی۔ مزید لطیفہ یہ فرمایا کہ مردم شماری کو کیسے ٹھیک کرنا ہے یہ بھی بتا دیں۔ بہت خوب!! اگر یہ بھی انہیں بتانا پڑے گا تو پھر وہ حکومت میں کیا کر رہے ہیں۔ حکومت کا کام تو غلطیوں کی خود اصلاح کرنا ہوتا ہے دوسروں سے حل دریافت کرنا تو اپنی ناکامی کا اعتراف ہے۔ اسد عمر صاحب کو یہ بھی معلوم ہوگا کہ مردم شماری میں بھی جو کام کیا گیا وہ صرف حکومت نے نہیں کیا کوئی مقتدر قوت بھی اس میں شامل تھی اور بہت سی خرابیاں اس جانب سے بھی ہوئی ہیں۔ اب اس متنازع مردم شماری کو ٹھیک کرنے کے بجائے اس کو متنازع تسلیم بھی کر لیا اور اس کے نتائج کی منظوری بھی دے دی گئی ہے۔ مردم شماری پر اعتراض کوئی نیا نہیں ہے اور اس کے خلاف جدوجہد تقریباً دو برس سے جاری ہے۔ جماعت اسلامی کراچی نے خصوصاً اس حوالے سے بھرپور جدوجہد کی ہے۔ حق دو کراچی کو کے عنوان سے جماعت اسلامی بھرپور طریقے سے کراچی کی آواز بلند کر رہی ہے۔ بار بار توجہ دلائی گئی ہے کہ کراچی کی آبادی کو گننے میں غلطی نہیں گڑ بڑ کی گئی ہے یہ سارا کھیل پیپلز پارٹی، مسلم لیگ اور وفاق کے اداروں نے کھیلا اس شہر کو جسے سب منی پاکستان کہتے نہیں تھکتے اس کو اس کے حقوق سے محروم کر دیا گیا۔ یہ محض گنتی میں کمی کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ اس آبادی کی بنیاد پر فنڈز متعین کیے جائیں گے۔ حلقوں کا انتخاب ہوگا، تعداد کم ہو جائے گی۔ وفاقی حکومت نے کس طرح یہ تماشا دکھایا ہے کہ پہلے تو متنازع مردم شماری کی بنیاد پر سارے کام کیے جائیں پھر اکتوبر تک کا وعدہ کیا جائے تو پھر اگلی مردم شماری تک کام کس بنیاد پر چلے گا۔ اگر دو سال قبل حکومت نے اعتراضات پر توجہ دی ہوتی تو آج کل نئی مردم شماری ہو رہی ہوتی اور 2023ء تک انتظار نہ کرنا پڑتا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت کو ایک معمولی بات سمجھنے میں دو سال لگ گئے تو بڑے بڑے مسائل یہ لوگ کیسے سمجھیں گے اور حل کریں گے۔ اسد عمر صاحب اور وفاقی حکومت کے دیگر ذمے داران اس غلطی پر قوم سے معافی مانگیں اور فوری طور پر نئی مردم شماری کروائیں۔ اس مرتبہ گزشتہ غلطیوں سے بچنے کی کوشش اور ضمانت ہونی چاہیے۔ امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے تو اس اعلان کو مسترد کر دیا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ شہر کی آبادی وہ بھی کراچی جیسے میگا سٹی کی آبادی کو آدھا گنا جائے اور وفاقی حکومت اس غلطی کو تسلیم بھی کرلے پھر بھی اصلاح نہ کرے۔ حافظ نعیم نے کہا ہے کہ نئی مردم شماری کے نام پر کراچی کے عوام کو لالی پاپ اور دھوکا دیا جا رہا ہے۔ صرف اس امر سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کراچی کے ساتھ کیا فراڈ کیا گیا ہے اور اس میں حکومت کو کس قدر فائدہ ہوگا۔ اگر درست مردم شماری ہو تو کراچی سے سندھ اسمبلی کی نشستیں 40 سے بڑھ کر 65 ہو جائیں گی اور قومی اسمبلی کی 21 سے بڑھ کر 35 نشستیں ہوں گی۔ جس شہر کی نشستیں اسمبلیوں میں اس طرح کم کی جائیں یہ اس شہر کو نمائندگی سے محروم کرنے کی سازش ہی سمجھی جا سکتی ہے۔ سی سی آئی میں وزیراعلیٰ سندھ نے اختلافی نوٹ دے کر درست اقدام کیا ہے۔ امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے ان کا خیر مقدم کیا ہے۔ انہوں نے سوال کیا ہے کہ حکومت بتائے کہ ڈھائی سال میں پانچ فیصد بلاکس کیوں نہیں کھولے گئے۔ کراچی میں ہزاروں بلاکس ایسے ہیں جہاں خاندان صفر اور ووٹر ڈیڑھ سو اور دو سو سے زاید ہیں۔ ان کا اعتراض بجا ہے کہ ڈھائی سال میں دو مرتبہ مردم شماری ہو سکتی تھی۔ اب بھی وقت ہے حکومت اپنی غلطی تسلیم کرے اور متنازع مردم شماری منسوخ کرکے فوری طور پر نئی مردم شماری کرائے۔