پی پی اور اے این پی فیصلوں پر نظر ثانی کریں،مولانا فضل الرحمن

210
اسلام آباد:پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان پریس کانفرنس کررہے ہیں

اسلام آباد(خبر ایجنسیاں) پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی اوراے این پی اپنے فیصلوں پر نظرثانی کرے ہم بات سننے کو تیار ہیں۔اسلام آباد میں پی ڈی ایم کا اجلاس مولانا فضل الرحمن کی رہائش گاہ پر ہوا جس میں پیپلز پارٹی، اے این پی کی پریس کانفرنسز اور بیانات کا جائزہ لیا گیا جب کہ اجلاس میں 8 جماعتوں کے نمائندوں کو مدعو کیا گیا لیکن پیپلزپارٹی اور اے این پی کو مدعو نہیں کیا گیا تھا۔اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پی ڈی ایم منصب کے لیے لڑنے کا فورم نہیں، ہم نہیں چاہتے تنظیمی معاملات چوراہوں پر لائیں، بڑی مشکلیں آئی ہیں لہذا گفتگو سے حل نکالیں، ہم نے مکمل احترام کو ملحوظ خاطر رکھ کر جواب طلب کیے تاہم افسوس ہے جواب دینے کے بجائے استعفے بھجوادیے، پیپلزپارٹی اور اے این پی اپنے فیصلوں پر نظرثانی کرے ہم بات سننے کو تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے استعفے موصول ہوگئے ہیں، انہیں زیر التواء رکھا جارہا ہے۔ دونوں جماعتوں کو سیاسی روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے چھوٹی سطح پر آکر فیصلے نہیں کرنے چاہییں۔ بڑے بڑے فیصلوں کا وقت قریب ہے، رمضان المبارک میں یہ فیصلے ہوں گے ،میدان میں رہیں گے، تحریک ، لانگ مارچ، استعفوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ عوام مہنگائی، بے انصافی سے دوچار ہے،ملک قرضوں میں دھنستا جارہا ہے، معیشت ڈوب رہی ہے بلکہ پاکستان ڈوب رہا ہے۔ کسی جماعت کو اپنے ذاتی مفاد کیلیے پی ڈی ایم کو نقصان نہیں پہنچانا چاہیے افسوس کہ دونوں جماعتوں نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا اور استعفے بجھواتے ہوئے خود کو الگ کرلیا۔ کوشش کریں گے انہیں قائل کرلیں اگر وہ اپنے فیصلوں پر نظرثانی کیلیے تیار ہوں۔ ان کے فیصلوں کا انتظار ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ مجھے توقع نہیں تھی کہ وہ باپ کو اپنا باپ بنا لیں گے۔پیپلزپارٹی نے سید یوسف رضا گیلانی کے ساتھ زیادتی کی ہے ان کی شخصیت کو مجروح کیا ہے جس پر مجھے افسوس ہے جبکہ پیپلزپارٹی نے تحریری طورپر اپوزیشن لیڈر کے عہدے کے بارے میں اتفاق رائے کیا تھا۔