حالات کو سدھارنے کے بجائے مزید بگاڑاجارہا ہے،سراج الحق

483

لاہور(نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہاہے کہ حکومت ملکی مسائل کے حل کے لیے رتی بھر سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہی۔ حالات کو سدھارنے کے بجائے بگاڑنے کی کوششیں ہو رہی ہیں ۔وزیراعظم اور ان کی ٹیم میں یا تومعاملات کی نزاکت کو سمجھنے اور انہیں حل کرنے کی صلاحیت نہیں یا انہیں جان بوجھ کر مزید خراب کیا جارہاہے ۔ دونوں صورتیں ملک کے لیے خطرناک ہیں ۔ یوٹیلیٹی اسٹورز ، لنگر خانوں کے باہر لوگوں کی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں ۔ لوگوں کو آٹا ، چینی ، دالیں سبسڈی ریٹس پر حاصل کرنے کے لیے سفارشیں ڈھونڈنا پڑتی ہیں ۔ ایسے حالات کبھی پہلے دیکھنے میں نہیں آئے ۔ کسان ، مزدور ، تنخواہ دار ، چھوٹے تاجر سب پریشان ہیں ۔ چند بڑے خاندان ملک کی تقدیر کے وارث بنے بیٹھے ہیں ۔حکمران مافیاز کے ہاتھوں بے بس ہو چکے ۔ رمضان المبارک کے لیے حکومت کے عوامی ریلیف کے اعلانات دھوکا اور فراڈ ہیں ۔ زمینی حقائق جوں کے توں ہیں ۔ لوگ مہنگائی کا رونا رو رہے ہیں ۔ حکمرانوں کو اربوں روپے کے پیکیجز کا حساب دینا پڑے گا ۔انسانیت کی معراج دین کی راہ پر چلنے میں ہے ۔ زکوٰۃ و صدقات کو عام کرنا ہوگا ۔ مومن صلہ رحمی اور امن و اخوت کا داعی ہے ۔ اسلام لوگوں کی تکالیف اور مصائب کا مداوا ہے ۔ جماعت اسلامی رمضان میں قرآن کے پیغام کو گھر گھر پہنچائے گی ۔ان خیالات کااظہار انہوںنے منصورہ میں مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ سراج الحق نے کہاکہ ملک میں چند گنے چنے امیروں کی چاندی ہے جبکہ 90 فیصد سے زایدسفید پوش اور غریب طبقات انتہائی مشکل حالات میں گزر بسر کر ر ہے ہیں ۔ حکمرانوں نے آج تک عوام کی مشکلات کو حل کرنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی ۔ ملک کے وسائل کو عوامی مسائل کے حل کے لیے استعمال کیا جاتا تو آج لوگ خوشحال ہوتے اور ادارے مضبوط ہوتے ۔انہوں نے کہاکہ کرپشن ، بدامنی ، بیڈگورننس اور صحت و تعلیم کا کمزور نظام پاکستان کی پہچان بن چکاہے ۔سیاسی جماعتیں جمہوریت کی بات کرتی ہیں مگر اپنے اندر کبھی جمہوریت نہیں لاتیں ۔الیکشن کمیشن کمزور ادارہ ہے ۔ تھانوں کچہریوں میں لوگوں کی تکالیف کا ازالہ نہیں ہوتا۔ انصاف کے حصول کے لیے ایک شخص سالہاسال کچہریوں کے چکر لگاتا ہے ۔ جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ نظام نے انسانوں کو غلام بنا رکھاہے ۔سراج الحق نے وزیراعظم کو مشورہ دیا کہ وہ اب بھی حالات کا ادراک کر کے سنجیدہ رویہ اختیار کریں ۔ لوگوں میں مزید تکالیف برداشت کرنے کی ہمت نہیں ۔ وزیراعظم کو اب’’ گھبرانا نہیں‘‘ کی رٹ بند کر کے پریکٹیکل اقدامات کرنا ہوں گے ۔انہوں نے کہاکہ رمضان المبارک میں امت مسلمہ کا ہر فرد قرآن کی تعلیمات کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی بھر پور کوشش کرے ۔ دین حق ہی انسانیت کی فلاح کا ذریعہ ہے ۔ مسلمان اس دنیا میں اللہ کا نائب ہے اس کی زندگی کا سب سے اہم مقصد اللہ اور اس کے رسول ؐ کے پیغام کو عام کرنا اورقرآن و سنت کے نظام کو نافذ کرنا ہے ۔ حکمران اگر اب بھی اسلام کے دامن میں پناہ لے لیں تو ملک بہت تھوڑے عرصے میں ترقی کر جائے گا۔ پاکستان کے عوام کو صرف اور صرف قرآن کا نظام چاہیے ، جماعت اسلامی کی کوششوں کا مقصد یہی نظام ہے۔