امریکا : پولیس گردی میں ایک اور سیاہ فام کی ہلاکت پر ہنگامے

132
منیسوٹا: سیاہ فام کی ہلاکت پر احتجاج کرنے والوں کے خلاف پولیس طاقت کا استعمال کررہی ہے‘ نوجوان سرکاری گاڑیوں پر چڑھے ہوئے ہیں

منیا پولس (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی ریاست منی سوٹا میں پولیس کی فائرنگ سے سیاہ فام کی ہلاکت کے بعد ہنگامے پھوٹ پڑے۔ خبررساں اداروں کے مطابق واقعہ شہر منیاپولیس کے مضافاتی علاقے بروک لائن سینٹر میں پیش آیااور پولیس اہل کاروں نے 20 سالہ سیاہ فام ڈاؤنٹے رائٹ کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا۔ مقتول نوجوان کو ٹریفک کی خلاف ورزی پر روکا گیا تو معلوم ہوا کہ اس کے خلاف پہلے ہی وارنٹ موجود ہیں، اہل کاروں نے جب اسے گرفتار کرنے کی کوشش کی تو وہ فرار ہوتے ہوئے مارا گیا۔ واقعے کے بعد بروک لائن کے میئرنے شہر میں کرفیو نافذ کردیا اورشہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ پولیس گردی کے خلاف سیکڑوں مشتعل مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے اور پولیس ہیڈکوارٹر کے سامنے جمع ہوکر احتجاج کیا۔ اس دوران انہوں نے نعرے بازی کی اورپولیس کی گاڑیوں پر پتھراؤ بھی کیا۔ جواب میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی۔ حکام کا کہنا ہے کہ شہر میں ہنگاموں کے دوران لوٹ مار کی اطلاعات موصول ہوئیں،جس کے بعد کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔بروک لائن شہر میں تمام اسکول بند کردیے گئے اور دیگر سرگرمیاں بھی معطل کردی گئیں۔ ریاست منی سوٹا کے گورنر کا کہنا ہے کہ وہ صورت حال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔ دوسری جانب امریکی فوج کے سیاہ فام لیفٹیننٹ نے 2پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے، جنہوں نے بندوق کی نوک پر اس کی گاڑی کو روکا اور کالی مرچ کا اسپرے بھی کیا۔ گاڑی میں لگے کیمرے میں اس واقعے کی وڈیو بھی محفوظ ہوگئی،جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ واقعے کے وقت فوج کا سیکنڈ لیفٹیننٹ کارون نزاریو وردی پہنے ہوئے تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ لائسنس پلیٹیں نہ ہونے پر اسے روکا گیا تھا لیکن وڈیو میں نمبر پلیٹیں واضح تھیں۔ تاہم بعد میں اسے بغیر کسی الزام کے رہا کردیا گیا۔ ضلعی عدالت نے ونڈسر پولیس ڈیپارٹمنٹ کے 2 افسران کے خلاف فوجی اہلکار کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔