حکومت لاپتا افراد کی بازیابی کا وعدہ پورا کرے، علامہ احمد اقبال

48

کراچی (اسٹاف رپورٹر) جوائنٹ ایکشن کمیٹی فار شیعہ مسنگ پرسنز کے زیر اہتمام پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ احمد اقبال رضوی،علامہ امین شہیدی اور دیگر مقررین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ رمضان المبارک سے قبل لاپتا افراد کی بازیابی کو یقینی بنایا جائے۔ جبری گمشدگی کے شکار آخری فرد کی رہائی تک احتجاج جاری رہے گا۔جب تک ہمارے پیاروں کو بازیاب نہیں کیا جاتا تب تک مزار قائد پر دھرنا ختم نہیں ہو گا۔16 اپریل تک بازیابی کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔حکومتی وعدوں کو عملی شکل میں دیکھنا چاہتے ہیں۔محض طفل تسلیوں سے اب کام نہیں چلے گا۔انہوں نے کہا کہ اگر ریاستی اداروں نے روایتی بے حسی کامظاہرہ کرتے ہوئے عہد شکنی کی تو رمضان المبارک کی مختلف مذہبی تقریبات اور تربیتی پروگراموں کا انعقاد بھی دھرنے میں ہو گا۔مزار قائد دھرنے میں شامل جبری گمشدہ افراد کے اہل خانہ میں مختلف بزرگ خواتین و بچے مریض بھی ہیں۔ اگر کسی کی طبیعت یا کوئی نا خوشگوار واقعہ پیش آیا تو اس کی تمام تر ذمے داری حکومت پر عائد ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ہمارے احتجاج کا فیصلہ کسی عجلت میں نہیں کیا گیا بلکہ حکومت سمیت تمام ذمے دار ریاستی اداروں کے دروازے کھٹکھٹانے کے بعد حوصلہ افزا جواب نہ ملنے پر کیا گیا ہے۔جبری لاپتا افراد کی بازیابی کیلیے احتجاج کر کے صدر پاکستان، و زیر اعظم سے ملاقاتیں کیں۔ان کی جھوٹی یقین دہانیوں کے باوجود ہم ہمت نہیں ہارے۔انہوں نے کہا کہ ملک بھر سے سیاسی و مذہبی جماعتوں نے شیعہ مسنگ پرسن کے اہل خانہ اورجوائنٹ ایکشن کمیٹی سے بھی اظہار یکجہتی کیا ہے۔ریاستی اداروں کی جانب سے افراد کو جبری گمشدہ کرنا غیر آئینی اور آئین کے آرٹیکل دس کی خلاف ورزی ہے۔ہم محب و طن ہیں لاپتا افراد کے معاملہ میں قانون اور آئین کی بات کرتے ہیں۔لاپتا افراد اگر کسی جرم میں ملوث ہیں تو انہیں عدالتوں میں پیش کیا جائے۔