“متنازع مردم شماری کی منظوری کراچی کی آدھی آبادی کو غائب کرنا ہے”

228

کراچی: امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن کا کہنا ہے کہ نواز لیگ کے دور میں ہونے والی متنازع مردم شماری کی منظوری کراچی کی آدھی آبادی کومکمل طور پر غائب کرنا ہے۔

حافظ نعیم الرحمن  نے مشترکہ مفادات کونسل میں 2017کی مردم شماری کو غلط قراردینے کے ساتھ ہی اسے منظور کرنے اور 2023میں نئی مردم شماری کے اعلان پر اپنے شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ مردم شماری پر پی ٹی آئی،ایم کیوایم اورپیپلزپارٹی سمیت سب کو تحفظات ہیں تو اسے منظور کرنے کا کیا جواز ہے؟،اس مردم شماری کو مسترد کیاجاناچاہیے۔

امیر کراچی کا کہنا تھا کہ غلط مردم شماری ایک قومی جرم ہے اس کے ذمہ داران کا تعین کر کے اس قومی جرم پر ان کی گرفت کی جانی چاہیئے تاکہ آئندہ کسی کو بھی ایسے حساس نوعیت کے معاملات میں کسی سازش کاموقع نہ مل سکے،نئی مردم شماری میں دھاندلی روکنے اور جعل سازی کرنے کی روک تھام کے اقدامات پر پوری قوم کو اعتماد میں لیا جاناناگزیر ہے۔

 حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ 70سال سے کراچی کے عوام کے ساتھ ناانصافی کا کھیل کھیلاجارہا ہے،کراچی کے ساتھ ناانصافی کے عمل میں ایم کیو ایم کو پوری طرح استعمال کیا جارہا ہے اور اس کھیل میں ایم کیو ایم حکمران طبقے کے لیے ایک کھلونا بنی ہوئی ہے۔

امیر جماعت اسلامی کراچی کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم نے کراچی کے حقوق کے لیے باتیں تو بہت کیں مگر اہل کراچی کے عملاً کچھ نہیں کیا،وزیر اعظم عمران خان بھی کراچی کے لیے اپنے تمام وعدے بھول چکے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگلی مردم شماری سے قبل ہی موجودہ مردم شماری کی منظوری پہلے قدم پر ہی اہل کراچی کے ساتھ ناانصافی اور حق تلفی کی بنیاد رکھنا ہے،جب تک کراچی کے عوام کو درست شمار نہیں کیا جائے گا اس وقت تک کراچی کو قومی و صوبائی سطح پر وسائل کی تقسیم میں اُس کا جائز اور قانونی حق نہیں مل سکتا۔