روزے کے پیچھے چھپی سائنس

319

 سائنس دانوں نے دریافت کیا ہے کہ بھوک اور پیاس کی برداشت کرکے کئی جسمانی فوائد حاصل کیے جاسکتے ہیں۔

کم کھانے سے جسم کو چربی گھلتی ہے جبکہ حیرت انگیز طور پر مطالعے سے یہ بھی معلوم  ہوا ہے کہ 30 دن سے پانی کی مقدار میں کمی سے لوگوں کی صحت پر کوئی منفی اثر نہیں پڑتا۔ مزید مطالعات سے پتہ چلا ہے کہ رمضان میں روزہ رکھنے سے ایل ڈی ایل کولیسٹرول یعنی خراب کولیسٹرول اور اضطرابی کیفیت انتہائی کم ہوجاتی ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ تین دن تک روزے رکھنے سے مدافعتی نظام پر حیرت انگیز اثر پڑ سکتا ہے۔ روزے میں جسم کے اندر موجود اسٹیم سیلز مدافعتی نظام کو تقویت بخش اور مضبوط بنانے کے لئے نئے نئے سفید خلیوں کو پمپ کرنا شروع کردیتا ہے۔ 

کئی غیر مسلموں کو اس بات پر بھی حیرت ہوتی ہے کہ مسلمان کھلاڑی رمضان کے دوران اعلی سطح پر مقابلہ کرنے کے اہل ہوتے ہیں۔ کچھ مسلمان فٹ بال روزے میں عالمی سطح پر فٹبال میچ میں حصہ لیتے ہیں۔ اسی طرح کی مثالیں دوسرے کھیلوں میں بھی پیش کی جاسکتی ہیں۔ این بی اے باسکٹ بال کے کھلاڑی حکیم اولاجوون بتاتے ہیں کہ رمضان المبارک کے دوران کھیلتے ہوئے وہ زیادہ توجہ مرکوز کرکے کھیلتے ہیں۔ 

تاہم یہ بات بھی نوٹ کی جانی چاہئے کہ پانی کی کمی کی حالت میں سخت جسمانی سرگرمی خطرناک بھی ہوسکتی ہے۔

ڈاکٹر مائیکل موسلی کی لکھی ہوئی روزے سے متعلق کتاب شائع ہونے کے بعد فوری طور پر ایک بہترین فروخت کنندہ کتاب بن گئی تھی۔ اس میں روزے کے اثرات کی تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انسان کے جسم کے لئے روزے سے زیادہ اور کوئی طاقتور چیز نہیں ہے۔

یہ روزہ کی طاقت ہے جو بیماریوں میں مبتلا لوگوں کو بھی مدد فراہم کرسکتی ہے۔ کینسر میں مبتلا افراد کے لیے روزہ کسی بھی امید سے کم نہیں۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ روزے کے دوران کیموتھیراپی سے کینسر کے خلیے جلد ختم ہوسکتے ہیں۔ روزے کے دوران عام خلیے اپنی توانائی کی خود دیکھ بھال کررہے ہوتے ہیں اور یہیہ وجہ ہے کہ کیموتھراپی کے ضمنی اثرات سے وہ اُس وقت محفوظ ہوتے ہیں جبکہ کینسر کے خلیات کی فطرت چونکہ مزید بڑھتے رہنا ہے، اس لیے وہ کیموتھیراپی کی کے زیادہ آسانی سے شکار بن جاتے ہیں۔