حکومت کا فوری نئی مردم شماری کرانے کا فیصلہ

220

اسلام آباد: حکومت نے ملک میں فوری طور پر نئی مردم شماری کرانے کا فیصلہ کیا ہے، نئی مردم شماری کا عمل رواں سال ستمبر یا اکتوبر میں شروع کیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 2017 کے مردم شماری پر بہت سے سوالیہ نشان ہیں، تاہم اس کے نتائج جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ مردم شماری کے لیے 10 سال کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ہے، ساتھ ہی یہ فیصلہ بھی ہوا کہ اگلی مردم شماری فوری بنیاد پر کرانی ہے، دنیا کے بہترین طریقہ کار سے اگلی مردم شماری کرائیں گے جس میں تمام صوبوں اور سول سوسائٹی کو شرکت دی جائیگی۔

اسد عمر نے کہا کہ حالیہ مردم شماری کی آڈٹ کا کوئی طریقہ موجود نہیں ہے، حالیہ مردم شماری منظور یا مسترد کرسکتے تھے، حالیہ مردم شماری مسترد کرتے ہیں تو 1998 پر چلے جائیں گے، اکثریت رائے سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ مردم شماری کے نتائج منظور کرتے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اگلے 6، 8 ماہ میں نئی مردم شماری کا فریم ورک تیار ہوجائے گا، مردم شماری میں ہم نے اقوام متحدہ کے اصولوں کو اپنانا ہے، رواں سال اکتوبر تک نئی مردم شماری شروع ہوگی، 2023 میں مارچ، اپریل تک مردم شماری مکمل ہوگی، نئی مردم شماری کی بنیاد پر حلقہ بندی بھی کرائی جاسکے گی۔

حالیہ مردم شماری سے متعلق اجلاس میں ووٹنگ کی گئی، بلوچستان، پنجاب، کے پی نے حق میں اور سندھ نے مخالفت میں ووٹ دیا۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ مردم شماری کو قبول نہیں کیا جاتا تو اسمبلی میں نمائندگی کم ہوگی، ہمارے وسائل کا بٹوارہ بھی آبادی کے مطابق کیا جاتا ہے، پرانی مردم شماری پر منصوبہ کریں تو چھوٹے صوبوں کی نمائندگی کم ہوگی۔