بھارت: ریاستی انتخابات میں سرکاری غنڈہ گردی عروج پر

85

بھارت کی 5 اہم ریاستوں میں گزشتہ ماہ سے ووٹنگ شروع ہو چکی ہے، جس کے لیے بھرپور انتخابی مہم زوروں پر ہے۔ حالیہ انتخابات چونکہ کئی مراحل میں منعقد کیے جا رہے ہیں، اس لیے ووٹنگ اپریل کے اختتام تک مکمل ہوگی اور ووٹوں کی گنتی 2 مئی کو کی جائے گی۔
5 ریاستوں میں سے 3 تمل ناڈو، کیرالا اور پڈو چیری کا تعلق جنوبی بھارت سے ہے، جہاں گزشتہ ہفتے ووٹ ڈالے گئے جبکہ آسام اور مغربی بنگال کا تعلق مشرقی بھارت سے ہے۔ ریاست مغربی بنگال میں 8 مراحل میں پولنگ ہو گی جبکہ آسام میں 3 مرحلوں میں ووٹ ڈالے جائیں گے۔ ایسے وقت جب بھارت میں تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، بے روز گاری کی شرح بہت زیادہ ہے، ناکام حکومتی پالیسیوں کے نتیجے میں ملک تقسیم کی جانب بڑھ رہا ہے، متنازع زرعی پالیسیوں کے خلاف کسانوں کے ملک گیر مظاہرے جاری ہیں، خواتین کی عصمت دری کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا، اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں پر زمین تنگ کردی گئی ہے اور ان کی زندگی کو سنگین خطرات لاحق ہیں، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیں جنگی جرائم کا ارتکاب کررہی ہیں، میانمر سے جان بچا کر آنے والے پناہ گزینوں کو گرفتار کرکے جیلوں میں بند کیا جا رہا ہے، انسانی حقوق کی سرکاری اور نجی سطح پر دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں، یہاں تک کہ بین الاقوامی تنظیموں اور اداروں سمیت کئی ممالک کی جانب سے بھارت پر مذہبی و انسانی آزادی اور حقوق کی شدید خلاف ورزیوں پر تنقید بھی کی گئی ہے،نریندر مودی کی قیادت میں ہندو انتہا پسند جماعت بی جے پی کی مرکزی حکومت کے لیے یہ انتخابات کسی امتحان سے کم نہیں ہیں۔
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اپنے پچھلے دور حکومت سے قبل انتخابی مہم میں کیے گئے نعروں کو آج بھی دہراتے نظر آتے ہیں، جس کا مرکزی خیال ہندوتوا پالیسی پر گامزن رہنا اور بھارت میں اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کی زندگی اجیرن بنانا ہے۔ کسی بھی دور کے انتخابات ہوں، بی جے پی کا بدترین ریکارڈ رہا ہے کہ ہندو مسلم فسادات سمیت متنازع موضوعات کو چھیڑ کر انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے کی ہمیشہ کوشش کی جاتی رہی ہے جب کہ حکومت میں رہتے ہوئے بی جے پی نے تمام سرکاری وسائل کا استعمال کرتے ہوئے، متنازع اور پارٹی مفادات پر مبنی ناقص فیصلوں اور اقدامات کے علاوہ عدلیہ اور میڈیا کو دباؤ میں لاکر اپنی مرضی اور خواہشات مسلط کرنے کے ساتھ فورسز کے ذریعے طاقت کا بدترین استعمال کیا گیا اور سیاسی مفادات کے حصول کے لیے انسانی جان کو حقیر ترین سمجھتے ہوئے مخالفین کے خون سے ہولی کھیلی گئی۔
2 دن قبل ہی ہفتے کے روز مغربی بنگال میں انتخابات کے چوتھے مرحلے کے دوران پرتشدد واقعات میں 5 افراد ہلاک جبکہ 4 زخمی ہوئے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق کئی مقامات پر پرتشدد واقعات رونما ہوئے، جس کے نتیجے میں 5 افراد ہلاک اور 4 زخمی ہوگئے۔ وزیراعلیٰ ممتا بنر جی نے الزام عائد کیا ہے کہ پولنگ کے دوران سیکورٹی فورسز کی فائرنگ کے باعث 4 افراد ہلاک ہوئے اور وزیر داخلہ امیت شاہ کی ایما پر یہ کارروائی کی گئی ہے۔
ریاست مغربی بنگال میں گزشتہ 10 برس سے ممتا بنرجی کی علاقائی جماعت ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی حکومت ہے اور بی جی پی کی سب سے زیادہ توجہ بھی اسی ریاست پر ہے۔ ریاستی اسمبلی کی 294 نشستیں ہیں، جس کے لیے دونوں جماعتیں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہیں۔ بی جے پی نے دارالحکومت کولکتہ میں بڑی ریلی نکالی جس سے وزير اعظم نریندر مودی نے خطاب کیا، جس میں انہوں نے بنگال میں اصل تبدیلی کا نعرہ لگایا اور ریاستی وزیر اعلیٰ پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ ممتا بنرجی کے اقتدار کے اب بہت دن کم بچے ہیں۔ میں بنگال کی ترقی، سرمایہ کاری اور بنگالی تہذیب و ثقافت کے تحفظ کی یقین دہانی کراتا ہوں۔ واضح رہے کہ چند روز قبل ہی بھارتی وزیر اعظم بنگالیوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے بنگلادیش کا دورہ بھی کرکے آئے ہیں۔ دوسری جانب ترنمول کانگریس نے گیس، پیٹرول، ڈیزل کی قیمتوں میں حال ہی میں ہونے والے اضافے اور مرکزی حکومت کے زیر اہتمام بڑی تعداد میں سرکاری ملکیت کے کاروباری اداروں کے حصص کی فروخت کے منصوبوں سمیت کئی تنازعات کی بنیاد پر مودی سرکار پر سخت تنقید ی کی ہے۔ یاد رہے کہ حال ہی میں ممتا بنرجی پر ایک قاتلانہ حملہ بھی کیا گیا تھا، جس میں ان کی ٹانگیں شدید متاثر ہوئی ہیں۔
بھارتی صحافی اور سیاسی تجزیہ کار شبھوجیت بگچی کے مطابق بائیں بازو کے محاذ کے حوالے سے معروف ریاست مغربی بنگال میں بھی اب بی جے پی ایک بڑی طاقت ہے۔ یہاں ہندو قوم پرستی کی جڑیں بہت پرانی ہیں، تاہم بائیں بازو کے محاذ کے دور اقتدار میں اس کا اثر کم ہو گیا تھا۔ گزشتہ کچھ برسوں سے بی جے پی نے اس کی اس انداز سے آبیاری کی ہے کہ ریاست بنگال بھی ہندو قوم پرستی کی آمجگاہ بن چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دوسری جماعتوں کے مقابلے میں ریاست کی سیاست پر اب بھی ممتا بنرجی کی گرفت زیادہ مضبوط ہے، تاہم دیکھنا یہ ہو گا کہ بی جے پی کے رہنما بنگال پر اپنی طاقت اور پیسہ کتنا خر چ کرتے ہیں۔ اگر ممتا جیت بھی جائیں تو بھی بی جے پی پیسوں کی طاقت سے ان کی پارٹی کو توڑ کر انہیں اقتدار سے محروم کر سکتی ہے۔
بنگال کی پڑوسی ریاست آسام میں اسمبلی کی 126 نشستیں ہیں۔ یہاں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ہے جہاں اس کے مد مقابل کانگریس کی قیادت والا اتحاد ہے۔ بنگلا دیش سے متصل سرحد پر بسے آسام میں مسلمانوں کی آبادی 30 فیصد ہے اور اس ریاست میں شہریت ترمیمی بل اور نیشنل رجسٹر فار سٹیزن (این آر سی) سب سے اہم سیاسی موضوع ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی کو ریاست میں جہاں حکومت مخالف رجحان کا سامنا ہے وہیں اس کی ایک اہم اتحادی جماعت کے الگ ہونے سے اس کے لیے مشکلوں میں اضافہ ہوا ہے۔ شبھوجیت بگچی کہتے ہیں کہ چونکہ آسام میں بھی بی جے پی کے حالات پہلے جیسی نہیں رہے اس لیے بھی وہ بنگال پر اپنی توجہ زیادہ مرکوز کر رہی ہے۔
جنوبی ریاست تمل ناڈو میں اسمبلی کی کل 234 سیٹیں ہیں۔ اس ریاست میں بی جے پی نے حکمراں علاقائی جماعت اے آئی ڈی ایم کے ساتھ اتحاد کیا ہے اور محض 20 سیٹوں پر انتخاب لڑ رہی ہے تاہم اسے اقتدار میں آنے کا پورا یقین ہے۔ اس کے مقابلے اپوزیشن ڈی ایم کے اور کانگریس کا متحدہ محاذ ہے۔ جنوبی بھارت سے تعلق رکھنے والے صحافی پروین کمار کہتے ہیں کہ ریاست میں حکمراں جماعت اے آئی ڈی ایم کے کو شدید حکومت مخالف رجحان کا سامنا ہے اور اس کی رہنما جے للتا کے نہ ہونے سے بھی پارٹی کافی کمزور ہو گئی ہے۔کانگریس اور ڈی ایم کا اتحاد بہت مضبوط پوزیشن میں ہے اور اس ریاست میں بی جے پی کا اثر و رسوخ تو نہ ہونے کے برابر ہے۔
قدرتی حسن اور مناظر سے مالا مال جنوبی ریاست کیرالا تعلیم کے اعتبار سے بھارت کی سب سے ترقی یافتہ ریاست ہے، جہاں اسمبلی کی 140 نشستیں ہیں۔ یہاں عموما ایک مرتبہ کانگریس اتحاد اور دوسری مرتبہ میں بائیں بازو کا محاذ اقتدار میں آتا ہے۔ اس بار بھی انہیں دو میں سخت مقابلہ ہے۔پروین کمار کے مطابق بی جے پی کیرالا میں بھی اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے کے لیے کافی کوششیں کر رہی ہے تاہم زمینی حقائق کہتے ہیں کہ وہ بہت کمزور ہے۔ ہندو قوم پرستی کا نظریہ یہاں بھی پھیلانے کی پوری کوشش ہے۔ اس سے ان کے ووٹ شیئر میں بھی اضافہ ہو گا، تاہم ان کے لیے اپنی ایک روایتی سیٹ سے آگے بڑھانا بہت مشکل ہے۔
جنوبی ریاست تمل ناڈو کے پاس ہی پڈو چیری ایک چھوٹی ریاست ہے، جس میں کل 33 سیٹیں ہیں۔ اس میں 5 نشستیں پسماندہ برادری کے لیے مخصوص ہیں۔ اس میں کانگریس پارٹی کی حکومت تھی جو چند روز پہلے ہی گر گئی تھی اور اب وہاں صدارتی راج نافذ ہے۔ بی جے پی نے اس ریاست میں اپنے قدم جمانے کے مقصد سے چھوٹی چھوٹی علاقائی جماعتوں سے اتحاد کیا ہے جبکہ کانگریس نے ڈی ایم کے پارٹی کے ساتھ الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔
مختصراً کہا جا سکتا ہے کہ بی جے پی نے بنگال کو فتح کرنے کے لیے ہر ہتھکنڈا آزمانا شروع کر دیا ہے۔ در حقیقت مغربی بنگال بھارت کی وہ واحد ریاست ہے جہاں بی جے پی کی دال اب تک نہیں گلی بلکہ مودی نواز متعصب میڈیا کے مطابق ممتا آخری اور واحد خاتون ہے جو بی جے پی کے خلاف کھڑی ہے۔ اتر پردیش سے تو آوازیں اٹھنا شروع ہو چکی ہیں کہ ہم نے بی جے پی کو ووٹ دیا، مگر اس نے دھوکا دیا۔ نتیجتاً بی جے پی کی سیاسی زمین میں دراڑیں پڑ گئی ہے، لیکن عین موقع پر وہ اپنا کامیاب اور استیصالی ’’ہندو مسلم کارڈ‘‘ کھیلے گی اور ایک بار پھر انتہا پسندوں کی غنڈہ گردی استعمال کرتے ہوئے کامیابی سمیٹنے کی کوشش کرے گی۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بھارت میں خوف کا شکار مسلمان کہاں جائیں؟ آسام کی طرح ہندو توا کی سیاست کے سہارے بی جے پی بنگال میں کامیاب ہونا چاہتی ہے ۔ مخالفین کا کہنا ہے کہ کورونا کے انجکشن سرٹیفکیٹ پر مودی کی تصویر کی طرح وہ دن بھی اب دور نہیں جب ملک کا نام بدل کر مودی رکھ دیا جائے گا۔ ممتا بنرجی کی مخالفت میں مغربی بنگال پر سیاسی قبضے کے لیے بی جے پی پچھلے کئی برس سے جس طرح منصوبہ بندی کر رہی ہے، اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ کسی بھی حد تک گر سکتی ہے۔ بھارتی تجزیہ نگار ڈاکٹر چکرورتی کے مطابق مغربی بنگال میں کوئی بھی سیاسی پارٹی اقلیتوں (مسلمانوں) کو نظر انداز کرکے اپنے پیر نہیں جما سکتی ہے۔ مغربی بنگال میں مسلمانوں کی آبادی 27 فیصد ہے،جو کسی بھی پارٹی کے لیے بہت اہم ہے اور بی جے پی یہاں ووٹ تقسیم کرنے کے لیے ہرممکن زور لگائے گی۔ 2016ء کے اسمبلی انتخابات میں بھی بی جے پی کے امیدواروں کی فہرست سے پتا چلتا ہے کہ پارٹی نے کچھ نشستوں پر مسلم امیدوار اتارے تھے۔
بنگال کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے صحافی شبھم گھوش کہتے ہیں کہ شمالی بھارت کی طرح بنگال میں     بھی مسلم آبادی زیادہ ہے، اس لیے آنے والے وقت میں یہاں فرقہ وارانہ پولرائزیشن تیزی سے ہو گا۔ ترنمول  کانگریس بھی اکثریتی خوشامدانہ پالیسی کا کھیل کھیلے گی کیونکہ اس کے پاس اپنا کوئی نظریہ نہیں ہے۔ بی جے  پی آسام کی طرح بنگال میں بھی این آر سی جیسے قدم بھی اٹھا سکتی ہے، جس سے مسلمانوں کی بقا خطرے میں               پڑ جائے گی۔

مغربی بنگال کی 27 فیصد مسلم آبادی کانگریس لیفٹ اور ترنمول کانگریس کو ووٹ دیتی آئی ہے۔ بایاں بازو محاذ کے 34 سالہ طویل دور اقتدار کا ایک اہم ستون یہی مسلم آبادی اور اسی طرح ممتا کا 10 سالہ دور حکومت بھی مسلمانوں ہی کا مرہون منت ہے۔آبادی کے تناسب سے بنگال اسمبلی کی کل 294 سیٹوں میں مسلمانوں کی 79 سیٹیں بنتی ہیں لیکن ایسا کبھی نہیں ہو پایا پچھلے 2 انتخابات میں مسلم نمائندگی 59 سیٹیں ہی رہیں جو کہ کل سیٹوں کا 20فیصد ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق ان سیاسی پارٹیوں کے تنظیمی ڈھانچے میں مسلمانوں کا فیصد انتہائی کم ہے یعنی جو کوئی مسلمان الیکشن جیتتا ہے وہ ملک کے دیگر حصوں کی طرح پارٹی کے نہیں بلکہ اپنے بل پر جیتتا ہے یعنی مسلمان متحد طور پر الیکشن لڑیں اور متحد طور پر ووٹنگ کریں تو جیت کو بڑھایا جا سکتا ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق بنگال میں کم از کم 125 سیٹیں ایسی ہیں جہاں مسلمان فیصلہ کن حیثیت کے حامل ہیں، تاہم یہاں مسلمانوں میں کچھ تقسیم نظر آتی ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ مسلم حلقے نہ صرف اپنی نمائندگی بڑھانے کی فکر کریں بلکہ مخالفین کو روکنے کے لیے بھی بہترین تدبیر کریں۔ مسلمان بی جے پی کو شاذو نادر ہی ووٹ دیتے ہیں اور بی جے پی بھی مسلم ووٹوں کی پروا نہیں کرتی۔ وہ تو صرف ہندوؤں کو مسلمانوں سے ڈرا کر اپنی طرف کھینچتی ہے۔بنگال کے لیے بھی بی جے پی کا جو پلان میڈیا میں آیا ہے، اس میں مسلمانوں کا کوئی ذکر نہیں۔
انتخابات کے دوران ہمیشہ کی طرح متنازع موضوعات کو اچھالتے ہوئے بی جے پی نے اس بار بھی اپنے آخری حربے مسلم کارڈ ہی کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں میڈیا میں آنے والی خبروں کے مطابق بھارت میں انتہاپسند ہندوؤں کے بعد فوج بھی مسلمانوں کے مذہبی تشخص کو پامال کرنے کی سازشوں میں شریک ہو چکی ہے۔ نئی دہلی میں وقف بورڈ نے لودھی روڈ کے پاس واقع صدیوں پرانی لال مسجد کو منہدم کرنے کے خلاف عدالت سے رجوع کیا، جس پر دہلی ہائی کورٹ سے مسجد کو 29 اپریل تک شہید نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اس سے قبل نئی دہلی کی پولیس نے مسجد کے امام کو آگاہ کیا تھا کہ وہ مسجد خالی کر دیں۔ دہلی وقف بورڈ کا کہنا ہے کہ یہ مسجد صدیوں پرانی ہے، جسے دہلی کے مسلمان حکمرانوں نے تعمیر کیا تھا۔ 1970ء کی حکومتی دستاویزات میں بھی یہ پورا علاقہ مسلم قبرستان اور لال مسجد کے نام سے درج ہے۔ مودی حکومت نے 2017 ء میں قبرستان کو اپنے قبضے میں لے کر پوری زمین کو نیم فوجی یونٹ سینٹرل ریزرو پولیس فورسز (سی آر پی ایف) کے حوالے کر دیا تھا۔ اس کا مقصد وہاں نئی بیرکیں اور دفاتر تعمیر کرنا تھا۔ عدالتی کارروائی کے دوران وقف بورڈ نے پیش کردہ دستاویزات میں موقف اختیار کیا کہ حکومت نے تعمیر کے لیے زمین لیتے وقت قبرستان اور مسجد کو تحفظ فراہم کر نے کا وعدہ کیا تھا۔ بعد میں حکومت اپنے وعدے سے مکر گئی اور تیزی سے وہاں تعمیرات کا آغاز کر دیا تھا۔ اس کے نتیجے میں قبرستان کے آثار تقریباً ختم ہو چکے ہیں اور صرف مسجد کا حصہ باقی بچا ہے، جسے توڑنے کی تیاری کی جارہی ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق دہلی ہائی کورٹ نے مسجد کو مسمار کرنے کے معاملے پر حکومت سے جواب طلب کیا ہے،جس پر حکومت نے عدالت کو 29 اپریل تک کوئی کارروائی نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ واضح رہے کہ 1947ء سے قبل ہندوستان میں جو مساجد اور مسلمانوں کے ماضی کی شان دار یادگاریں ان کا اب دہلی میں نام و نشان تک نہیں ہے۔ دوسری جانب عدالت نے نئی دہلی فسادات کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ پولیس دنگوں کی تحقیقات کے دوران مکمل طور پر جانب دار رہی۔ عدالت نے شمال مشرقی دہلی میں گزشتہ سال ہونے والے فسادات کے دوران مدینہ مسجد شیووہار میں آتش زدگی کے کیس میں پولیس کی سخت تنبیہ کی اور کہا کہ تحقیق کے دوران دہلی پولیس کا رویہ غیر معقول اور جلدبازی پر مبنی ہے۔
اس کے علاوہ بھارت میں بنارس کی تاریخی گیان واپی مسجد کو شہید کرنے کی راہ ہموار کی جارہی ہے۔ مغل شہنشاہ اورنگ زیب کی تعمیر کرائی گئی اس مسجد پر ہندو انتہاپسند تنظیمیں مندر ہونے کا بے بنیاد دعویٰ کررہی تھیں، تاہم اب ایک عدالت نے حکم دیا ہے کہ شہر کی تاریخی گیان واپی مسجد مندر توڑ کر بنائی گئی تھی یا نہیں اس بات کی تحقیق کے لیے اس کی کھدائی کی جائے اور پتا کیا جائے کہ مسجد کی عمارت کے نیچے کیا ہے۔ بنارس کی یہ مسجد شہر کے معروف کاشی وشوا ناتھ مندر کے پاس ہی واقع ہے۔ عشروں قبل ہندو تنظیموں نے اس مسجد کے خلاف یہ دعویٰ کرتے ہوئے مقدمہ دائر کیا تھا کہ مغل شہنشاہ اورنگ زیب عالمگیر نے قدیم وشوناتھ مندر کو توڑ کر اس کی جگہ یہ مسجد تعمیر کی تھی۔ اسی مقدمے کی سماعت کے دوران جج آشوتوش تیواری نے مسجد کا سروے کرنے کا حکم دیتے ہوئے محکمہ آثار قدیمہ کے ڈائریکٹر جنرل کو ہدایت کی کہ وہ اس کام کے لیے 5ایسے افراد پر مشتمل کمیٹی تشکیل دیں جو آثار قدیمہ کے علم کے ماہر ہوں۔ عدالت نے اس کمیٹی میں اقلیتی برادری کے صرف 2 افراد کو شامل کرنے کا حکم دیا ہے، جو اس معاملے کو مشکوک بنا رہا ہے۔ اس طرح کمیٹی میں اکثریت سرکاری ماہرین کی ہوگی، جو معاملے کو باآسانی ہندو انتہاپسندوں کے حق میں کرسکتے ہیں۔ ریاست اتر پردیش کے سنی وقف بورڈ نے ذیلی عدالت کے اس فیصلے کو الٰہ آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔