کراچی کی موجودہ مردم شماری منسوخ کر کے نئی مردم شماری کرائی جائے ،حافظ نعیم

91

کراچی(نمائندہ جسارت)امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے مطالبہ کیا ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں 2017ء میں کی گئی موجودہ مردم شماری کو منسوخ کرکے نئی مردم شماری کے لیے پارلیمانی کمیٹی کا اعلان کیا جائے ،وزیر اعلیٰ سندھ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں جعلی مردم شماری پر صرف اعتراض کرنے کے بجائے جلد از جلد دوبارہ مردم شماری کرانے کے لیے وفاق پر دبائو ڈالیں ،مردم شماری ایک بہت ہی اہم مسئلہ ہے، اس ہی کی بنیاد پر وسائل کی تقسیم ہوتی ہے،جب کراچی کی آدھی آبادی کو ہی غائب کر دیا جائے، تو اسے اس کا جائز حق کس طرح مل سکتا ہے، کراچی میں بلدیاتی انتخابات کا التوا کسی صورت میں قبول نہیں کیا جائے گا، موجودہ بلدیاتی ایکٹ منسوخ اور فوری بلدیاتی انتخابات کراکے بااختیار شہری حکومت قائم کی جائے ،جماعت اسلامی کی ’’حقوق کراچی تحریک ‘‘ کے سلسلے میں رمضان المبارک میں شہر بھر میں13 احتجاجی جلسے کیے
جائیں گے ،کے الیکٹرک کا لائسنس منسوخ کر کے اسے قومی تحویل میں لیا جائے اور کے الیکٹرک کا 16سال کا فرانزک آڈٹ کرایا جائے،کے الیکٹرک رمضان المبارک میں لوڈشیڈنگ بالکل نہیں کرے ، وفاقی حکومت کے الیکٹرک کو بھاگنے کا موقع فراہم کرکے نئی کمپنی لانے کی تیاری کررہی ہے، قومی خزانے پر بوجھ ڈال کر کے الیکٹرک کو مزید نوازا جارہاہے،ایسی صورت میں کے الیکٹرک کے ذمہ سوئی گیس سمیت دیگر اداروں کی 300ارب کے واجب الادا رقم قومی خزانے سے ادا کی جائے گی،جماعت اسلامی کسی صورت کے الیکٹرک کو بھاگنے کا موقع نہیں دے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ادارہ نور حق میں’’حقوق کراچی تحریک ‘‘ اور مشترکہ مفادات کونسل میں مردم شماری کے حتمی فیصلے کو مسلسل زیر التوا رکھنے کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر نائب امرا کراچی ڈاکٹر اسامہ رضی ، راجا عارف سلطان ، انجینئر سلیم اظہر ، سیکریٹری اطلاعات کراچی زاہد عسکری اور دیگر بھی موجود تھے ۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ صوبائی حکومت اور پیپلز پارٹی کو اس مسئلہ پر دہرا معیار ترک کرکے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ نواز لیگ کے دور میں 2017کی جعلی اور متنازع مردم شماری کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا،جعلی مردم شماری وفاقی ادارے پاکستان بیورو آف شماریات (PBS)کے تحت ہوئی تھی ، اب وفاق میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے ، وہ اپنی ذمے داری پوری کرتے ہوئے فوری طور پر دوبارہ مردم شماری کرائے ،اگر وفاق کی جانب سے سی سی آئی کے اجلاس میں مردم شماری کے متنازع اعدادو شمار کو 2024ء میں صحیح کرنے کا موقف اختیار کرکے اسے حتمی شکل دینے کی کوشش کی گئی تو یہ اہل کراچی کے ساتھ سرا سر ظلم و نا انصافی اور کراچی دشمنی کا عمل ہوگا ،جب تک مردم شماری درست نہیں ہوگی ، کراچی کے مسائل حل نہیں ہوںگے ۔ حافظ نعیم الرحمن نے چیف جسٹس سے درخواست کی کہ 6برس سے التواء کا شکار جماعت اسلامی کی کے الیکٹرک کے حوالے سے پٹیشن سماعت کے لیے منظور کریں ، تاکہ 27 لاکھ صارفین اور 3 کروڑ عوام کا مسئلہ حل ہوسکے ۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم نے وفاقی کابینہ سے مردم شماری کی منظوری کرائی ہے جو چیز کابینہ سے منظور ہو چکی ہے اب اس پر سی سی آئی میں بات کیا ہو گی؟،پی ٹی آئی ،ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی اگر کراچی کے عوام کا مینڈیٹ رکھنے کا دعویٰ کرتی ہیں تو انھیں سب سے پہلے مردم شماری درست کرانی چاہیے ،تاکہ صوبائی سطح پر وسائل کی تقسیم میں کراچی کے 3 کروڑ عوام کو ان کا جائز اور قانونی حق مل سکے ۔ انہوں نے کہا کہ 2017کی مردم شماری میں بے شمار سقم موجود ہیں ، جن کی نشاندہی ہم نے پہلے بھی کی تھی ، کراچی کے بعض بلاکس میں ووٹرز کی تعداد اس بلاک کی کل آبادی سے بھی دگنی ہے،کچھ بلاکس میں گھرانوں کی آبادی کی تعداد صفر ہے لیکن وہاں درجنوں ووٹرز ہیں،حکومتوں میں شامل جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس مسئلے پر آواز بلند کریں۔ انہوں نے کہا کہ حکمران پارٹیاں ملک بھر میں بلدیاتی انتخابات نہ کرانے پر متفق ہیں اور بلدیاتی انتخابات کو مردم شماری کے ساتھ منسلک کرکے ان کا التواء چاہتی ہیں ۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی نے ہمیشہ کراچی کے مسائل کے حل اور 3 کروڑ عوام کے حقوق کی جدو جہد کی ہے ،جماعت اسلامی کراچی کے عوام کے حق اور درست مردم شماری کے لیے ہر قسم کے جمہوری، آئینی و قانونی راستے اختیار کر ے گی۔