پاکستان اسٹیل مل کی اراضی من پسند افراد کو نوازنے کی کوشش ہورہی ہے،سندھ حکومت

82
 کراچی :وزیر اطلاعات سندھ سید ناصر حسین شاہ فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس میں پریس کانفرنس کررہے ہیں

کراچی(اسٹاف رپورٹر) صوبائی وزیر بلدیات ، اطلاعات اور مذہبی امور سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ پاکستان اسٹیل ملز سے بڑے پیمانے پر مشینری اور میٹریل چوری ہونے کا مقدمہ درج کرا دیا ہے ،اس سلسلے میں سینئر پولیس افسر سے انکوائری کرا کر ذمے داروں کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے ،یار دوستوں کو نوازنے کے لیے اسٹیل ملز اراضی اونے پونے داموں فروخت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔وہ ہفتے کو پریس کلب میں پریس کانفر نس سے خطاب کررہے تھے،اس موقع پر پیپلزپارٹی ورکرز یونین کے چیئرمین شمشاد قریشی،کرامت علی ودیگر موجود تھے۔ناصر حسین شاہ نے کہا کہ موجودہ اسٹیل ملز کی موجودگی میں دیگرمقامات پر اسٹیل ملز لگانے کا فیصلہ احمقانہ فیصلہ ہوگا۔بلاول زرداری کی ہدایت پر 4 سرکاری اور 4 مزدور اتحادوں پر مشتمل کمیٹی قائم کردی گئی جو ادارے کے بارے میں پالیسی واضح کر ے گی ۔انہوں نے کہا کہ ہم اسٹیل ملز کو لینے کے لیے تیار ہیں اور مزدوروں کے ساتھ ملکر ادارے کو چلائیں گے،کسی کو یہ اہم اراضی ہتھیانے نہیں دیں گے اور نہ ہی ادارے کے مزدوروں کو بے روزگار ہونے دیںگے۔انہوں نے کہا کہ اگر وفاقی حکومت اسٹیل ملز کو چلانا چاہتی ہے توہم مکمل تعاون کریں گے،تاہم اس اہم قومی اثاثے کو تباہ ہونے نہیں دیں گے ،سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ماضی میں اسٹیل ملز کو چلانے کے لیے آصف علی زرداری نے روس کے ساتھ ایم او یو پر دستخط کیے تھے ،لیکن چند ماہ بعد پیپلزپارٹی حکومت کی مدت پوری ہونے سے اس پر عمل درآمد نہیں ہوسکا۔انہوں نے کہا کہ حال ہی میں روس کے وزیر خارجہ کے دورہ پاکستان کے موقع پر وزیراعلیٰ سندھ نے ان سے اسٹیل ملز چلانے پر بات کی ہے اور انہیں باور کرایا کہ سندھ حکومت اس ادارے کو چلا کر لوگوں کو بے روزگاری سے بچانا چاہتی ہے ۔انہوں نے کہا اسٹیل ملز میں ماضی میں بھی ریٹائرڈ فوجی افسران موجود تھے ،تاہم اس طرح میٹریل کی چوری نہیں ہوئی تھی،شمشاد قریشی نے کہا کہ ادارے کی موجودہ انتظامیہ کے دور میں 55 ارب روپے خسارہ بڑھا ہے ،ادارے کی 18 ہزار ایکڑ زمین ہے ،جس کی مالیت ایک ہزار ارب روپے سے زائد ہے ،یہ زمین من پسند لوگوں کو دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔آج اسٹیل ملز کی یہ حالت ہوگئی ہے کہ بجلی کا 100 میٹر تار چوری ہوا ہے جس کی وجہ سے جمعہ سے اب تک وہاں بجلی موجود نہیں ہے جو سیکورٹی افسران یا اہلکار تاروں کی حفاظت نہ کرسکے وہ باقی سیکورٹی کس طرح سنبھالیں گے ۔انہوں نے کہا کہ آج اسٹیل مل کی پٹڑیاں اکھاڑ کر وہ بھی فروخت کی جارہی ہیںاور روزانہ 10 سے 15 ٹرکوں پر سامان لاد کر ادارے سے چوری کیا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ عامر ممتاز جیسے شخص کو بورڈ کا سربراہ بنادیا گیا،جسے اس صنعتی ادارے کے بارے میں کوئی تجربہ نہیں ہے ۔