جیکب آباد: خونی تصادم میں 3 بچوں اور خاتون سمیت 8 افراد قتل

156

جیکب آباد: جیکب آباد میں دیرینہ تنازع پر مسلح افراد کا جدید اسلحہ سے گھر پر خوفناک حملہ، کٹوہر برادری سے تعلق رکھنے والے ایک ہی گھر کے 3 معصوم بچوں اور خاتون سمیت 6 افراد قتل جبکہ جوابی حملے میں جلبانی برادری کے بھی 2 افراد قتل ہوگئے، پولیس نے پورے علاقے کو سیل کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق جیکب آباد کی تحصیل گڑہی خیرو کے پنھوں بھٹی تھانہ کی حدود گاؤں کالو خان کٹوہر پر جدید اسلحہ سے لیس مسلح افراد نے محمد بچل کٹوہر کے گھر پر جدید اسلحہ سے حملہ کرکے فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں کٹوہر برادری سے تعلق رکھنے والے ایک ہی گھر کے 3معصوم بچوں اور خاتون سمیت 6افرادجاں بحق ہوگئے۔

پولیس کے مطابق  گھر  میں جاں بحق ہونے والوں میں محمد بچل، غلام سرور اور مسمات مورزادی سمیت معصوم بچے 3سالہ سالار، راجہ اور شاہزیب کٹوہر شامل ہیں جبکہ حملہ آور حملہ کرنے کے بعد فرار ہوگئے۔

واقع کی اطلاع پر پولیس کی بھاری نفری نے پہنچ کر علاقے کو اپنے گھیرے میں لے لیا اور لاشیں تعلقہ اسپتال گڑہی خیرو منتقل کی گئی جبکہ واقع کے بعد شہداد کوٹ کے گوٹھ نور محمد پرجوابی حملہ کردیاگیا جس کے نتیجے میں جلبانی برادری سے تعلق رکھنے والے دو افراد محمد بخش جلبانی اور ممتاز جلبانی موقع پر جاں بحق ہوگئے اور ایک خاتون زخمی بھی ہوئیں۔

واضح رہے کہ ایک سال قبل ایک شخص کی ہلاکت کے بعد ایک دوسرے پر شک کی بنیاد پر  حملے کیے گیے اور 8افراد جانیں لقمہ اجل بن گئی جبکہ اس وقت تک دونوں فریقین کے اب تک 15 افراد اور  2 راہگیر بھی اسی معاملے پر قتل ہوچکے ہیں۔

خیال رہے کٹوہر اور جلبانی برادری کے درمیان ہونے والے خونی تصادم کے بعد پولیس نے پورے علاقے کو سیل کردیا ہے اور علاقہ میں پولیس کی بھاری نفری کو تعینات کیا گیا ہے ، ایس ایس پی جیکب آباد شمائل ریاض ملک نے جائے وقوعہ پرپہنچ کرجگہ کا معائنہ کیا اور کٹوہر برادری کے افراد کو یقین دہانی کرائی کہ ملزمان کو جلد گرفتار کیا جائے گا۔

ایس ایس پی کا کہنا تھاکہ جیکب آباد کی حدود میں 6 افراد قتل ہوئے ہیں اور یہ بڑا افسوسناک واقعہ رونما ہوا ہے کہ معصوم بچوں کو بھی نشانہ بنایا گیا جبکہ واقع میں ملوث کسی ملزمان کو نہیں چھوڑا جائے گا۔

دوسری جانب کٹوہر برادری کے قتل ہونے والے 6افراد کی میتیں پوسٹ مارٹم کے بعد واپس گاؤں منتقل کردی گئی ہیں جبکہ ایک ہی گھر کے 6 افراد کے قتل پر علاقہ میں سوگ کی لہر چھائی ہوئی ہے اور گردونواح کے علاقوں کے لوگ ہمدردی کے لیے متاثرین کے پاس پہنچ گئے ہیں۔