سندھ میں کتا مار مہم کے نام پر کروڑوں روپوں کی کرپشن

263

کراچی: سندھ میں بلدیاتی اداروں کی جانب سے کتا مارمہم کے نام پر کروڑوں روپے خرچ کئے جانے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہے جبکہ محکمہ بلدیات سندھ کی تحقیقاتی کمیٹی اس حوالے سے رپورٹ مرتب کرے گی۔

تفصیلات کے مطابق سندھ میں خصوصی مہم میں مارے گئے کتوں کی تعداد ار ان کی نس بندی سے متعلق تحقیقات شروع کردی گئی ہے اور  محکمہ بلدیات سندھ کی تحقیقاتی کمیٹی اس کی رپورٹ مرتب کرے گی جبکہ 26 مارچ کو بنائی گئی کمیٹی کو اب تک مکمل تفصیلات نہیں مل سکیں ہیں اور ڈی جی لوکل گورنمنٹ کا کہنا ہے کہ رپورٹ بننے میں ابھی وقت لگےگا۔

خیال رہے سندھ کے بلدیاتی اداروں نے کتا مارمہم کے نام پر 6 کروڑ روپے جاری کیے گئے تھے جبکہ سیکریٹری بلدیات نے 1 لاکھ97 ہزار799 کتے مارنے کی رپورٹ اعلیٰ حکام کو بھیج دی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ کتوں کو مارنے کیلیے 5 کروڑ 97لاکھ 96 ہزار روپے کے کیپسول، ٹیبلیٹ، بوتلیں خریدی گئیں۔

رپورٹ کے مطابق مہم میں کے دوران کراچی میں 11 ہزار 233 کتے مارنے کیلیے 47 لاکھ 48 ہزارروپےخرچ ہوئے جبکہ مہم میں کےدوران حیدرآباد میں67 لاکھ روپےخرچ کرکے15 ہزار کتے اور میرپور خاص میں32 لاکھ  84 ہزار روپےخرچ کرکے 55 ہزار 355کتے مارے گئے۔

یاد رہے  سندھ بھر میں کتوں کے کاٹنے کے بڑھتے ہوئے واقعات اور ہائیکورٹ کی جانب سے سخت احکامات کے بعد پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کو ہوش آگیا اورکراچی سمیت صوبے بھر میں کتا مار مہم کا آغاز 27 مارچ سے کردیا گیا جبکہ سندھ ہائیکورٹ نے کتا مار مہم کی نگرانی نہ کرنے اور سگ گزیدگی (کتے کے کاٹنے) کے بڑھتے ہوئے واقعات پر وہاں کے رکنِ سندھ اسمبلی کے خلاف کارروائی ہوگی کا حکم دیا تھا ۔