ملک کے 80 فیصد کاشتکاروں کو دیوار سے لگایا جارہا ہے، عرفان جتوئی

52

لاڑکانہ (نمائندہ جسارت) سندھ آبادگار بورڈ کے رہنماؤں ایڈووکیٹ عرفان جتوئی، ارسلان سیلرو، جنید جروار، کملو خان مغیری، غلام مرتضیٰ لاشاری سمیت دیگر نے لاڑکانہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کی 80 فیصد ضروریات پوری کرنے والے کاشتکاروں کو دیوار سے لگایا جارہا ہے، باردانہ 2 ہزار فی من کے پروپوزل پر 18 سو اعلان کرکے 16 سو فی من مقرر کرنا کاشتکار اور کسان کے ساتھ ظلم و زیادتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فوڈ انسپکٹرز سے ریکارڈ لیا جائے کہ سندھ میں 40 لاکھ ٹن گندم کس آبادگار سے لی جارہی ہے اور 80 فیصد گندم تاجر چھوٹے آبادگاروں سے سستے دام خرید کر حکومت کو مہنگے دام بیچ رہے ہیں۔ محکمہ خوراک کے وزیر کشوری لال آبادگار، خریدار، بیوپاری اور ملر بھی خود ہی ہیں، ان کا مزید کہنا تھا کہا کہ دیگر صوبوں کی طرح صوبہ سندھ میں بھی آبادگاروں کی رجسٹریشن کی جائے، محکمہ خوراک اور حکومت سندھ عدلیہ احکامات اور اپنے قوانین ہوا میں اڑا رہے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے گزشتہ برس بھی 18 سو باردانہ مقرر کرکے 16 سو کردیا تھا، جبکہ کاشتکار کا خرچہ 1650 ہے، جبکہ 16 سو کے حساب سے آٹے کی قیمت 35 روپے فی کلو بنتی تھی مگر 65 روپے میں بیچا گیا، ملکی کاشتکاروں سے 16 سو روپے میں خرید کر جاپان سے 26 سو روپے فی من منگوایا گیا۔ غریبوں کے ہمدرد عمران خان ملک کے کاشتکاروں کو 18 سو نہ دے سکے۔ جاپان سے 26 سو میں فی من گندم خرید کر کسان دشمنی کا کا روپ دھارا۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کے کچھ مقامات کے علاوہ سندھ بھر میں کہیں بھی سینٹر نہ کھل سکے۔ فوڈ سینٹر نہ کھلنے سے آبادگاروں اور کسانوں کو گندم کی فروخت میں دشواری کا سامنا ہے۔ سندھ آباد بورڈ کے رہنماؤں نے کہا کہ حکومت سندھ سیاسی بیان بازیاں بند کرکے عملی کام کرکے محکمہ خوراک کے کرپٹ افسران کیخلاف کارروائی کرے۔ وفاقی اور صوبائی حکومت نے کاشتکاروں اور کسانوں کے مسائل حل کرکے باردانہ کی ناجائز خرید و فروخت کو کنٹرول نہ کیا تو عدالت سے رجوع کریں گے۔