جیکب آباد ،عدالت نے سرکاری اراضی پر قبضے کا نوٹس لے لیا

39

جیکب آباد (نمائندہ جسارت) عدالت عظمیٰ کراچی بینچ نے جیکب آباد میں اربوں روپے مالیت کی سرکاری اراضی و املاک پر قبضے کا نوٹس لیتے ہوئے جیکب آباد میں سرکاری اراضی پر بنے ہوٹلز سمیت اسکول، اسپتال اور سرکاری بنگلے پر قبضے کے متعلق ایڈووکیٹ جنرل سندھ اور سندھ حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔ جیکب آباد میں اربوں روپے مالیت کی سرکاری اراضی اور املاک پر قبضوں پر وفاقی وزیر محمد میاں سومرو کی ہمشیرہ کی درخواست پر عدالت عظمیٰ کراچی بینچ نے نوٹس لیتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل سندھ اور سندھ حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے، جیکب آباد سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر محمد میاں سومرو کی ہمشیرہ اور سیاسی و سماجی رہنما ملیحہ ملک نے جیکب آباد میں سرکاری اراضی اور املاک پر قبضوں کیخلاف عدالت عظمیٰ میں درخواست دائر کی تھی جس کی سماعت کراچی میں جمعرات کے روز ہوئی، جس میں درخواست گزار ملیحہ ملک اور ان کے وکیل ایڈووکیٹ زین اے سومرو پیش ہوئے۔ عدالت عظمیٰ کراچی بینچ نے درخواست پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ اور سندھ حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اگلی سماعت پر جواب طلب کرلیا ہے، جیکب آباد میں سرکاری اراضی و املاک پر قبضوں کیخلاف عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں کیے گئے قبضوں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ درخواست میں جن املاک اور اراضی کی نشاندہی کی گئی ہے ان میں ہوٹل مہراج جو کہ محکمہ تعلیم کے ڈی او پرائمری کی اراضی پر قائم ہے اور ہوٹل الحرمین جو کہ محکمہ بلدیہ کی اراضی پر بنایا گیا ہے۔ علاوہ ازیں گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول کے کھیل کے میدان پر کلرک عبدالباقی ابڑو نے قبضہ کرکے گھر تعمیر کرایا ہے، جبکہ ضلع کونسل کے جانوروں کی اسپتال کی اراضی پر تحریک انصاف کے رکن صوبائی اسمبلی محمد اسلم ابڑو کا نجی اسکول جبکہ دوسرے حصے پر پیپلز پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی ممتاز جکھرانی نے گھر تعمیر کرایا ہے۔ میونسپل اسکول کی زمین پر متعدد دکانیں اور سابق چیئرمین بلدیہ عباس جکھرانی نے بنگلہ تعمیر کرایا ہے جبکہ پی پی ایچ آئی اسپتال کی اراضی پر ریاض جکھرانی نامی شخص نے قبضہ کرکے گھر بنایا ہے ، اس سلسلے میں درخواست گزار کے وکیل ایڈووکیٹ زین اے سومرو نے کہا کہ عدالت عظمیٰ میں تجاوزات کے حوالے سے دائر پٹیشن میں 9 مئی 2019ء کو احکامات جاری ہوئے تھے کہ عدالت عظمیٰ کراچی سے باہر سندھ کے دیگر علاقوں میں سرکاری املاک اور اراضی پر قبضوں کو بھی دیکھیں گے، کیوں کہ سرکاری زمینوں، اسکول اور اسپتالوں پر قبضے ہوچکے ہیں، اس سلسلے میں جیکب آباد کی سیاسی و سماجی رہنما ملیحہ ملک کی جانب سے ہم نے ایک سی ایم اے دائر کی جس میں ہم نے جیکب آباد میں سرکاری املاک و اراضی پر قبضوں کی نشاندہی کی ہے، یہ پہلی درخواست ہے جو کراچی سے باہر کے علاقوں میں قبضوں کیخلاف دائر کی گئی ہے، جس پر عدالت نے ہمیں سنا اور ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو نوٹس جاری کیا کہ اگلی سماعت پر جواب دیں۔ دوسری جانب درخواست گزار سیاسی وسماجی رہنما ملیحہ ملک نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جیکب آباد میں بااثر لوگوں نے سرکاری اراضی اور املاک پر قبضے کیے ہوئے ہیں جس سے شہرکی خوبصورتی تباہ ہوگئی ہے۔ سرکاری اسپتال اور دیگر املاک پر قبضوں کی وجہ سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قبضے ختم ہونے سے لوگوں کے معیار زندگی میں فرق آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ قبضہ گیروں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا اور جیکب آباد کو قبضہ مافیا سے نجات دلائی جائے گی۔