تربت ، عدالت کا قتل کے مجرم کو سزائے موت،دوسرے کو عمرقید

45

کوئٹہ(نمائندہ جسارت)تربت کی سیشن عدالت نے قتل کا جرم ثابت ہونے پر ایک ملزم کو سزائے موت دوسرے کو عمر قید کی سزا سنا دی۔تربت میں ملک ناز قتل کیس کی سماعت سیشن جج رفیق اللہ لانگو نے کی دوران سماعت قتل کا جرم ثابت ہونے پر عدالت نے ملزم باسط کو سزائے موت ملزم الطاف کو عمر قید کی سزا سنائے جبکہ عدم ثبوت کی بناپر ملزمان سمیر سبزل اور سیف اللہ کو بری کر دیا ،سزا پانے والے ملزمان کو اسلحہ برآمد ہونے پر تین سے پانچ سال کی قید بھگتنا ہو گی ، مجرمان نے گزشتہ سال 26 مئی کی شب ڈنک میں ڈکیتی کی واردات کے دوران مزاحمت پر ملک ناز کو گولی مار کر قتل کر دیا تھا جبکہ ان کی کمسن بچی برمش زخمی ہوئی تھی۔اس واقعہ کے خلاف آل پارٹیز کیچ، سول سوسائٹی ودیگر مکاتب فکر کی طرف سے شدید احتجاج کیا گیا تھا۔دوسری جانب کو ئٹہ میں و فاقی تحقیقاتی ادارے نے کارروائی کرتے ہوئے حوالہ ہنڈی میں ملوث تین ملزمان افرادگرفتار کر لیا۔ایف آئی اے حکام کے مطابق کارروائی اینگل روڈ پر واقع پلازہ میں کی گئی جہاں حوالہ ہنڈی کے دفتر میں چھاپہ مارا گیا چھاپے کے دوران حوالہ ہنڈی کا کام کرنے کے الزام میں تین ملزمان کو گرفتار کر لیا ، ملزمان سے مختلف بینکوں کی چیک بکس، موبائل فون اور حوالے ہنڈے کے ذریعے رقم غیر قانونی طور پر منتقل کر نے کا ریکارڈ تحویل میں لے لیا۔کوئٹہ میں کسٹم نے کارروائی کے دوران لاکھوں روپے مالیت کا اسمگل شدہ سامان برآمد کر لیا۔ترجمان کسٹم کے مطابق کارروائی لک پاس کے مقام پر کی گئی ، جہاں اندرون ملک جانے والے دو ٹرکوں کی تلاشی لی گئی تو ان میں سے 858 عدد ٹائرز ،2000 کلو گرام آٹو پارٹس ،612 کلوگرام کپڑا برآمد ہوا ، کسٹم حکام نے دونوں ٹرک اور اسمگل شدہ سامان تحویل میں لے کر تحقیقات شروع کر دیں۔