ملک کی ترقی بنا اعتماد بحال کیے ممکن نہیں

132

پرانے زمانے کے اکثر باد شاہ بھی درویش صفت ہوا کرتے تھے۔ اہل علم کی قدر کرنا، ادبا اور شعرا کی عزت افزائی اور بزرگوں کا احترام ان کی نظر میں بہت اہمیت رکھتا تھا۔ عالموں اور بزرگوں کا ادب اتنا ملحوظ رکھا جاتا تھا کہ کسی بھی مسئلہ کا حل معلوم کرنے کی ضرورت پڑجاتی تو عالموں اور بزرگوں کو دربار میں طلب کرنے کے بجائے بادشاہ خود چل کر ان کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے۔ اسی قسم کا ایک مسئلہ ایک نیک دل بادشاہ کو اس وقت پیش آیا تو بادشاہ اپنے ملک کے ایک بہت بڑے بزرگ کی خدمت حاضر ہوا تاکہ ان سے دعائیں بھی لے سکے اور امور مملکت چلانے کے لیے نکتے کی باتیں بھی جان سکے۔ بادشاہ نے نہایت ادب کے ساتھ اپنا مدعا بیان کرتے ہوئے عرض کیا کہ امور مملکت چلانے کے لیے وہ کون سے اہم نکات ہیں جن کو ہر حاکم کے لیے جان لینا ضروری ہونا چاہیے۔ بزرگ نے فرمایا کہ ملک کی معیشت کو مضبوط کرو تاکہ لوگ خوشحال ہو سکیں۔ بادشاہ نے کہا بہت خوب۔ پھر حضرت سے عرض کیا کہ مزید فرمائیں۔ بزرگ نے کہا کہ دفاعی صلاحیت کو جتنا ہو سکے بڑھاؤ۔ لوگوں میں احساس تحفظ بڑھے گا تو اور بھی زیادہ بے فکری کے ساتھ اپنے اپنے امور انجام دیں گے۔ بادشاہ نے کہا بہت خوب۔ پھر عرض کیا کہ حضرت اور ارشاد فرمائیں۔ بزرگ نے کہا کہ اپنا اعتماد ہمیشہ قوم پر بحال رکھنا اور قوم سے کبھی جھوٹ نہ بولنا۔ یہ تین باتیں اگر اختیار کرلیں تو کوئی وجہ نہیں کہ قوم تم سے خوش نہ رہے اور ملک ترقی نہ کرسکے۔ بادشاہ ان کا شکریہ ادا کرکے جانے لگا لیکن دو قدم بڑھانے کے بعد پلٹ کر واپس آیا اور عرض کیا کہ اگر مالی مشکلات بھاری فوجی اخراجات برداشت نہ کر سکتی ہوں تو؟، فرمایا کہ بھاری بھرکم فوج کا اہتمام مؤخر کر دو، ملک کا بچہ بچہ اپنے ملک کی حفاظت کرنا خوب اچھی طرح جانتا ہے۔ بادشاہ خوش ہو کر جانے لگا لیکن ایک بار پھر دروازے سے لوٹ آیا اور نہایت ادب کے ساتھ عرض کیا کہ اگر مالی مشکلات معیشت کی ترقی میں بھی مانع ہوں تو؟، فرمایا کہ اسے بھی مؤخر کیا جا سکتا ہے۔ بادشاہ واپس جانے لگا مگر دروازے پر جاکر ٹھیر گیا لیکن مزید کچھ پوچھنے کی ہمت نہ پاکر دروازے میں ہی رکا رہا تو بزرگ خود اٹھ کر اس کے پاس آئے اور بادشاہ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہنے لگے کہ کچھ بھی ہوجائے لیکن قوم کے اعتماد کو کبھی ٹھیس نہیں پہنچانا، اگر تم نے قوم پر اپنا اعتماد بحال رکھا تو قوم پیٹ پر پتھر باندھنے اور ملک کے لیے کٹ مرنے کے لیے ہر دم تیار رہے گی۔ بادشاہ نے پوچھا کہ یہ اعتماد کیسے بحال رکھا جا سکتا ہے تو فرمایا جو قوم کھائے تم کھاؤ، جو قوم پہنے تم پہنوں اور جیسی رہائش قوم کی ہو تم بھی اس سے بڑھ کر رہائش اختیار نہیں کرو گے تو قوم حکومت اور ملک، دونوں کے لیے جان کی بازی لگا دے گی۔
آج مولانا اشرفی صاحب وزیر اعظم کی ترجمانی کرتے ہوئے تاجروں سے فرما رہے تھے کہ خدارا وہ اپنے منافع میں 50 فی صد کمی کریں تاکہ عوام کو اشیائے ضروریہ کسی حد تک کم داموں میں مل سکیں۔ بات غلط بھی نہیں کیونکہ اب تو اشیا بیچنے والوں نے منافع کی ہر حد کو اس بری طرح چکنا چور کر دیا ہے کہ قیمت کا دوسرا نام ’’منہ مانگا‘‘ ہو گیا ہے۔ مہنگائی نے گزشتہ تین برس کے اندر اندر ایسی خوفناک صورت اختیار کر لی ہے کہ کسی مقام پر بھی رکتی نظر نہیں آ رہی۔ ایسی صورت حال میں حکومت ہاتھ باندھ کر تاجروں اور بقول وزیر اعظم ’’مافیاؤں‘‘ کے آگے ہاتھ جوڑ کر صرف اپیلیں ہی کرتی نظر آ رہی ہے جبکہ حکمرانوں کام ہاتھ جوڑنا نہیں بلکہ حرام خوروں کے ہاتھ مروڑنا اور توڑنا ہوا کرتا ہے۔ اگر بزرگ کے اس نکتے کو سامنے رکھا جائے کہ حکمران کو عوام کا اعتماد کسی صورت نہیں کھونا چاہیے تو جو حاکم منتخب ہونے سے پہلے مسلسل جھوٹ بولتے رہے ہوں اور اقتدار پر براجمان ہونے کے بعد بھی مکر و فریب سے باز آنے کے لیے تیار نہ ہوں، وہ عوام میں اپنا اعتماد کیسے بحال رکھ سکتے ہیں۔
طاہر اشرفی صاحب نے وزیر اعظم کی ترجمانی کرتے ہوئے تاجروں سے منافع کم کرنے کی جو اپیل کی ہے وہ اپنی جگہ درست لیکن کیا اس اپیل سے پہلے وزیر اعظم، ان کی کابینہ، ارکان ِ پالیمنٹ، وزرائے اعلیٰ و گورنرز نے اپنی اپنی تنخواہیں آدھی کرنے کا اعلان کیا؟۔ جب آقائے دو جہاںؐ اپنے پیٹ پر ایک کے بجائے دو پتھر باندھ کر اور خاک کو بچھونا بنا کر حالات کا مقابلہ کر سکتے ہیں تو کیا موجودہ حکمران نعوذ باللہ ان سے بھی افضل ہیں۔ اگر تمام ارکان پالیمنٹ اور وزرا و مشیران کی ہسٹری کو سامنے رکھا جائے تو ان میں 99 فی صد سے بھی زیادہ وہ افراد ہیں جن کی سرکاری تنخواہیں ان کی ڈاڑھ بھی گیلی نہیں کر سکتی۔ کیا ایسے افراد کو سرکار سے تنخواہیں اور دیگر مراعات حاصل کرنے کا کوئی حق بنتا ہے۔ مختصراً اتنا ہی عرض کیا جا سکتا ہے کہ کاش حکمرانوں نے عوام سے اور تاجروں سے قربانی طلب کرنے کے بجائے باقاعدہ اپنی اپنی تنخواہوں اور مراعات سے دستبرداری کا اعلان کیا ہوتا اور کہا ہوتا کہ اگر حالات پھر بھی قابو میں نہ آئے تو وہ اپنی اپنی جائداد بھی ملک قوم کے لیے فروخت کر دیں گے تو پھر دیکھتے ان غریبوں کو کیسے سر سے کفن باندھ کر میدان عمل میں کود پڑتے۔ یہ بات طے ہے کہ جب تک حکمران بہر لحاظ قوم کے ہم رنگ نہیں ہوں گے اور شاہانہ زندگیوں پر لعنت بھیج کر قوم کے جیسے نہیں بن جائیں گے اس وقت تک ان کا اس فریب میں مبتلا ہونا کہ قوم ترقی کر لے گی اور عوام ان سے حقیقی محبت کرنے لگیں گے، کسی طور ممکن نہیں۔ اس لیے ضروری ہے حاکم عوام کا سا طرز زندگی اپنائیں بصورت دیگر تباہی و بربادی نے تو دروازوں پر دستک دینا شروع کر ہی دی ہے۔