لشکر میں شیخ

201

شیخ رشید صاحب کی ایک بڑی خوبی یہ کہ وہ یہ کہنے سے کبھی نہیں ہچکچاتے کہ بادشاہت میں ایک خاندان کو پالنے کی ذمے داری ہوتی مگر جمہوریت میں عوام ہزاروں خاندانوں کے نان نفقہ فراہم کرنے کے ذمے دار ہوتے ہیں۔ شیخ صاحب نے ایک مزاکرے میں کہا تھا کہ پاکستان میں سفارشی پرچی اور ووٹ کی پرچی اور کرنسی کی پرچی سب سے زیادہ وقعت رکھتی ہیں۔ اہلیت و قابلیت پرچی کے بغیر بے معنی ہیں۔ ان کی مخالفت کرتے ہوئے ایک شخص نے کہا تھا کہ کراچی میں ضلع ناظم مصطفی کمال ٹیلی فون آپریٹر تھے۔ کراچی کے ناظم بن گئے اور اب ایک پارٹی کے قائد بھی ہیں۔ شیخ صاحب نے جواب میں کہا تھا کمال میرا چھوٹا بھائی ہے وہ بہت باکمال اور قابل شخص ہے۔ مگر اس کی قابلیت بھی ایم کیو ایم کی پرچی کی مرہون منت تھی۔ اگر ان کے پاس پرچی نہ ہوتی تو وہ آج بھی ٹیلی فون آپریٹر ہی ہوتے۔ شیخ صاحب کی بات سے اختلاف کی گنجائش تو نہیں کیونکہ وہ خود بھی پرچی کے کمال کا جیتا جاگتا نمونہ ہیں۔ جب تک ان کے پاس میاں نواز شریف کی پرچی رہی وہ تمام آفات اور بلیات سے محفوظ رہے۔ مگر جوں ہی ان کے گلے سے میاں نواز شریف کی پرچی اُتری وہ اپنی نشست سے اُتر گئے۔ کہتے ہیں کہ پوت کے پائوں پالنے میں نظر آتے ہیں مگر شیخ رشید ایک ایسے ہونہار بروا تھے جن کے پائوں ہی نہیں بلکہ ہاتھ بھی نظر آتے تھے۔ کہتے ہیں کہ وہ پیدائشی طور پر تنہائی سے انتہائی الرجک تھے۔ اس لیے جب بھی رونے کا موڈ بنتا دوسرے بچوں کو بھی رونے پر مجبور کر دیتے ان کی دیکھ بھال کرنے والی نرس کا کہنا ہے کہ شیخ صاحب اچھے کھانوں کے بچپن ہی سے شوقین ہیں۔ باخبر رہنا اور خبر لینا ان کا من پسند کھیل ہے۔ ان کا بس چلے تو وہ اس کھیل کو قومی کھیل بنادیں۔ مرغی کے نیچے سے انڈہ اس طرح اٹھاتے تھے کہ بڑے بڑے نامی گرامی اٹھائی گیر بھی ان کے سامنے پانی بھرنے لگتے تھے۔ سن بلوغت کو پہنچے تو آنکھو ں کا کاجل اس صفائی سے چراتے کہ کاجل والی کو خبر بھی نہ ہوتی۔
شیر خواری میں بچوں کے فیڈر چھین لیتے تھے۔ اور یہ چھینا جھپٹی کی عادت اتنی پختہ ہوئی کہ اب کرسی چھیننے کی تانک میں لگے رہتے ہیں۔ شیخ صاحب فطری طور پر اپنی عمر سے بہت آگے ہیں اسکول میں پڑھتے تھے مگر غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لیا کرتے تھے۔ بچپن ہی سے خبر لینے اور خبر لینے کا چسکا پڑا ہوا ہے۔ اتنے باخبر تھے کہ اکثر اوقات والدین اپنے بچوں کہ تعداد دریافت کیا کرتے ہیں۔ جب سے سن بلوغت کو پہنچے ہیں اپنے گھر کا کھانا بہت کم کھایا ہے۔ کیونکہ نان چھولوں کی ریڈھی لگانے والے ان کے قدردان ہیں۔ دوسروں کے مسئلے میں ٹانگ اڑانے کا بھی شوق ہے۔ شاید اسی لیے قدرت نے ان کو چوڑی ہڈی عطا کی ہے۔ ورنہ بچپن ہی میں ٹانگ یا ہاتھ سے محروم ہو چکے ہوتے۔ کچے انڈے پینے کا بھی شوق ہے۔ سو مرغیاں پالنا ان کا شوق بن گیا۔ اس پس منظرمیں یہ کہا جاسکتا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کو مرغی اور انڈے سے ملکی معیشت مستحکم کرنے کا مشورہ اور عوام کو خوشحال بنانے کا مشورہ موصوف ہی نے دیا ہوگا۔ بچوں کی طرح شیخ صاحب کو بھی گولیاں (کنچے) کھیلنے کا شوق تھا۔ جونہی موڈ خراب ہوتا۔ بچوں سے کنچے چھین کر اپنی حاکمانہ فطرت کا ثبوت دینے کے اظہار سے کبھی نہیں چوکتے۔
شیخ رشید کی کتاب فرزند پاکستان کو مشاہد حسین نے سنسر کیا تو وہ سلنسر بن گئی۔ شیخ رشید نے ابتداء ہی سے احتجاجی سیاست کی ہے۔ لیکن وہ بابا جمہوریت نصراللہ خان نہ بن سکے۔ ورنہ یار لوگ رشید موٹا کہنے سے کبھی نہیں چوکتے یوں بھی بابا جمہوریت نصراللہ خان بننے کے لیے ترکی ٹوپی کے بغیر کوئی بھی شخص نصراللہ خان نہیں بن سکتا کسی مرد شناس کا کہنا ہے کہ شیخ رشید کو مرد رشید کہناتو کسی طرح بھی مناسب نہیں تاہم انہیں مرد کارآمد کہا جاسکتا ہے۔
شیخ رشید دیکھنے میں پہلوان لگتے ہیں۔ کشادہ پیشانی ہے، مگر مخالفین کے لیے دل بہت تنگ ہے۔ ناک ستواں ہے اور سیاسی ماحول کو سونگھنے کی صلاحیت بھی دوسروں سے زیادہ رکھتی ہے۔ آنکھیں بڑی اور موٹی ہیں جو دلکش ہونے کے باوجود ڈرانے دھمکانے کی صلاحیت سے مالامال ہے جو مخالفین کی اس قول کی تکزیب کرتی ہے کہ تحریک انصاف میں اہلیت نہیں شیخ جی کا رنگ ساہ فام تو نہیں مگر حیرت کی بات یہ کہ ان کی شخصیت گلفاموں کے لیے باعث کشش ہے۔