پاکستان۔ روس تعلقات میں پیش رفت

233

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کا دو روزہ دورئہ پاکستان اختتام پزیر ہوگیا۔ اس دوران میں دفتر خارجہ میں وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے۔ روسی وزیر خارجہ نے وزیراعظم عمران خان اور افواج پاکستان کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی ملاقات کی۔ وزیراعظم عمران خان نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے دورئہ پاکستان کی دعوت کا اعادہ کیا۔ بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے روس کے ساتھ دفاعی تعاون کی بھی پیش کش کی۔ روسی وزیر خارجہ کے دورئہ پاکستان کے اختتام پر شاہ محمود قریشی اور سرگئی لاوروف نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ روس نے پاکستان کو خصوصی فوجی آلات دینے اور اسلام آباد کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں کا اعلان کیا۔ اسی کے ساتھ دونوں ممالک کے دفاع سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ روس نے کورونا ویکسین اسپوتنک 5 کی تیاری کے لیے پاکستان میں پلانٹ لگانے پر غور کا بھی وعدہ کیا۔ دونوں ملکوں کے درمیان جن امور پر کلیدی بات ہوئی ہے ان میں توانائی کے شعبوں میں تعاون بالخصوص گیس پائپ لائن کے مجوزہ منصوبوں پر عمل درآمد کے جائزے کو ترجیح حاصل رہی۔ جو مسئلہ سب سے زیادہ غور و فکر اور تبادلہ خیال کا مرکز تھا وہ افغانستان اور اس کا مستقبل ہے۔ افغانستان کے مسئلے پر ماسکو کانفرنس سے پہلے اور بعد میں مختلف سطحوں پر دونوں ممالک کے وفود کی آمدروفت ہوتی رہی ہے۔ اسی تناظر میں پاکستان کی عسکری قیادت کا بھی اہم دورہ ہوا تھا۔ ماسکو کانفرنس کی خاص بات یہ ہے کہ افغانستان کے مختلف فریقوں بالخصوص افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مفاہمت کرانے کے لیے روسی حکومت نے مثبت کوششیں کی ہیں۔ روس نے بھارت سے اچھے تعلقات کے باوجود اسے ماسکو کانفرنس میں مدعو نہیں کیا، جب کہ امریکی تجویز کے مطابق اقوام متحدہ کے تحت ترکی میں منعقد ہونے والی بین الاافغان کانفرنس میں بھارت کا نام بھی شامل کیا گیا ہے۔ جس پر پاکستان کو سخت تحفظات ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر دہشت گردی کی روک تھام کے بارے میں زبانی کلامی بہت باتیں کی جاتی ہیں لیکن افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں دہشت گرد تنظیموں کی بھارتی سرپرستی سے آنکھیں اور کان بند کرلیے جاتے ہیں۔ روسی وزیر خارجہ نے شاہ محمود قریشی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کشمیر کے تنازع پر بھی بات کی اور دونوں ممالک نے مسئلہ کشمیر کے پرامن حل پر اتفاق کا اظہار کیا۔ مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کا ایک ہی راستہ ہے اور یہ کہ اقوام متحدہ کشمیر میں رائے شماری کے لیے نظام الاوقات اور طریقہ کار کا اعلان کرے۔ اس مشترکہ اتفاق کا فطری تقاضا یہ ہے کہ روس سلامتی کونسل کے مستقل رکن ہونے کی حیثیت سے اقوام متحدہ میں ان تمام ممالک کو متحرک کرے جو مسئلہ کشمیر کی سنگینی اور عواقب کا ادراک رکھتے ہیں اور اس مقصد کے لیے اقوام متحدہ میں رائے شماری کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ پاکستان اور روس کے درمیان تعلقات کی طویل اور پیچیدہ تاریخ ہے۔ پاکستان کا قیام جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد ہوا تھا جس کے بعد فاتح اقوام متحدہ، روس اور امریکا کے درمیان دنیا کو کنٹرول کرنے کے لیے سرد جنگ شروع ہوگئی تھی۔ روس جو اس وقت سوویت یونین تھا مسلسل پیش قدمی کررہا تھا۔ یہاں تک کہ اس کی فوجوں نے 1979ء میں افغانستان پر قبضہ کرلیا اور یہ صاف نظر آرہا تھا کہ سوویت یونین کی نظر گرم پانیوں تک ہے اور اس کے توسیعی قدم افغانستان تک نہیں رکیں گے۔ اس دن کے بعد سے افغانستان بدامنی کا شکار ہے، لیکن روس افغانستان کی جنگ جیت نہیں سکا اور اس نے دس سال بعد افغانستان چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا۔ اس شکست نے سوویت یونین کے نظام کو منہدم کردیا۔ اسی واقعے نے عالمی سیاست میں تبدیلی کی رفتار کو تیز کردیا۔ روس نے تو اس تاریخ سے سبق لیا لیکن امریکا کے تکبر میں اضافہ ہوگیا اور وہ نائن الیون کے پراسرار واقعے کو بنیاد بنا کر ناٹو کی فوجوں کے ہمراہ افغانستان پر قابض ہوگیا۔ افغانستان کی تاریخ کے مطابق امریکا کو بھی اس جنگ میں شکست ہوگئی۔ امریکی تاریخ کی طویل ترین اور مہنگی جنگ نے عالمی سیاست اور اس کی صف بندیوں کو بدل دیا ہے۔ طاقت کے نئے مراکز سامنے آئے ہیں جن میں روس کی بحالی کے ساتھ مستقبل کی طاقت چین کا ابھار بھی شامل ہے۔ اس تناظر میں روس اور پاکستان کے درمیان تعلقات کی نئی جہت استوار ہوئی ہے اس کے راستے میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔ ان تبدیل شدہ حالات میں پاکستان اور امت مسلمہ ک لیے بہت سے امکانات ہیں، لیکن المیہ یہ ہے کہ پاکستان سمیت عالم اسلام کا حکمراں مسلمان کے مقصد وجود سے غافل ہے۔ دنیا بھر میں باطل قوتوں کی باہمی کشاکش اور تصادم کے نتیجے میں حق کے قیام کے جو امکانات پیدا ہوئے ہیں اس کے تقاضے پورے کرنے کے لیے کوئی گروہ موجود نہیں ہے۔ افغان طالبان نے تاریخ کے اس مرحلے پر اپنا کردار ادا کردیا ہے۔ جس نے پاکستان اور عالم اسلام کے لیے نئے امکانات پیدا کردیے ہیں لیکن پاکستان کا حکمراں طبقہ جن بحثوں میں پڑا ہوا ہے اس کا مشاہدہ ذرائع ابلاغ میں کی جانے والی بحثوں کو دیکھ کر کیا جاسکتا ہے۔ عبرت پکڑو اے اہل بصیرت۔