قال اللہ تعالیٰ و قال رسول اللہ ﷺ

106

 

تم لوگوں کے لیے ابراہیمؑ اور اْس کے ساتھیوں میں ایک اچھا نمونہ ہے کہ اْنہوں نے اپنی قوم سے صاف کہہ دیا ’’ہم تم سے اور تمہارے اِن معبودوں سے جن کو تم خدا کو چھوڑ کر پوجتے ہو قطعی بیزار ہیں، ہم نے تم سے کفر کیا اور ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لیے عداوت ہو گئی اور بیر پڑ گیا جب تک تم اللہ واحد پر ایمان نہ لاؤ‘‘ مگر ابراہیمؑ کا اپنے باپ سے یہ کہنا (اِس سے مستثنیٰ ہے) کہ ’’میں آپ کے لیے مغفرت کی درخواست ضرور کروں گا، اور اللہ سے آپ کے لیے کچھ حاصل کر لینا میرے بس میں نہیں ہے‘‘(اور ابراہیمؑ و اصحاب ابراہیمؑ کی دعا یہ تھی کہ) “اے ہمارے رب، تیرے ہی اوپر ہم نے بھروسا کیا اور تیری ہی طرف ہم نے رجوع کر لیا اور تیرے ہی حضور ہمیں پلٹنا ہے۔ (سورۃ الممتحنۃ:4)

علقمہ ؓ کہتے ہیں کہ میں سیدنا ابن مسعودرؓ کے ساتھ جمعہ کے لیے نکلا انہوں نے دیکھا کہ تین آدمی مسجد میں تھے، تو فرمایا: میں چوتھا ہوں اور چارآدمیوں میں چوتھا آنے والا بھی کوئی دور نہیں ہوتا میں نے رسول اللہ ؐ کو فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بیٹھنے میں لوگ اسی درجے پر ہوںگے جو درجہ ان کا جمعہ کی نماز میں جانے میں ہوگا۔ (ابن ماجہ)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بے شک اللہ تعالیٰ نے میری امت کو وہ معاملات معاف کر دیے ہیں جو ان کے دلوں میں وسوسے کے طور پر آئیں جب تک وہ ان پر عمل نہ کریں یا زبان پر نہ لائیں‘‘۔ (بخاری)