سیاستدانوں کی غلط تربیت کے باعث اسٹیبلشمنٹ سے چھٹکارامشکل ہے

182

“کراچی “رپورٹ :قاضی جاوید

پاکستان کی سیاست کبھی اسٹیبلشمنٹ کی گرفت سے نہیں نکل سکے گی بلکہ دن بدن اس دلدل میں دھنستی چلی جائے گی،کوئی سیاسی رہنما یا جماعت اسٹیبلشمنٹ سے الگ ہو کر کامیاب نہیں ہوسکتا، دنیا میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ فوج نے سیاست میں آ کر رضا کارانہ طور پر سیاست چھوڑی ہو،بظاہر دیکھنے میں سیاست دانوں اور اسٹیبلشمنٹ کی جو باہم جنگ نظر آتی ہے وہ محض ایک نورا کشتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار تجزیہ نگا ر عارف نظامی ،ن لیگ کاحصہ رہنے والے ایاز امیر ،پروفیسر حسن عسکری ، پی پی پی کے سینیٹر تاج حیدر نے جسارت کے سوال کیا پاکستانی سیاست کبھی اسٹیبلشمنٹ کی گرفت سے نکل سکے گی؟ کے جواب میں کیا۔ عارف نظامی کاکہنا تھا کہ پاکستانی سیاست میںاسٹیبلشمنٹ کا موجود ہو نا کوئی نئی بات ہے اورنہ ہی سیاست کبھی اسٹیبلشمنٹ کی گرفت سے نکل سکتی ہے اور نہ ہی ہٹناچاہتی ہے ، کوئی سیاسی رہنما یا جماعت اسٹیبلشمنٹ کے اثرات سے الگ ہو کر کامیاب نہیں ہو سکتی ۔ذوالفقار علی بھٹو نے سکندر مرزا اور ایوب خان کے دور میں اپنے سیاسی کیرئر کا آغاز کیا لیکن پھر انہی کی مخالفت کر کے ایک اینٹی اسٹیبلشمنٹ جماعت بنائی۔3 مرتبہ وزیرِ اعظم بننے والے نواز شریف پی پی پی کی مدِمقابل آئی ،جے آئی کا حصہ بنے جسے اسٹیبلشمنٹ کی واضح پشت پناہی حاصل تھی۔ پی ٹی آئی کے عمران خان بارہا امپائر کی انگلی کا نعرہ لگاتے دکھائی دیے۔ایاز امیر نے کہا کہ سیاستدان سمجھتے ہیں کہ آگے بڑھنے کا یہی طریقہ ہے اور اس میں کچھ غلط بھی نہیں ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ سیاست دان بے بس نہیں ہوتے لیکن اس کے باوجود ان کو کبھی نہ کبھی اسٹیبلشمنٹ کی بتائی ہو ئی ہدایت پر کام کر نا پڑتا ہے ۔نواز شریف اور الطاف حسین بے بس نہیں تھے اور نہ ہی ان کو کسی نے بتایا تھا کہ وہ کبھی بھی اسٹیبلشمنٹ کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتے ۔لوگ اسٹیبلشمنٹ کے پاس جاتے ہیں، ان سے ملتے ہیں ان کی مدد لیتے ہیں۔ ہمیشہ ایسا ہوتا رہا ہے اور یہ پاکستانی سیاست کی ایک تلخ حقیقت ہے۔پروفیسر حسن عسکری رضوی کا کہنا تھا کہ 10، 12 بڑی جماعتیںہمیشہ سے یہ کوشش کرتی رہی ہیں کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کو ناراض نہ کریں کیونکہ ایسا کرنا ان کے مفاد میں نہیں ہو گا اور ان کا الیکشن جیتنا مشکل ہو جائے گا۔انہوںنے کہا کہ سیاسی جماعتوں میں نظم وضبط کا فقدان ہوتا ہے، مثلاً انہیںمعلوم ہی نہیں ہوتا کہ ان کے ارکان کون ہیں وہ عوام کو جماعت میں پذیرائی نہیں دیتے جس کا فائدہ اسٹیبلشمنٹ اٹھاتی ہے۔ پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کے اثر کی وجہ نہ صرف سیاست دانوں کی نادانیاں بنی ہیں بلکہ ابتدا سے ہی سیاستدانوں کی درست خطوط پر تربیت نہ ہونا بھی ایک وجہ تھی۔یہ وقت کی ضرورت ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے سامنے توازن قائم کیا جائے اور اس کے لیے سیاست دانوں میں اتفاق اور ہم آہنگی بہت ضروری ہے۔ ملک کی آدھی عمر جمہوریت کے بغیر ہی گزری لیکن جب جمہوری دور میں اسٹیبلشمنٹ کا اثر ہوا تو کہیں نہ کہیں سیاست دان بھی ناکام ہوئے۔بھارت کے برعکس پاکستان میں صورت حال مختلف رہی ، پاکستان پر سیکورٹی دباؤ زیادہ رہا ۔ جب تک ملک میں بیرونی اور اندرونی سیکورٹی دباؤرہے گا تب تک ملک میں فوج کا پلڑا بھاری رہے گا۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب بہت سے سول امور مثلاً انتخابات، سیلاب اور دیگر کاموں میں فوج کو طلب کیا جاتا ہے تو فوج میں یہ تصور پیدا ہوتا ہے کہ وہ کام کو زیادہ بہتر طور پر کر سکتے ہیں اور عوام میں بھی فوج کا مقام بڑھ جاتا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ دنیا میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ فوج نے سیاست میں آ کر رضا کارانہ طور پر سیاست چھوڑی ہو۔ سینیٹرتاج حیدر نے کہا کہ سیاست دانوں نے کبھی بھی اسٹیبلشمنٹ کا سہارا نہیں لیا بلکہ اسٹیبلشمنٹ نے سیاست میں ایسی روایات قائم کر رکھی ہیں جس کی وجہ سے غیر منتخب لوگ سیاستدان بن جاتے ہیں، 1985ء میں مارشل لا میں بہت سے لوگ سیاست میں لائے گئے جنہوںنے صرف اسٹیبلشمنٹ کے لیے کام کیا اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے ،پاکستانی جمہوریت کی ایک برائی اسٹیبلشمنٹ کا عمل دخل ہے اورعالمی اسٹیبلشمنٹ کی بھی ہمارے ہاں مکمل اجارہ داری ہے۔ یہ ملکی سیاست پر کبھی اقتدار کو بلاواسطہ اور کبھی بالواسطہ کنٹرول کرتی ہے۔ بظاہر دیکھنے میں سیاست دانوں اور اسٹیبلشمنٹ کی جو باہم جنگ نظر آتی ہے وہ محض ایک نورا کشتی ہوتی ہے کیونکہ تمام سیاسی جماعتیںہر دور کی آمریت نے اپنے سائے کے نیچے سیاست دانوں کو تیار کیا اور ایک نئی جماعت کو جنم دیا ہے۔ بعد ازاں جب وہ جماعتیں مضبوط ہو جاتی ہیں تو پھر وہ جمہوریت کے حق میں آمریت کے خلاف نعرہ بلند کرنے نکل کھڑی ہوتی ہیں کیونکہ اس وقت سیاسی و جمہوری دور آچکا ہوتا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کا اثر و رسوخ کبھی ختم نہیں ہوتا، اِس کی ایک مضبوط، مستحکم اور مؤثر اجارہ داری ہے۔Split مینڈیٹ جتنا زیادہ آتا ہے اسٹیبلشمنٹ کو اْسی قدر کھیلنے کا موقع ملتا ہے ،جب اکثریت کسی کے پاس نہیں ہوتی تو مختلف دھڑے وجود میں آتے ہیں اور ان کا اتحاد مفادات کا اتحاد ہوتا ہے۔ قومی ترجیحات کی انہیں کیا پروا! اس میں کرپشن کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ چنانچہ بلا تخصیص چھوٹے بڑے علی الاعلان دونوں ہاتھوں سے قومی دولت سمیٹتے ہیں۔سب برسرِ اقتدار سیاسی جماعتیں دراصل کسی واضح منشور کے بغیر بس یک نکاتی ایجنڈے، اقتدار و مفادات، کے تحت حکومت میں آتے ہیں اس لیے قومی فلاحی منصوبے ان کے ایجنڈے پر کبھی نہیں ہوتے۔ ان کا ایجنڈا صرف اقتدار ہوتا ہے۔ حکومت میں شامل سارے گروپ اقتدار کو شیئر کرتے رہتے ہیں۔