ڈبلیو ڈبلیو ایف کے زیراہتمام ماحولیاتی صحافت کے حوالے سے دو روزہ ورکشاپ کا انعقاد

380

کراچی(رپورٹ:منیرعقیل انصاری) ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے زیراہتمام ماحولیاتی صحافت کے حوالے سے دو روزہ ورکشاپ کا انعقاد،ماحولیاتی ماہرین نے پاکستان میں ماحولیاتی و موسمیاتی تبدیلیوں،اس کے بہتر اظہار اور درپیش مسائل کے حوالے سے تفصیل سے گفتگو کی۔

مقامی ہوٹل میں جاری دو روزہ تربیتی ورکشاپ کے پہلے روز پرنٹ،الیکٹرونک اور سوشل میڈیا سے تعلق رکھنے والے سندھ، بلوچستان اور کراچی کے صحافیوں کی بڑی تعدادنے شرکت کی ہے۔ورکشاپ میں سوال و جواب اور گروپس کی صورت میں سیشن بھی ہوئے۔ماحولیاتی صحافت کے حوالے سے منعقدہ ورکشاپ سے ڈبلیو ڈبلیو ایف سندھ،بلوچستان کے ریجنل ہیڈ ڈاکٹر طاہررشید،ماحولیاتی صحافت کے حوالے سے وسیع تجربہ رکھنے والی سینئر صحافی شبینہ فراز،موبائل جرنلزم کے حوالے سے ایاز امتیاز خان،سوشل میڈیا کے ٹرنرحسن ضیاء،سینئر صحافی سدرہ ڈار،نعمت خان اور ورکشاپ کی کوارڈینٹر حمیراسمیت دیگر نے خطاب کیا۔

ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ڈاکٹر طاہررشید نے شرکا ء کو سائنسی اور ماحولیاتی صحافت سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ماحول کو بہتر بنانے اور آلودگی کے خاتمے میں عوام میں شعور و آگہی کی فراہمی کیلئے میڈیا اہم کردار ادا کرسکتا ہیں۔

انہوں نے ملک میں ماحولیات کے انسانی زندگی پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں آگاہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں بہترین ماحولیاتی قوانین موجود ہیں مگر ان پر عملدرآمد نہیں ہورہا ہے۔ جنگلات کا بے دریغ کٹاؤ روکنا ہو گا۔سڑکوں پر دھواں دینے والی گاڑیوں اور ویگنوں کے استعمال میں کمی کرنا ہو گی تاکہ ہماری آنے والی نسلیں ایک پر فضا ء، آلو دگی سے پاک صاف اور پر امن ما حو ل میں پر وا ن چڑ ھیں اور موسمی تبدیلیو ں سے پیدا ہو نے والے نقصا نا ت سے بھی پہلے تیاری کر کے اس کا دفاع کریں۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان میں ماحولیاتی تبدیلیوں اور ان کے نقصانات کے حوالے سے میڈیا سمیت دیگر متعلقہ محکموں کی تکنیکی صلاحیتوں کو بڑھانے کیلئے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

سینئر صحافی شبینہ فراز نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نہ صرف آب و ہوا میں تبدیلی (کلائمٹ چینج) سے متاثرہ ممالک میں سرِ فہرست ہے بلکہ یہاں موسمیاتی شدت مثلاً بارشوں، گرمی اور خشک سالی جیسے موسمیاتی سانحات بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ موسمی تبدیلو ں کے پیش نظر ہمیں اپنے ما حو لیا تی تحفظ کیلیے مناسب اقدا ما ت کر نے ہو ں گے۔حکومت کی بنیا دی ذمے دا ر ی ہے کہ ما حولیا ت کو بہتر بنا نے اور مو سمی تبدیلیوں کے پیش نظر ایسے ٹھو س اقدا ما ت کریں تا کہ آنے والی نسل صا ف اور بہتر ما حول میں زندگی بسر کرسکے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جنگلات کا کم ہونا فضائی آلودگی زہریلا پانی موسم کا تبدیل ہونا پانی کی کمی قدرتی آفات زمین کا بنجر ہونا زرعی ادویات کا اندھا دھند استعمال اور اس طرح کے دوسرے مسائل جو بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ مزید گھمبیر ہوتے جا رہے ہیں۔ان مسائل پرسنجیدگی کے ساتھ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کے ورکشاپ کے انعقادسے صحافیوں کو اپنی پیشہ وارانہ فرائض کی انجام دہی میں اہم آگاہی حاصل ہوتی ہے ماحولیاتی رپورٹنگ انسانی زندگی سے متعلق ہے۔ ورکشاپ کے بعد صحافیوں کو ماحولیاتی رپورٹنگ میں مزید موئثر طریقے سے انجام دینے میں مدد ملے گی۔انہوں نے ماحولیاتی رپورٹنگ کے حوالے سے شرکا ء سے اپنے تجربات شیئر کیے اور پاکستان میں ہو نے والی ماحولیاتی تبدیلوں کے حوالے سے تفصیل سے اظہار خیال کیا۔موبائل جرنلزم کے حوالے سے ٹرنر ایاز امتیاز خان نے کہا کہ اسمارٹ فون بہت تیزی سے ہماری زندگی کا اہم حصہ بن گیا ہے،موبائل پر برق رفتاری سے آنے والی اطلاعات نے پوری دنیا میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔ موبائل جرنلزم انفارمیشن کی ترسیل کا ایک ایسا تیزترین میڈیم ہے جو لگ بھگ مفت ہے، اس پر استعمال کرنے والے کا پورا کنٹرول ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ موبائل جرنلزم کے ساتھ رپورٹنگ کرنے والے صحافی کو ہمہ وقت میدان میں نکلنے کے لیے تیاررہنا چاہیے۔ رپورٹنگ بیگ میں اپنے سازوسامان پوری طرح تیار رکھیں، ہمیشہ اپنا موبائل ریچارج رکھیں، موبائل کی میموری خالی رکھیں، الگ سے میموری کارڈ ضرور رکھیں، مضبوط نیٹ ورک کا انٹرنیٹ آپ کی بنیادی ضرورت ہے۔اس کے علاوہ گن مائک، لیپل مائک، موبائل کنیکٹر کے ساتھ ٹرائی پوڈ، لائٹ مع اسٹینڈ،ایک الگ سے آڈیو ریکارڈر اگر ممکن ہو تو ساتھ رکھیں، یعنی ہر وقت اس طرح تیار رہیں کہ اطلاع ملتے ہی فوری طور پرمیدان میں نکل جائیں۔ اس کے علاوہ ایک ہینڈی ٹرائی پوڈ یا سیلفی اسٹک اپنے ساتھ ضرور رکھیں۔انہوں نے کہا کہ آپ اگر موبائل جرنلسٹس ہیں تو آپ کے لیے یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ آپ اپنی اسٹوری کیسے بتائیں گے؟ جو کچھ آپ ریکارڈنگ کی شکل میں فوٹو یا ویڈیو فوٹیج حاصل کرتے ہیں،یہ بے حد ضروری ہے کہ اپنی اسٹوری کو سمجھیں، اس کے بغیر آپ کی رپورٹ متاثر کن نہیں ہو سکتی بلکہ کبھی کبھی آپ کے تیار کی ہوئی رپورٹ سے ناظرین منفی تاثر لے لیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کہ ایک موبائل جرنلسٹس میں جرنلزم کی صلاحیت اور دلچسپی ہونا پہلی شرط ہے، موبائل جرنلسٹس کو ٹیکنالوجی کی اچھی جانکاری اوراس پر گرفت اور تیسری بات یہ کہ موبائل جرنلسٹس ہونے کے لازمی شرط ہے کہ کہ آپ کے پاس ضروری آلات ہوں اور ان کا بہتر استعمال آتا ہو۔ یعنی اسکل، ٹیکنالوجی، اکوپمینٹ یہ تین بنیادی چیزیں ہیں جن کے ارد گرد موبائل جرنلزم کا پہیا گھومتا ہے۔سوشل میڈیا کے ٹرنرحسن ضیاء نے لاہور سے زوم ٹیکنالوجی کے زریعے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں سوشل میڈیا کی حقیقت اور اثرات سے متاثر ہوئے بغیر کوئی بھی نہیں رہ سکتا ہے۔ پچھلے چند برس میں دنیا میں جو تبدیلی آئی ہے وہ سوشل میڈیا کی مرہونِ منت ہے۔ آج ہر انسان اس سہولیت سے مستفید ہو رہا ہے۔سوشل میڈ یا اس وقت ہر انسان کے زیرِ استعمال ہے، جس میں سب سے زیادہ فیس بک، ٹوئٹر، انسٹا گرام، واٹس ایپ قا بلِ ذکر ہے۔ہم سوشل میڈ یا کے زریعے عوام کو پاکستان میں ماحولیاتی و موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے آگاہی دے دسکتے ہیں۔آنے والے دور میں سوشل میڈ یا ایک بڑا ہتھیار ہو گا۔ ہمیں بھی وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے ابھی سے لائحہ عمل تیار کرنا ہو گا۔