کڈنی ہل قبضہ کیس: غیر قانونی کچی آبادی اور تجاوزات ختم کرنے کا حکم

175

کراچی: سپریم کورٹ نے کڈنی ہل قبضہ کیس میں اطراف میں غیر قانونی کچی آبادی اور تجاوزات ختم کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق جمعرات کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل پر مشتمل تین رکنی بینچ کے روبرو کڈنی ہل قبضہ کیس کی سماعت ہوئی۔

علاقہ مکینوں کے وکیل کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا ہےکہ ہمیں زمین 1965 میں الاٹ کی گئی اور  کڈنی ہل کا منصوبہ ایک سال بعد 1966 میں آیا جبکہ کے ایم سی کے وکیل کا کہنا تھا کہ کچھ متاثرین کو ایڈجسٹمنٹ کے تحت یہاں زمین دی گئی تھی اور پانچ پلاٹس موجود ہیں جو کڈنی ہل کی حدود سے باہر ہیں۔

علاقہ مکینوں کے وکیل کا کہنا تھا کہ یہ مکانات کڈنی ہل پارک کی حدود میں شامل نہیں ، ان کو  مسمار کرنے سے روکا جائےجبکہ عدالت نے علاقہ مکین کی درخواست پر ایڈوکیٹ جنرل اور کمشنر کو نوٹس جاری کردیئے ہیں۔

دوسری جانب  دوران سامعت مسجد انتظامیہ کے وکیل کا کہنا تھا کہ کڈنی ہل کی زمین پر راتوں رات غیر قانونی مزار بنادیا گیا ہے اور مزار کو تحفظ دیا جارہا ہے جبکہ مسجد کو شہید کیا جارہا ہے۔

واضح رہے عدالت نے اطراف میں غیر قانونی کچی آبادی اور تجاوزات ختم کرنے کا حکم دے دیا ہے۔