حکومت ِ بینک دولت ِ پاکستان – اوریا مقبول جان

197

کہانی کہنے والے، بادشاہوں کی داستانوں میں ایک ایسی حسینہ کی کہانی بیان کیا کرتے تھے، جسے فاتح حکمران سے انتقام لینے کے لیے پالا جاتا تھا۔ ایک انتہائی خوبرو، دلکش اور حسین بچی کو پورے ملک سے منتخب کیا جاتا اور اسے شاہی طبیب کی نگرانی میں پالاپوسا جاتا۔ کہا جاتا ہے کہ شاہی طبیب ایک خاص قسم کے زہر کو ہزار درجہ کم مہلک بناکر بچپن سے اس خاتون کی خوراک کا حصہ بناتا، اور وہ خاتون اس زہر پر پلتی ہوئی جوان ہوتی۔ عمر کے ساتھ ساتھ زہر میں بھی اضافہ کردیا جاتا، اور ایک دن ایسا آتا کہ اس کے جسم کے پسینے اور لعابِ دہن تک سب کے سب زہر آلود ہوتے۔ کہا جاتا ہے کہ اگر ایسی خاتون کو کوئی بھڑکاٹتی تو اس کے خون کی زہرناکی کی وجہ سے تڑپ کر مر جاتی۔ اسے پال پوس کر اس لیے جوان کیا جاتا کہ اگر ان کے ملک پر کوئی بادشاہ چڑھ دوڑے تو وہ اسے دیکھتے ہی اس کے حسن پر فریفتہ ہوکر اسے اپنے حرم میں داخل کرلے، یا دوسری صورت میں شکست خوردہ قوم کے معززین اسے بادشاہ کو بطور نذرانہ پیش کردیں۔ دونوں صورتوں میں فاتح بادشاہ کی موت اس خاتون کی صورت سجا سنوار کر اس کے سامنے رکھ دی جاتی۔ کہانی کہنے والے کہانیوں کے دو مختلف انجام بتاتے تھے۔ بادشاہ حسن و دلکشی سے اس قدر مرعوب ہوجاتا کہ اسے اپنی قربت کا شرف بخشتا، اور صبح کو اس کے حجلہ سے اس کی لاش برآمد ہوتی، یا پھر اگر بادشاہ کو شک گزرتا تو وہ اپنے شاہی طبیب کو بلاتا اور حقیقت کھلنے پر خاتون کو پیش کرنے والے عمائدین کی گردنیں اڑا دی جاتیں۔ دنیا کے ہر ملک کا بینکاری نظام بھی ایسی ہی خوبرو حسینہ ہے جسے آہستہ آہستہ سودی قرضوں کے زہر سے پالا جاتا ہے اور ایک دن ایسا آتا ہے کہ وہ پوری قوم کے لیے مکمل خوفناک موت کا باعث بن جاتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ بینکاری نظام کی زہر آلود حسینہ اپنے شکار کو مارتی نہیں بلکہ نیم مُردہ حالت میں زندہ رکھتی ہے اور اسے اتنی خوراک حاصل کرنے دیتی ہے، جس سے اس کے جسم میں پیدا ہونے والے خون کو وہ چوستی رہے۔ دنیا کے ہر درندے، زہریلے جانور، یہاں تک کہ اسلحہ بردار دشمن کے حملے کے نتیجے میں انسان کی ایک ہی دفعہ میں موت واقع ہوجاتی ہے، لیکن عالمی مالیاتی سودی نظام اپنے پنجوں میں آئے ہوئے شکار یعنی ملک کو زندہ رکھتا ہے اور پھر اس کا مسلسل خون نچوڑتا رہتا ہے۔ یہ خاموشی سے کسی ملک کی معیشت کے درخت پر آکاس بیل کی طرح لپٹنا شروع کرتا ہے اور پھر ایک دن ایسا آتا ہے کہ درخت بالکل کھوکھلا ہوجاتا ہے اور چاروں جانب صرف آکاس بیل کا غلبہ اور قبضہ ہوتا ہے۔ پاکستان کا اسٹیٹ بینک جو اس ملک میں سودی معیشت کا محافظ اور نگہبان ہے، گزشتہ چند سال سے اُس کا شکنجہ اس ملک پر ایک آکاس بیل کی طرح مضبوط سے مضبوط تر ہوتا جارہا تھا، لیکن اب پاکستان کی کابینہ نے یہ قانون منظور کرلیا ہے کہ پاکستانی معیشت کا کرم خوردہ درخت اس بینک دولتِ پاکستان کی آکاس بیل کی ملکیت ہے اور اسے پاکستانی معیشت پر مکمل حقِ حکمرانی حاصل ہے۔ خبردار کوئی اس آکاس بیل (اسٹیٹ بینک) کو ہاتھ نہ لگائے، اس کی جانب انگلی نہ اٹھائے، یہ خودمختار ہے اور درخت (مملکتِ پاکستان) غلام۔ خودمختاری کی اس دستاویز یعنی 2021ء کے ترمیمی بل پر ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری کے نام چار صفحات پر مشتمل ایک خط تحریر کیا ہے۔ اس خط کی کاپیاں چیئرمین نیب، چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اور رجسٹرار سپریم کورٹ کے علاوہ پاکستان تحریکِ انصاف، مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان متحدہ قومی موومنٹ اور بلوچستان عوامی پارٹی کے سیکرٹریٹ کو بھی ارسال کی گئی ہیں۔ اس چھبیس نکاتی خط کو تحریر کیے ہوئے اِس وقت تک 72 گھنٹے ہو چکے ہیں، لیکن شاید ہماری سیاسی قیادت، میڈیا، بیوروکریسی اور عدلیہ اس بدترین معاشی غلامی پر راضی ہوچکے ہیں جس میں ’’بینک دولتِ پاکستان‘‘ کی حیثیت ایک سود خور حکمران جیسی ہوگی اور پاکستان ایک مہاجن کے قرضے میں جکڑا ہوا غریب۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے خط کے چھبیس نکات میں سے چند پیش خدمت ہیں:

( 1) بینک دولتِ پاکستان کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ مالیاتی (Monetry) اور تبادلے (Exchange) کے طریقِ کار کو منظم کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان میں افراطِ زر (Inflation) کو بھی کنٹرول کرے اور اس ضمن میں بینک کے لیے افراطِ زر کی کوئی حد مقرر نہیں کی گئی۔ (2) بینک کو قیمتوں کے کنٹرول کی ذمہ داری بھی دی جا رہی ہے، لیکن اگر وہ قیمتوں کو مستحکم نہ کرسکا تو اس سے کسی قسم کی کوئی بازپرس اور جوابدہی نہیں ہوگی۔ )3) پاکستان کا معاشی استحکام اب بینک کی دوسرے درجے کی ترجیح ہوگی۔ )4) حکومت اگر آئندہ کسی بھی قسم کے کوئی قرضے لے گی تو بینک ان کا ذمہ دار نہیں ہوگا، خواہ یہ قرضے ورلڈ بینک، آئی ایم ایف یا ایشین بینک سے ہی کیوں نہ لیے گئے ہوں۔ )5) بینک حکومت کے ایسے قرضوں کا بھی ذمہ دار نہیں ہوگا جو حکومت بیرونی بینکوں یا حکومتوں سے براہِ راست حاصل کرے گی، خواہ وہ قرضے باہمی کرنسی کے تبادلے کے طریقِ کار سے ہی کیوں نہ لیے گئے ہوں۔ )6) سیکشن 3 میں ترمیم کے بعد اسٹیٹ بینک کو پاکستان میں کسی بھی جائداد یا اثاثے وغیرہ کو قبضے میں لینے یا بیچنے کا اختیار ہوگا تاکہ قرضے کی ادائیگی اور دیگر معاہدات کو پورا کیا جا سکے (ان میں تمام اثاثے شامل ہیں یعنی ایٹمی پروگرام بھی)۔ )7) اسٹیٹ بینک کے بورڈ آف گورنر کا چیئرمین اب خود گورنر بینک دولت پاکستان ہوگا، پہلے حکومت پاکستان کے نمائندے کے طور پر سیکرٹری وزارتِ خزانہ بورڈ کا ممبر ہوا کرتا تھا، اب اسے خارج کردیا گیا ہے۔ )8) بینک دولتِ پاکستان اب اس ملک کی مالیاتی اور ایکسپورٹ پالیسی بنائے گا، اور یہ ملک میں افراطِ زر، بیرون ملک اکاؤنٹس اور معیشت کے استحکام کا بھی ذمہ دار ہوگا (یعنی حکومت بالائے حکومت)۔ (9) حکومت یا اس کے ماتحت ادارے آئندہ اگر قرضہ لیں گے، ایڈوانس دیں گے یا سرمایہ کاری کریں گے تو اسٹیٹ بینک کسی قسم کی کوئی گارنٹی نہیں دے گا (یعنی اب حکومت کی مبلغ حیثیت بازار میں بیٹھے ایک عام دکاندار جیسی ہوگی)۔ (10) قانون 46B کے تحت اسٹیٹ بینک کے کسی بھی کام یا کارروائی کو کسی حکومت یا نیم سرکاری ادارے کو کسی صورت میں روکنے، ختم کرنے یا ملتوی کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہوگا۔ پاکستانی حکومت یا اس کا کوئی ذیلی ادارہ کسی کو یہ خط بھی تحریر نہیں کرسکتا کہ وہ اسٹیٹ بینک کی کچھ ہدایات پر عمل نہ کرے۔ (11) اسٹیٹ بینک کسی بھی حکومتی ادارے سے کسی صورت کوئی ہدایت نہیں لے گا۔ )12) قانون کی دفعہ(1)52-A کے تحت بینک کے ممبرز کو عدالتوں میں نہیں گھسیٹا جا سکے گا۔ )13) (3)52-A کے تحت نیب اور ایف آئی اے اور دیگر ادارے بینک کے خلاف کسی قسم کی کوئی انکوائری یا تحقیق نہیں کرسکیں گے۔ )14) اس ملک کی مالیاتی پالیسی بناتے ہوئے بینک سے اگر کوئی غلطی ہوجائے تو بینک کے کسی عہدے دار کو اس کا ذمہ دار نہیں ٹھیرایا جائے گا۔ اگر حکومت ان کے خلاف کوئی کارروائی کرے گی تو بینک اپنے افراد کو مکمل سیکورٹی فراہم کرے گا اور ہر سطح پر ان کا دفاع کرے گا۔ اس کا اطلاق سابق گورنروں اور ملازمین پر بھی ہوگا۔

اس خط کے مندرجات نے اس ملک میں ابھی تک کوئی ہلچل پیدا نہیں کی۔ کسی سیاسی پارٹی کو خطرے کا ادراک نہیں ہوا۔ کوئی عدالتی سؤموٹو نہیں لیا گیا۔ میڈیا خاموش ہے۔ دانشور چپ ہیں۔ موت سے پہلے ہی موت کا سناٹا طاری ہے۔

(اوریا مقبول جان، روزنامہ 92،اتوار 21 مارچ 2021ء)

(This article was first published in Friday Special)