جیکب آباد ،تعلیمی اداروں کی بندش اور فیسوں میں اضافے کیخلاف احتجاج

8

جیکب آباد(نمائندہ جسارت) جے ٹی آئی کے جانب سے تعلیمی اداروں کو بند کرنے اور تعلیمی فیسوں کو بڑھانے کے خلاف مظاہرہ اور دھرنا، ملک میں 60 فیصد نوجوان ہونے اور مفت تعلیم کی آئین کی شق 25A پر عمل نہ کرنے کے سبب تعلیم تباہی کے کنارے پر ہے، رہنماؤں کا خطاب۔ جمعیت طلبہ اسلام جیکب آباد کے جانب سے تعلیمی اداروں کو بند کرنے اور فیسوں میں اضافے کیخلاف ایک احتجاجی مظاہرہ دفتر جی یو آئی جیکب آباد سے جی ٹی آئی کے سابق مرکزی رہنما حماداللہ انصاری ،تاج محمود امروٹی،عبیداللہ سندھی،فضل الرحمن بنگلانی محمد طاہر سومرو، معاویہ بنگلانی، خالد حسین چھجن، حافظ نثار احمد بروہی، محمد ابراہیم برڑو، حافظ نعیم اللہ لاشاری، محمد رضوان سومرو اور دوسروں کی قیادت میں نکالی گئی۔ مظاہرین کے ہاتھوں میں بینر اور پلے کارڈ تھے جن پر فیسوں میں اضافہ نا منظور، تعلیمی اداروں کو بند کرنا نامنظور، تعلیم عام اور مفت کرنے جیسے نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے شہر کے مختلف راستوں پر مارچ کرکے نعرے لگائے، شہر کے مین ڈی سی چوک اور پریس کلب کے سامنے دھرنا دیکر روڈ بلاک کیا۔ اس موقع پر مقررین نے کہا کہ کورونا کے سب تعلیمی ادارے بند کرنے سے تعلیم تباہی کے کنارے پر پہنچ گئی اور آن لائن کلاسز کے بھانے پر تعلیم کو ختم کیا جا رہا ہے،انہوں نے کہا کہ آن لائن کلاسز کا تجربہ ناکام ہوچکا۔ مزید فیسوں کو بڑھانا ملک اور قوم کے حقیقی وارثوں محنت کشوں کی اولاد تعلیم کو چھیننے کے برابر ہے،مزید کہا کہ ملک کے 60 سیکڑو نوجوان طبقہ ہے ملک کے آئین کے شق 25A کے تحت مفت تعلیم فراہم نہ کرنے اور پرائیویٹ سطح پر تعلیم مہنگی ہونے کے سبب تعلیم کے دروازے غریبوں کی پہنچ سے دور کرکے تباہی کے کنارے پہنچ چکی ہے جوکہ ملک اور قوم کے مستقبل کو تباہ کن ثابت ہوگا۔