صحت عامہ کے نظام کی بہتری کیلیے پیما ورکنگ پیپر کا اجرا

43

لاہور (نمائندہ جسارت) پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن (پیما) نے عالمی یوم صحت کے موقع پر قومی ہیلتھ پالیسی کے لیے ورکنگ پیپر کا اجراء کیا ہے جس میں صحت عامہ کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے تجاویز دی گئی ہیں۔اس میں مطالبہ کیا گیا کہ صحت کو آئین پاکستان میں تمام پاکستانی شہریوں کے لیے بنیادی حق قرار دیا جائے۔ ہر دس سال کے بعد قومی ہیلتھ سروے کروایا جائے اور اس کی روشنی میں شعبہ صحت میں بہتری کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ مزید تجاویز میں کہا گیا کہ صحت کا بجٹ 400ارب سے بڑھا کر 600ارب روپے ہونا چاہیے اور اس میں ہر سال 100 ارب روپے کا اضافہ بھی ہونا چاہیے۔تمباکو، بیوریج اور جنک فوڈ انڈسٹری سے جمع ہونے والے تمام ٹیکسز (120 سے 150 ارب روپے) صحت کے شعبے پر خرچ کیے جانے چاہییں۔وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے شعبہ صحت پر اخراجات کا 30 فیصد امراض سے بچاؤ، آگاہی اور غذاؤں پر خرچ کیا جانا چاہیے۔بجٹ کے اس 30 فیصد میں سے 5 فیصد طبی تحقیق پر خرچ کیا جانا چاہیے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے شعبہ صحت کے کل اخراجات کا 10فیصد معذوروں کی بحالی پر خرچ کرنا چاہیے۔ پیما نے مزید کہا کہ صحت عامہ کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے قومی اور صوبائی سطحوں پر ہیپاٹائٹس بی /سی، ایچ آئی وی/ ایڈز، تمباکونوشی پر کنٹرول، زیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، کینسر کی روک تھام، دماغی صحت اور نومولود اور ماں کی صحت جیسے شعبوں کو کو ترجیح میں رکھنا چاہیے۔پیما نے مزید کہا کہ صحت کی دیکھ بھال کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے مربوط ماڈل تشکیل دینے کی ضرورت ہے جس میں سرکاری و نجی ادارے اور این جی اوز باہم اشتراک کریں ۔ورکنگ پیپر میں کہا گیا کہ EPI ویکسی نیشن پاکستان میں تقریباً 80 فیصد آبادی کا احاطہ کرتی ہے۔ اس کی کوریج 98 سے 100 فیصد تک یقینی ہونی چاہیے۔ تاکہ ایسے امراض جو ویکسین کے ذریعے روک تھام کے قابل ہیں، ان پر قابو پایا جا سکے۔ بالخصوص نومولود بچوں کو ہیپاٹائٹس کی مفت ویکسین کی فراہمی یقینی بنانی چاہیے۔پیما نے خواتین کی تولیدی صحت کو ترجیح میں رکھنے کابھی مطالبہ کیا ۔ اسی طرح 3 سال سے کم عمر بچوں میں غذائیت کی مقدار جاننے اور انہیں مطلوبہ خوراک کی فراہمی کے لیے بھی اقدامات کیے جانے چاہییں تاکہ نومولود بچوں اور ان کی ماؤں میں شرح اموات میں کمی لائی جا سکے۔ پیما نے کہا کہ پاکستان دنیا کے ان ممالک شامل ہیں جہاں نومولود بچوں اور ماؤں میں شرح اموات سب سے زیادہ ہے۔ ورکنگ پیپر میں مزید کہا گیا کہ غیر متعدی امراض سے ہونے والی اموات میں 40 فیصد کا تعلق تمباکو کے استعمال سے ہے۔ تمباکو کے استعمال ، خصوصاً تمباکو چبھانے (گٹکا ، نسوار وغیرہ) کی عادت ختم کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ نئے اسپتالوں کے بجائے پہلے سے موجود ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر اسپتالوں کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔