سعودی عرب وفد گرفتار ،مشیر کو لینے اردن گیا،واشنگٹن پوسٹ

94

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اردن میں بغاوت کے ایک مبینہ کردار سے پردہ اٹھایا ہے۔ خیال رہے کہ سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود اردن میں بغاوت کے بعد اپنے وفد کے ساتھ دارالحکومت عمان پہنچے تھے، جہاں انہوں نے شاہ عبد اللہ اور ان کی حکومت کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعلان کیا، اور انہیں اطمینان دلایا ہے کہ اس معاملے پر سعودی عرب کا موقف واضح ہے اور خطے میں عدم استحکام کی کوئی بھی مداخلت بے وقوفی ہے۔ تاہم ایسی رپورٹیں بھی سامنے آئیں کہ اس معاملے میں کم از کم ایک بیرونی ملک کا ہاتھ ضرور ہے۔ ہفتے کے روز گرفتار ہونے والی معروف ترین شخصیات میں سے ایک باسم عوض اللہ تھے۔ وہ شاہی دربار کے سابق سربراہ تھے اور اب سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے معاشی مشیر ہیں۔ ان کے پاس سعودی اور اردنی دونوں شہریتیں ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ کا دعویٰ ہے کہ سعودی وفد ان کو واپس ریاض لے جائے بغیر لوٹنے کو تیار نہیں تھا۔ تاہم سعودی حکام نے اس کی تردید کی ہے۔ باسم عوض اللہ کے کئی طاقتور بین الاقوامی تعلقات ہیں۔ سعودی ولی عہد کے علاوہ ان کے متحدہ عرب امارات میں ولی عہد ابوظبی شیخ محمد بن زاید النہیان سے بھی روابط ہیں۔ اطلاعات کے مطابق وہ حال ہی میں بیت المقدس کے گرد فلسطینی زمینوں کی اماراتی خریداری میں بھی ملوث رہے ہیں۔ سعودی عرب اور اردن معاشی طور پر بہت مختلف سہی، مگر ان کے درمیان بہت کچھ یکساں بھی ہے۔ ان کے تاریخی تعلقات صدیوں پرانے ہیں اور قبائلی روابط مشترکہ صحرا میں پھیلے ہوئے ہیں۔