عالمی دبائو،چینی عدالتیں ایغوروں کو سزائیں سنانے لگیں

169

بیجنگ (انٹرنیشنل ڈیسک) چین کی عدالت نے شمال مغربی صوبے سنکیانگ میں ایغور نسل کے 2 افراد کو سزائے موت سنادی۔ خبررساں اداروں کے مطابق انصاف اور تعلیم کے محکموں 2سابق سربراہان کو علاحدگی پسندانہ سرگرمیوں کے الزام کے تحت موت کی سزا سنائی گئی ہے۔ واضح رہے کہ بیجنگ حکومت ایک عرصے سے سنکیانگ میں ایغور مسلمانوں کی ذہنی تربیت کے نام پر ان کا استیصال کررہی ہے۔ اس حوالے سے اقوام متحدہ، امریکا اور دیگر ممالک کی جانب سے تنقید کے جواب میں بیجنگ کی جانب سے وہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام مسترد کردیا گیا۔ تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ چینی حکومت نے قانونی طور پر سنکیانگ میں کسی کو سزائے موت سنائی ہے اور یہ سلسلہ مزید دراز ہونے کا خدشہ ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چینی حکومت کے حالیہ اقدام سے واضح ہوتا ہے کہ اس نے عالمی دباؤ میں آکر اپنی پالیسی تبدیل کرلی ہے۔ خبررساں اداروں کے مطابق سزائے موت کی زد میں آنے والا ایک مجرم سنکیانگ میں محکمہ انصاف کا سابق سربراہ ہے،جب کہ دوسرے کا تعلق محکمہ تعلیم سے ہے۔ بیجنگ کی جانب سے ان پر علاحدگی پسندانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے ساتھ رشوت خوری کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔ چین کے سرکاری خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ترکستانی نسل کے دونوں ایغور مسلمان شہریوں کو یہ سزا علاحدگی پسندانہ سرگرمیوں اور’رشوت خوری کے الزام میں سنائی گئی ہے۔ سنکیانگ کے سابق اعلیٰ حکومتی عہدے داروں کے نام شیرزاد بہاء الدین اور ستار سعود بتائے گئے ہیں۔ بہائالدین پر الزام ہے کہ اس نے 2003ء میں مشرقی ترکستان کی اسلامی تحریک کے ایک سرکردہ رکن سے ملاقات کی تھی۔ مشرقی ترکستان کی اسلامی تحریک کو امریکا نے گزشتہ برس نومبر میں غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کی اپنی فہرست سے خارج کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ سنکیانگ میں صوبائی محکمہ تعلیم کے سابق سربراہ ستار سعود پر الزام عائد کیا گیا کہ اس نے ایغور زبان میں شائع ہونے والی نصابی کتب میں نسلی اور لسانی علاحدگی پسندی، تشدد، دہشت گردی اور انتہا پسندی سے متعلق مواد شامل کیا تھا۔