سوڈان میں اسرائیل کے بائیکاٹ کا قانون ختم

111
سوڈانی فوج کے جنرل عبدالفتاح برہان اور اسرائیلی وزیر انٹیلی جنس ایلی کوہین کی جاری کردہ تصویر

خرطوم/ مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) سوڈان کے عبوری وزیراعظم عبداللہ حمدوک نے 1958ء میں منظور کردہ اسرائیل کے بائیکاٹ کا قانون منسوخ کر دیا۔ اس اقدام کی وجہ سوڈان اور اسرائیل کے درمیان گزشتہ برس تعلقات کا قیام ہے۔ 3ماہ قبل اسرائیلی وزیر انٹیلی جنس ایلی کوہیننے خرطوم کا دورہ بھی کیا تھا۔ سوڈانی کابینہ نے دوغلے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ خرطوم کا قضیہ فلسطین اور آزاد فلسطینی ریاست کے حوالے سے اصولی موقف بدستور قائم ہے، اور ہم قضیہ فلسطین کے دو ریاستی حل کے حامی ہیں۔ اسرائیل کے بائیکاٹ کی منسوخی کا فیصلہ حتمی منظوری کے لیے خود مختار کونسل کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ دوسری جانب فلسطین کے ممتاز عالم دین، اعلیٰ اسلامی کمیٹی کے سربراہ اور امام وخطیب مسجد اقصیٰ شیخ عکرمہ صبری نے کہا ہے کہ بیت المقدس میں پارلیمانی انتخابات شہر کی عرب اور اسلامی شناخت اور اس کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بیت المقدس میں انتخابات پر پابندی کو فلسطین میں انتخابات کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔ ایک بیان میں شیخ عکرمہ صبری کا کہنا تھا کہ بیت المقدس میں پارلیمانی انتخابات پر اسرائیل کی طرف سے پابندی کا امکان ہے، کیوں کہ صہیونی ریاست کی موجودہ پالیسی بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے پر مبنی ہے۔ شیخ عکرمہ صبری کا کہنا تھا کہ اگر فلسطین میں انتخابات ملتوی یا منسوخ کیے جاتے ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اسرائیل کا مقصد پورا ہوگیا، کیوں کہ اسرائیل کا وژن ناصرف بیت المقدس بلکہ پورے فلسطین میں انتخابات میں رخنہ ڈالنا ہے۔