جہانگیر ترین کی عبوری ضمانت میں توسیع‘ ( تین ملازمین کے نام بلیک لسٹ‘ اکاؤنٹس منجمد)

52

لاہور(نمائندہ جسارت) بینکنگ کورٹ نے پی ٹی آئی رہنما جہانگیر ترین اور ان کے بیٹے علی ترین کی عبوری ضمانت میں توسیع کردی۔لاہور کی بینکنگ کورٹ میں جہانگیر ترین اور علی ترین کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی ۔اس سلسلے میں دونوں عدالت میں پیش ہوئے تاہم بینکنگ کورٹ کے جج کی عدم دستیابی کی وجہ سے سماعت 10 اپریل تک ملتوی کردی گئی۔عدالت کے ڈیوٹی جج نے جہانگیر اور علی ترین کی عبوری ضمانت میں 10 اپریل تک توسیع کردی۔علاوہ ازیںوفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے جہانگیر ترین کی شوگر ملز جے ڈی ڈبلیو کے 3 عہدیداروں کے نام بلیک لِسٹ میں ڈال دیے۔ایف آئی اے ذرائع کے مطابق تینوں ملازم ملک سے باہر سفر نہیں کرسکتے،جے ڈی ڈبلیو کے سی ای او رانا نسیم کا نام بھی بلیک لسٹ کردیا گیا۔ذرائع ایف آئی اے کے مطابق جے ڈی ڈبلیو ،ترین فارم سسٹم اورترین ڈیری فارم کے3 اکاؤنٹس بھی منجمدکردیے گئے،تینوں اکاؤنٹس کا فارنزک آڈٹ کرایا جارہا ہے۔جے ڈی ڈبلیوکے ملازمین زمان خان اور فراست خان کے اکاؤنٹ بھی منجمد کیے گئے ہیں، ذرائع ایف آئی ایکا کہنا ہے کہ دونوں ملازمین مبینہ سٹہ باز خرم شہزاد کے ساتھ چینی کی قیمت پرسٹہ میں ملوث تھے۔دریں اثناء جہانگیر ترین کا کہنا ہے کہ میری وفاداری کا امتحان لیا جارہا ہے اور ہم تحریک انصاف سے انصاف مانگ رہے ہیں۔لاہور میں عدالت پیشی کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے جہانگیر ترین نے کہا کہ مجھ پر بے بنیاد الزامات عائد کیے جارہے ہیں، مجھ پر ایک یا 2 نہیں 3،3 ایف آئی آر درج کی گئی ہیں، ایک سال سے انکوائری چل رہی ہے، میں خاموش بیٹھا ہوں، ملک کی 80 شوگر ملوں میں سے انہیں صرف جہانگیر ترین نظر آیا۔پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ میرے اور میرے بیٹے کے اکاؤنٹ منجمد کردیے گئے ہیں، اکاؤنٹ کیوں منجمد کیے، اس سے کیا فائدہ ہورہا ہے اور یہ کون کررہا ہے؟ میں پوچھتا ہوں آخر یہ انتقامی کارروائی کیوں ہورہی ہے، وجہ کیا ہے؟ کون لوگ ہیں جنھوں نے مجھے خان صاحب سے دور کردیا ہے۔ مجھے دور کرنے سے پی ٹی آئی کو زیادہ فائدہ نہیں ہوگا، جو بھی یہ سب کررہا ہے، وقت آگیا ہے انہیں بینقاب کیا جائے۔آصف زرداری سے ملنے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی سے راہیں جدا نہیں ہوئیں، 10 سال سے پارٹی کا حصہ ہوں ، میں تو دوست ہوں، دشمنی کی طرف کیوں دھکیل رہے ہو، میری وفاداری کا امتحان لیا جارہا ہے، ظلم بڑھتا جارہا ہے، ہم تحریک انصاف سے انصاف مانگ رہے ہیں۔قبل ازیںپنجاب حکومت نے جہانگیر ترین سے رابطے کرنے اور ان کی حمایت کرنے والوں کی فہرست تیار کرلی۔ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے کئی ارکان اسمبلی کے جہانگیر ترین سے رابطے ہیں اور اس سلسلے میں وزیراعلی پنجاب اسلام آباد میں وزیراعظم سے ملاقات کریں گے جس میں وہ پنجاب حکومت کی فہرست وزیراعظم کو پیش کریں گے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ جہانگیر ترین سے رابطے رکھنے والے ارکان اسمبلی سے متعلق فیصلہ وزیراعظم کریں گے۔دوسری جانب جہانگیر ترین کے ساتھ بینکنگ کورٹ آنے والے پی ٹی آئی کے ایم این اے راجہ ریاض نے کہا ہے کہ وزیراعظم کے اعتماد کا ووٹ لینے میں اہم کردار جہانگیر ترین کا ہے، وزیراعظم اپنے بہترین اور جان نثار دوست کے خلاف زیادتی بند کرائیں۔ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کی حکومت جہانگیر ترین نے بنائی اس لیے نقصان تحریک انصاف کو پہنچ رہا ہے۔