جماعت اسلامی کی نئی حکمت عملی

341

جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سراج الحق نے مقامی ٹی وی چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں واضح اور دوٹوک الفاظ میں کہا کہ جماعت اسلامی پیپلز پارٹی سمیت کسی بھی جماعت سے کوئی اتحاد نہیں کرے گی، سراج الحق نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا منشور اپنا ہے ہمارا منشور اپنا ہے ان کے نظریات اپنے ہیں اور ہمارے نظریات اپنے ہیں ہم نے یہ طے کیا ہے کہ ہم اپنے کلمے والے جھنڈے کے ساتھ جماعت اسلامی کے منشور کے ساتھ لڑیں گے، ترازو والے نشان اور مکمل تیاری کے ساتھ الیکشن لڑیں گے۔ اس سوال کے جواب میں کہ تو آپ کسی الائنس کے ساتھ انتخابات نہیں لڑیں گے؟ سراج الحق نے جواب دیا کہ ہم نے بہت تجربات کیے ہیں اس لیے ہم جماعت اسلامی کے پرچم تلے انتخابات لڑیں گے۔
خیال رہے کہ سینیٹ کے چیئرمین کے انتخابات سے قبل بلاول زرداری کی دو سابق وزرائے اعظم کے ساتھ لاہور میں جماعت اسلامی کے مرکزی امیر سراج الحق سے ہونے والی ملاقات کے بعد یہ بازگشت کی جانے لگی تھی کہ مستقبل میں جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی مل کر اتحاد بنائیں گے۔ تاہم امیر جماعت اسلامی کی جانب سے اس وضاحت کے بعد کہ جماعت اسلامی کسی سے اتحاد کے بغیر انتخابات لڑے گی، یقین ہے کہ پیپلزپارٹی سمیت دیگر تمام جماعتوں کی جماعت اسلامی کے ساتھ ملکر آئندہ انتخابات لڑنے کی ’’امیدوں پر پانی پھر گیا ہوگا‘‘۔
سراج الحق کا کہنا تھا کہ جماعت کے مرکز منصورہ میں مختلف وفود آتے رہتے ہیں اقلیتی نمائندے آتے ہیں اور ہم سب کی باتیں سنا بھی کرتے ہیں۔ ملک کی تاریخ میں پہلی بار جاری تیسری جمہوری حکومت کے تسلسل کے باوجود جمہور کو کوئی قابل ذکر فائدہ ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ پوری قوم آج کی تحریک انصاف کی حکومت کو ماضی کی حکومتوں کا تسلسل سمجھتی ہے۔ جماعت اسلامی کے رہنما سراج الحق کا کہنا ہے کہ ہم نظام بدلنا چاہتے ہیں اور اسی کی جدوجہد کررہے ہیں۔ سچ تو یہ بھی ہے کہ جماعت اسلامی سیاست اقتدار حاصل کرنے کی نیت سے نہیں بلکہ ملک کے نظام اقتدار کو تبدیل کرنے کی جدوجہد کررہی ہے۔ جماعت اسلامی عالمی اور ملکی اسٹیبلشمنٹ کی مرضی و منشا کے بغیر خالصتاً منصفانہ انتخابات کے ذریعے عوام کے ووٹوں سے اقتدار میں آکر منصفانہ نظام کے ذریعے قوم کی بلاامتیاز خدمت کرنے پر یقین رکھتی ہے۔ اگرچہ گزشتہ
کئی دہائیوں سے اقتدار پر مسلط ہوجانے والے مفاد پرست سیاست دانوں کی چالوں کو دیکھ کر قوم یہ سمجھنے لگی ہے کہ جماعت اسلامی کو عالمی و مقامی ’’خلائی مخلوق‘‘ کبھی بھی اقتدار میں آنے نہیں دے گی کیونکہ انہیں ڈر لگا رہتا ہے کہ اگر جماعت اسلامی کو اقتدار مل گیا تو ان کی حیثیت و اہمیت ختم ہوجائے گی اور ملک میں حقیقی عوامی حکومت قائم ہوجائے گی۔ اس کے باوجود ملک بھر میں پھیلے ہوئے جماعت اسلامی کے لاکھوں کارکنوں کو اللہ پاک سے یقین ہے کہ وہ جماعت اسلامی کو جلد اقتدار کا موقع دے گا۔ جماعت اسلامی کی ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں بڑھتی ہوئی مقبولیت کی وجہ سے ان مفاد پرست جماعتوں میں پائی جانے والی بے چینی سے بھی اس بات کے امکانات پیدا ہورہے ہیں کہ جماعت اسلامی آئندہ انتخابات میں زیادہ سے زیادہ نشستیں حاصل کرکے ایوانوں میں ان شاء اللہ پہنچ جائے گی۔