مائو نوازوں کا بھارتی فوج پر دھاوا

161

بھارت کی ریاست چھتیس گڑھ میں نکسلائٹس نے بھارتی فوج پر دھاوار بول کر بائیس فوجیوں کو ہلاک اور دو درجن کے قریب کو زخمی کیا ہے۔ چھتیس گڑھ بھارت کی نویں بڑی ریاست ہے اور اس کی آبادی تین کروڑ ہے۔ اس ریاست میں دوسری ریاستوں کی نسبت جی ڈی پی یعنی مجموعی پیداوار کی شرح سب سے زیادہ بلند ہے۔ یہ معدنی وسائل سے مالامال ریاست ہے۔ صنعتی اعتبار سے بھی ریاست کی اہمیت یہ ہے کہ بھارت کا پچاس فی صد سیمنٹ اس ریاست میں تیار ہوتا ہے۔ زرعی پہلو سے یہ بھی ایک زرخیز ریاست ہے۔ اس کا پرانا نام ڈکشنا کوتالہ ہے۔ چھتیس گڑھ میں ہونے والا حملہ ایک اور ’’پلوامہ‘‘ ہے فرق صرف یہ ہے کہ یہ کارروائی کشمیر کی سرزمین سے دور ہوئی۔ پیپلزلبریشن گوریلا آرمی کے لوگوں نے ہلہ شیری دے کر فوج کو باہر نکال۔ گوریلا آرمی نے ایک مخصوص علاقے میں باغیوں کی موجودگی کی اطلاع اور افواہ پھیلائی جب بھارتی فوج اس علاقے میں آپریشن کے لیے پہنچی تو تین اطراف سے گھیر ے میں آگئی۔ چار سو نکسلائٹس نے بھارتی فوج کی ایک پارٹی کو چاروں طرف سے گھیر کر حملہ کیا۔ حملے کی قیادت پیپلز لبریشن گوریلا آرمی کے مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین بھی کر رہی تھیں۔ ان میں ایک خاتون کمانڈر کا نام سجاتا بتایا گیا ہے۔ حملہ آوروں نے دستی بموں سمیت کئی قسم کا اسلحہ استعمال کیا۔ اسی دوران نکسلائٹس نے آسام ہی میں ایک سرپنج کو بھی ہلاک کیا۔
پیپلزلبریشن گوریلا آرمی کے اس حملے کے بعد بھارت میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ وزیر داخلہ امیت شاہ نے اپنا آسام کا دورہ مختصر کرکے دہلی میں اجلاسوں کا سلسلہ شروع کیا اور منہ توڑ جواب دینے کی دھمکی بھی دی ہے۔ نکسلائٹس تحریک میں اچانک تیزی دیکھی جا رہی ہے اور یہ بھارت کے لیے ایک نئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ یہ پلوامہ حملے کے بعد بھارتی فوج پر ایک کاری وار ہے۔پلوامہ حملے کے بعد بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے پاکستان سے بدلہ لینے کا اعلان کیا تھا حالانکہ اس حملے میں بھارت نہ پاکستان کا ہاتھ ثابت کر سکا نہ یہ جواب دے سکا کہ کئی من بارود ی مواد وادی میں کیسے پہنچا؟۔ مودی نے اس حملے کو اپنی انتخابی فتح کے لیے استعمال کیا تھا۔ اس حکمت عملی کے حصے کے طور پر بھارت نے بالاکوٹ آپریشن کیا تھا مگر پاکستان کی جوابی کارروائی سے یہ ساری منصوبہ بندی بھارت کے گلے پڑگئی تھی اور اس مہم جوئی کی کوکھ سے ’’ابھی نندن‘‘ جیسے کردار سامنے آئے تھے۔ چھتیس گڑھ کا حملہ شدت اور حدت کے اعتبار سے پلوامہ سے کسی طور کم نہیں اور اسی قدر خوفناک حملے کے بعد بھارتی حکومت نے منہ توڑ جواب دینے کی بات تو کی ہے مگر یہ جواب کس کو دیا جائے گا؟ اس کا کچھ پتا نہیں۔
نکسل باڑی تحریک ساٹھ کی دہائی سے جاری ہے اور اس تحریک کو ماؤسٹ تحریک کا نام دیا گیا ہے۔ گویا کہ یہ چینی کمیونسٹ راہنما مائو زے تنگ کی سیاسی فلاسفی سے متاثر لوگ ہیں۔ یہ تحریک اوڈیسہ، جھار کھنڈ، بہار، مغربی بنگال، مہاراشٹرا، مدھیہ پردیش ریاستوں کے ساٹھ اضلاع میں سرگرم ہے۔ ان میں کئی اضلاع میں اس تحریک کا خاصا زور بھی ہے۔ بھارتی عدالت عظمیٰ 2011 میں اس تحریک کو غیر قانونی قرار دے چکی ہے اور حکومت کو اسلحہ برآمد کرکے ضبط کرنے کا حکم دے چکی ہے۔ بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ اپنے دور میں اس تحریک کو بھارتی کی داخلی سلامتی کے لیے سب سے بڑا چیلنج تسلیم کر چکے ہیں۔ پیپلز لبریشن گوریلا آرمی کے اس حملے سے پہلے وادی کشمیر کے شمالی حصے میں بھی حریت پسندوں اور بھارتی فوج کے درمیان جھڑپوں میں کئی حریت پسند شہید ہوئے۔
بھارت جس طرح خطے میں بالادستی کی راہ پر چل رہا ہے اس کا ردعمل بھارت کے اندر اور باہر موجود ہے۔ بھارت کے اندر آزادی اور علٰیحدگی کی کئی تحریکیں مدتوں سے چل رہی ہیں۔ کبھی ان تحریکوں میں کمی آتی ہے اور کبھی گردوپیش کے حالات سے متاثر ہو کر یہ تحریک زور پکڑتی ہیں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ یہ تحریکیں مکمل طور پر ختم ہو گئی ہوں۔ ماوسٹ تحریک بھی ایسی ہی ایک تحریک ہے جو حالات واقعات اور گروپیش کے معاملات سے متاثر ہوتی ہے۔ ان دنوں بھارت جس طرح ہمسایہ ملکوں کے ساتھ سینگ پھنسائے بیٹھا ہے اس کشیدگی سے بھارت کی داخلی تحریکوں کو آکسیجن ملتی ہے۔ بھارت یہ الزام عائد کرتا رہا ہے کہ مائو باغیوں کو چین کی حمایت حاصل ہے۔ بھارت کشمیر میں جو ظلم وستم روا رکھے ہوئے ہے یہ اسی کا مکافات عمل ہے۔ کشمیر میں پتا بھی کھڑک جائے تو بھارت اسے پاکستان کی سازش قرار دیتا ہے۔ کشمیری عوام کی داخلی سوچ اور خواہشات کو اہمیت دیے بغیر وہاں کی ہر آواز کو پاکستان کی بازگشت قرار دے کر اس کا وزن کم کرتا ہے مگر اپنے وسیع وعریض رقبے میں چلنے والی زوردار تحریک کی بڑی کارروائیوں کو ٹھنڈی آہ بھر کر پی جاتا ہے۔ بھارت کی بے بسی کا یہ نظارہ قابل دید ہے کہ فوجیوںکی لاشوں کے کشتوں کے پشتے لگ چکے ہیں مگر بھارت کسی ملک پر سرجیکل اسٹرائیکس کرنے کا دعویٰ کرنے پر قادر نہیں۔ کسی ملک سے بدلہ لینے کا اعلان کرنے سے قاصر ہے۔ حد تو یہ اس کا الزام کسی ہمسائے پر لگانے سے بھی گریزاں ہے۔ کیا بے بسی سی بے بسی ہے۔