روسی وزیر خارجہ کا دورۂ پاکستان

158

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے ہیں۔ وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اسلام آباد ائرپورٹ پر اپنے روسی ہم منصب اور ایک اہم عالمی مہمان کا پرجوش خیر مقدم کیا۔ اس موقع پر روس میں پاکستانی سفیر دفتر خارجہ کے سینئر افسران کے ہم راہ موجود تھے۔ 9 سال کے بعد کسی روسی وزیر خارجہ کا پہلا دورۂ پاکستان ہے۔ روسی وزیر خارجہ کے دورۂ پاکستان کے موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ذرائع ابلاغ کو خیر مقدمی بیان جاری کیا ہے۔ شاہ محمود قریشی نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ اس بات سے کوئی اختلاف نہیں کہ روس اس خطے کا انتہائی اہم ملک ہے۔ یہ دورہ اس بات کی عکاسی کر رہا ہے کہ روس کے ساتھ ہمارے دو طرفہ تعلقات ایک نیا رخ اختیار کر رہے ہیں، ہمارے دو طرفہ تعلقات میں بہتری آرہی ہے، ہم ایک دوسرے کے ساتھ خطے میں تعاون کا ارادہ رکھتے ہیں، گیس پائپ لائن منصوبے کو دونوں ملک آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ ہمارے ہاں جب آٹے کا بحران پیدا ہوا تو روس نے بروقت گندم فراہم کی تاکہ قیمتیں مستحکم رہیں۔ وزیر خارجہ نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیل مل روس نے لگائی تھی اگر اس کی بحالی کے لیے سرمایہ کاری کی صورت نکل آئے تو دو طرفہ تعاون بڑھانے کے اچھے مواقع ہمیں میسر آسکتے ہیں۔ پاکستان اور روس افغان عمل میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے بھی پاکستان کے ایک انگریزی اخباری کو انٹرویو دیتے ہوئے عالمی سیاست میں پاکستان اور روس کے مشترکہ کردار کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے افغانستان میں قومی مصالحت کے حوالے سے پاکستان کے کرار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ماسکو میں 18 مارچ کو ہونے والے ’’ٹرائیکا‘‘ کے افغانستان کے متعلق اجلاس کی وجہ سے انٹرا افغان مذاکرات کو ضرور تقویت ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس اجلاس کے انعقاد کے لیے پاکستان نے سرگرم کردار ادا کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ماسکو نے افغان وفد اور طالبان کے نمائندوں کے مابین ایک علاحدہ اجلاس بھی منعقد کرایا تھا۔ روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ دونوں فریق انٹرا افغان مذاکراتی عمل کو وسیع کرنے کے حق میں بات کرتے ہیں۔ بدلتی عالمی صورت حال میں روس اور پاکستان کے تعلقات خصوصی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور کاروباری تعلقات کے ساتھ اہم دفاعی اور تزویراتی تعلقات بھی آگے بڑھ رہے ہیں۔ روسی وزیر خارجہ کے دورۂ پاکستان کی اہمیت یہ بھی ہے کہ وہ بھارت سے ہوتے ہوئے آرہے ہیں۔ اس خطے اور عالمی سیاست میں تبدیلی کا اہم سبب افغانستان کا مستقبل بھی ہے۔ افغانستان کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے ماسکو میں 18 مارچ کو ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس کے مشترکہ اعلامیے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ افغانستان کا حل مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ افغان مذاکرات کے مشترکہ اعلامیے پر زور دینے کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ امریکہ معاہدے کے مطابق یکم مئی سے اپنی فوجوں کے مکمل انخلا کے وعدے پر عمل کرے۔ جوبائیڈن نے صدر بننے کے بعد اس بات کا اعلان کردیا ہے کہ افغانستان سے فوجوں کے مکمل انخلا کی حتمی تاریخ کی پابندی ممکن نہیں ہے۔ اس اعلان کی وجہ سے خطے کے حالات پے چیدہ ہو رہے ہیں اور افغانستان میں بدامنی کے خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ بات بھی اہمیت رکھتی ہے کہ ماسکو نے افغان کانفرنس میں بھارت کو مدعو نہیں کیا، جب کہ روس کے بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ بھارت کو اجلاس میں مدعو نہ کرنے کا فیصلہ اس امر کے باوجود ہے کہ امریکہ بھارت کو افغانستان میں خصوصی کردار دینا چاہتا ہے۔ امریکہ نے افغانستان کے مستقبل کے بارے میں ترکی میں منعقد ہونے والی کانفرنس میں جن ممالک کے نام دیے ہیں ان میں بھارت بھی شامل ہے۔ امریکہ بھارت اور ترکی دونوں پر دبائو ڈال رہا ہے کہ وہ روس سے دفاعی سازو سامان نہ خریدیں۔ روس کی حکومت نے نگورنو کاراباخ کے مسئلے پر آرمینیا اور آذر بائیجان کے درمیان جنگ کے دوران میں بھی متوازی پالیسی اختیار کی۔ اس جنگ میں ترکی اور پاکستان کی مدد آذربائیجان کو حاصل رہی۔ عالمی اور خطے کی سیاست کے پس منظر میں روس اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں پیش رفت ہو رہی ہے۔ کافی عرصے سے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کا دورۂ پاکستان بھی زیر غور ہے۔ ان کا دورۂ پاکستان مختلف وجوہ سے زیر التوا ہے۔ اہل پاکستان روسی صدر کے دورۂ پاکستان کے منتظر ہیں۔ روسی وزیر خارجہ نے پاکستانی اخبار کو ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ دونوں ممالک عالمی اور علاقائی ایجنڈے کے حوالے سے یکساں اپروچ رکھتے ہیں۔ ایسے ایشوز میں تزویراتی استحکام اور افغانستان کا معاملہ بھی شامل ہے۔ اقوام متحدہ کے 75 ویں اجلاس میں پاکستان نے ان تمام قراردادوں کی حمایت کی جو روس کی تیار کردہ تھیں اور دونوں نے مل کر انہیں اسپانسر کیا۔ روس پاکستان کے ساتھ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے انٹیلی جنس ایجنسیوں کی معاونت کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔