برطرفی کا نوٹس معطل اور مقدمے کی جلد سماعت کی جائے‘ جسٹس شوکت صدیقی

120

اسلام آباد (صباح نیوز) اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اپنی برطرفی کا نوٹیفکیشن معطل کرنے کی استدعا کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ میں اپنے کیس کی جلد سماعت کے لیے درخواست دائر کر دی ہے۔ اپنے وکیل احمد نواز چودھری کے توسط سے دائر درخواست میں موقف اپنایا ہے کہ وہ 30 جون 2021ء کو ریٹائر ہو جائیں گے اس لیے انصاف کا تقاضا ہے کہ صدر کی جانب سے ان کی معطلی کے لیے جاری نوٹیفکیشن معطل کرنے کا حکم دیا جائے۔ 4 صفحات پر مشتمل درخواست میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا ہے کہ عدالت عظمیٰ میں ان کی درخواست 2018ء سے زیرالتوا ہے۔ درخواست میں سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارشات اور اس کے نتیجے میں صدر مملکت کی جانب سے 11اکتوبر 2018ء کو وزارت قانون و انصاف کی طرف سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کو چیلنج کیا گیا ہے۔ درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کو غیرقانونی اور غیرآئینی طریقے سے ہٹایا گیا اور انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔ درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ شوکت عزیز صدیقی کو آئین کے آرٹیکل 10 کے تحت فیئر ٹرائل کا موقع نہ دے کر قانونی عمل کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ شوکت عزیز صدیقی نے موقف اپنایا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی طرف سے جو رپورٹ صدر مملکت کو بھجوائی گئی وہ متعصبانہ تھی۔اسی طرح صدر مملکت کی طرف سے 11اکتوبر 2018ء کو جاری کیا گیا حکم صدر نے اپنا مائنڈ اپلائی کر کے جاری نہیں کیا جس سے شوکت عزیز صدیقی کے حقوق متاثر ہوئے۔ درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ 2018ء سے میرے مقدمے کی مناسب سماعت نہیں ہو سکی صرف جنوری 2018ء میں 2 سال بعد نوٹس جاری کیے گئے۔ معاملہ نامعلوم وجوہات کی بنا پر تاخیر کا شکار ہوا۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے موقف اپنایا ہے کہ درخواست گزار عہدے سے ہٹائے جانے کے بعدسے ا بھی تک بے روزگار ہے۔ درخواست گزار کے دیگر سیکڑوں شہریوں کی طرح بنیادی حقوق آئین میں دیے گئے ہیں۔ شوکت عزیز صدیقی نے موقف اپنایا کہ یہ عالمی طور پر تسلیم شدہ اصول ہے کہ تاخیر سے انصاف، انصاف سے انکار کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ سابق چیف جسٹس کو ہٹائے جانے کے حوالے سے پٹیشن نمبر 21/2007 میں عدالت نے قرار دیا ہے کہ کسی بھی معاملے کے التوا کے لیے کوئی ٹھوس وجوہات ہونی چاہئیں۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا ہے کہ مقدمے کے فریقین کے خلاف ان کا کیس ٹھوس وجوہات رکھتا ہے اس لیے کیس کو جلد سماعت کے لیے مقرر کیا جائے تاکہ درخواست گزار کی داد رسی ہو سکے۔