مشترکہ مفادات کونسل:مردم شماری کے نتائج جاری کرنے پر اتفاق نہ ہوسکا‘سندھ کا دوبارہ کرانے کا مطالبہ

84

اسلام آباد (نمائندہ جسارت+مانیٹرنگ ڈیسک) مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں مردم شماری کے نتائج جاری کرنے پر اتفاق نہ ہوسکا اور حتمی فیصلہ پیر تک مؤخر کردیا گیا جبکہ سندھ نے مردم شماری دوبارہ کرانے کا مطالبہ کیا ہے ۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم کی زیرصدار ت بدھ کو مشترکہ مفادات کونسل کا 44واں اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا ۔ 4گھنٹے جاری رہنے والے اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ سمیت وفاقی وزرا اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں آئین کے آرٹیکل154(3)کے تحت مشترکہ مفادات کونسل کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کا فیصلہ کیا گیا،یہ پہلا موقع ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل کا مستقل سیکرٹریٹ قائم کیا جارہا ہے تاکہ طویل عرصے سے درکار آئینی ضرورت کو پورا کیا جاسکے۔اجلاس میں نیپرا کی سالانہ رپورٹ برائے سال 2019-20ء اور اسٹیٹ آف انڈسٹری رپورٹ2020ء کی منظوری دیدی گئی۔کونسل نے پیٹرولیم (تلاش و پیداوار) پالیسی2012ء کی منظوری دیدی۔ اجلاس میں سی سی آئی کے گزشتہ فیصلوں پر عملدرآمد سے متعلق رپورٹ بھی پیش کی گئی۔ 2017ء کے مردم شماری نتائج کے حوالے سے فیصلہ کیا گیا کہ اس معاملے پر حتمی فیصلے کے لیے پیر کو ورچوئل اجلاس منعقد ہوگا۔اجلاس میں مردم شماری کے نتائج جاری کرنے کے معاملے پر تفصیلی بات ہوئی۔ پنجاب اور خیبر پختونخوا کا مردم شماری کے نتائج جاری کرنے، جبکہ وزیراعلیٰ سندھ نے مردم شماری کے نتائج جاری کرنے کے معاملے کو نئی مردم شماری سے جوڑنے کا مطالبہ کیا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کی جانب سے مردم شماری کے نتائج سے متعلق وقت مانگنے پرمشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس پیرکو دوبارہ طلب کر لیا گیا ہے۔مشترکہ مفادات کونسل اجلاس میں نیپرا کی جانب سے بتایا گیا کہ سندھ میں لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لیے صوبے کو 3800 میگاواٹ اضافی بجلی دی جائے گی۔ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر بلوچستان میں بجلی کی ایک اور تقسیم کار کمپنی قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔مائع قدری گیس( ایل این جی) کی درآمد اور آئین کے آرٹیکل158اور 172(3)پر عملدرآمد کے معاملے پر وفاقی وزیر منصوبہ بندی،وزیر توانائی اور بجلی وپیٹرولیم کے معاون خصوصی پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا۔کمیٹی صوبوں کے ساتھ مشاورت کرے گی تاکہ مقامی گیس کے ذخائر میں کمی اور ملکی سطح پر گیس ضروریات میں اضافے کے حوالے سے درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اتفاق رائے پیدا کیا جاسکے۔مشترکہ مفادات کونسل نے درآمد شدہ ایل این جی کی قیمت طے کرنے سے متعلق تجویز کی منظوری دی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے معاملات، صوبائی فوڈ اتھارٹیز اور پی ایس کیو سی اے کے کو بھی وفاق ہی طے کرے گا۔ اجلاس کے دوران یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن(ایچ ای سی)ملک میں اعلیٰ تعلیم کے حوالے سے واحد معیاری قومی ادارہ ہوگا۔ملک بھر میں کاروبار کو سہل اور کوالٹی ومعیارات کو ہم آہنگ بنانے کے حوالے سے فیصلہ کیا گیا کہ صوبے پاکستان اسٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کی طرف سے طے کردہ ہم آہنگ معیارات کو نوٹیفائی کریں گے اور اپنے قائم کردہ معیارات کو تحلیل کردیں گے۔ صوبوں اور وفاقی علاقوں میں 25ویں آئینی ترمیم کے تناظر میں زکوٰۃ فنڈ کی تقسیم کے معاملے پر اجلاس میں زکوٰۃ تقسیم فنڈ فارمولے پر اتفاق کیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کے بعد علاقے کے لیے زکوٰۃ فنڈ طے شدہ فارمولے کے تحت خیبرپختونخوا صوبے کو منتقل کیا جائے گا تاکہ ضم شدہ اضلاع کے مستحق عوام میں تقسیم کیا جاسکے۔